تازہ ترین

کورونا کی ممنکہ تیسری لہر

اثرات کو کم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں: اتل ڈولو

تاریخ    21 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


سری نگر//اَیڈیشنل چیف سیکریٹری صحت و طبی تعلیم اَتل ڈولونے سول سیکرٹریٹ میں ’’ کووِڈ۔19 ایمرجنسی ریسپانس اینڈ ہیلتھ سسٹم پریپریڈینس پیکیج مرحلہ دوم‘‘ کو حتمی شکل دینے کے لئے سٹیٹ ہیلتھ سوسائٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔جموںوکشمیر کے مشن ڈائریکٹر قومی صحت مشن ( این ایچ ایم ) ، پرنسپل جی ایم سی سری نگر ، پرنسپل جی ایم سی جموں ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے میڈیکل سپلائی کارپوریشن ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر،  اننت ناگ ، بارہمولہ ، ڈوڈہ،راجوری اورکٹھوعہ کے نئے قائم میڈیکل کالجوںکے پرنسپل صاحبان، ، تمام اَضلاع کے سی ایم اوز ، تمام ضلعی ہسپتالوں کے میڈیکل سپر اِنٹنڈنٹ اور دیگر متعلقہ اَفسران نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔دورانِ میٹنگ ایڈیشنل سیکرٹری اَتل ڈولونے اَفسران پر زوردیا کہ وہ اَپنی کوششوں کو جاری رکھیں اور کووِڈ۔19 کے تیسرے ممکنہ اثر کو کم کرنے کے لئے تمام موجودہ وسائل بروئے کار لائیں۔اُنہوںنے اَفسران کو ہدایت دی کہ ایمرجنسی کووِڈ ریسپانس پیکیج( ای سی آر پی ) کے تحت وسائل کو مؤثر طریقے سے اِستعمال کریں تاکہ جموں وکشمیر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ صلاحیتوں کے لئے نئی شکل دی جاسکے۔اَتل ڈولو نے پیڈیاٹرک ہیلتھ کیئر کو اَپ گریڈ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے اَفسران پر زور دیا کہ پیڈیاٹر ک آئی سی یوز ، میٹرنٹی آئی سی یوز اور ہائبرڈ و ار ڈوں کو جلداز جلد تمام ضلع ہسپتالوں میں فعال بنایا جائے۔اُنہوں نے مزیدنئے قائم کردہ میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں سے کہا کہ نیو ناٹل اِنٹنسیو کیئر یونٹ ( این آئی سی یو اور پیڈیاٹرک انٹنسیو کیئر یونٹ ( پی آئی سی یو ) کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ عام لوگوں کو بچوں کی بہتر دیکھ ریکھ اورسہولیات فراہم کی جائیں۔اَتل ڈولو نے اَفسران کو ہدایت دی کہ پانچ ضلعی ہسپتالوں میں نئی آر ٹی پی سی آر ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو جلد از جلد فعال بنایا جائے تاکہ جموں وکشمیر میں جانچ کی فریکوینسی کو بڑھایا جائے ۔اُنہوں نے اَفسران سے مزید کہا کہ جی ایم سی سری نگر اور جی ایم سی جموں کے ڈی این اے سیکوینسر کے حصول کے لئے تمام ممکنہ رسائوں کو جلداز جلد مکمل کیا جانا چاہئے تاکہ یہاںکووِڈردِّعمل کے لئے جدید اور اپ گریڈ سہولیات کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔