تازہ ترین

وار پورہ سوپور میں شبانہ معرکہ| 2 جنگجو جاں بحق

ایک رہائشی مکان تباہ ، سوپور میں انٹر نیٹ خدمات معطل ، مہلوک کمانڈر انتہائی مطلوب تھا :پولیس

تاریخ    24 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


غلام محمد
سوپور// وار پورہ سوپور میں مسلح تصادم آرائی کے دوران لشکر طیبہ کا مقامی جنگجو کمانڈر اپنے بڈگام کے ساتھی سمیت جاں بحق ہوا۔تصادم آرائی میں ایک رہائشی مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوا جبکہ ایک نزدیکی مکان کو جزوی نقصان پہنچا۔جھڑ پ کے ساتھ ہی سوپور ائریا میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کردی گئیں ۔پولیس کے مطابق جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد 22آر آر ، سی آر پی ایف 92,177 اور179بٹالین اور جموں کشمیر پولیس نے مشتر کہ طور پر وار پورہ گائوں کو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب محاصرے لیا اور تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کم سے کم دو جنگجوئوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد دونوں جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کا بھر پور موقعہ فراہم کیا گیا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔رات کے دوران ہی جب جنگجوئوں نے جواب میں گولیاں چلائیں تو مسلح تصادم آرائی کا آغاز ہوا جو صبح تک جاری رہا جس کے دوران دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے پوری گائوں کی ناکہ بندی کی اور روشنیوں کا انتظام کیا تاکہ جنگجوئوں کے فرار ہونے کے راستے سیل کئے جائیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک رہائشی مکان، جس میں جنگجو موجود تھے ،پر مارٹر شلنگ کی گئی جس سے وہ زمین بوس ہوا جس کے ملبے سے بعد میں دو لاشیں بر آمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق مذکورہ رہائشی مکان ایک فوجی اہلکار ارشاد احمد وانی کا تھا۔کشمیر زون پولیس نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سوپور میں لشکر طیبہ کے دو عسکریت پسندوں کو سیکورٹی فورسز نے ہلاک کیا ۔پولیس نے جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجوئوں کی شناخت لشکر کمانڈر فیاض احمد وار عرف عمر ولد غلام محی الدین وار ساکن وار پورہ سوپور اور شاہین احمد میر عرف شاہین مولوی ولد محمد کمال میر ساکن چھر پورہ بڈگام کے بطور کی ہے اور دونوں لشکر سے وابستہ تھے ۔ پولیس نے کہا ہے کہ فیاض احمد وار 2008سے سرگرم تھا۔اسکے کئی سال بعد اس نے اسلحہ سمیت سیکورٹیفورسز کے سامنے سرینڈر کیا اور جیہل میں رہنے کے بعد جب یہ رہا ہوا تو اس نے دوبارہ جنگجوئوں کیساتھ کام کرنا شروع کیا جس کے بعد اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا اور اس پر سیفٹی ایکٹ لگا کر جیل بھیج دیا گیا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق جیل سے رہا ہونے کے بعد مارچ 2020  میں اس نے پھر سے ہتھیار اٹھائے اور لشکر میں شامل ہوا۔دونوں مہلوک جنگجوئوں کی تحویل سے دو رائفلیں اور دیگر مواد بر آمد کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ فیاض اور اسکا ساتھی عام شہروں اور متعدد حملوں میں ملوث تھے۔
 

 بارود سے لیس ہیکسا کاپٹراکھنو میں مار گرایا گیا

۔5کلومواد ضبط

نیوز ڈیسک
 
جموں //جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جموں کے مضافاتی علاقہ کاناچک میں بین الاقوامی سرحد کے نزدیک ایک ڈرون پایا ۔ ایک بجے کے قریب ڈرون کو زمین پر گرا ہوا پایا گیا جس کیساتھ5کلو وزنی بارودی مواد بندھا ہوا تھا جو ایک پیکٹ کی شل میں تھا۔ اطلاع ملنے پر پولیس تھانہ کاناچک کی ایک ٹیم گراہ پٹن نامی گائوں میں پہنچی جہاں اس نے ڈرون اور ایک پیکٹ دیکھا جس میں آئی ای ڈی رکھی گئی تھی۔پولیس نے اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی ہے ۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس مکیش سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تقریباً گزشتہ 15ماہ کے دوران 16اے کے رائفل،3M4،15ہتھ گولے18سرنگیںاور4لاکھ نقدی برآمد کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مخصوص ان پٹس کی بنیاد پر اکھنور کے قریب ٹیم تعینات کی گئی تھی جس کے بعد ایک ڈرون کا سراغ لگا۔ انہوں نے کہا ، " پولیس ٹیم نے اس پر فائرنگ کی اور مار گرایا۔  بعد میں ایک پانچ کلو وزن کی بارودی سرنگ کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ"یہ ایک ہیکساکاپٹر تھا جس میں فلائٹ کنٹرولر اور جی پی ایس تھا۔