عیدالضحیٰ کے موقع پر بازاروں میں گہماگہمی

مہنگائی عروج پر، کورونا مخالف قوائد و ضوابط کا نام و نشان نہیں

تاریخ    21 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //عیدالضحیٰ سے ایک دن قبل سرینگر اور اسکے گردنواح کے بازاروں میں کافی گہماگہمی دیکھنے کو ملی تاہم اس گہماگہمی کے دوران کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر عمل آواری کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور  لوگ عالمی وباء کو بھول چکے تھے۔ سرینگر کے لال چوک، ڈلگیٹ، بٹہ مالو ، مائسمہ، خانیار، جامع مسجد ، نوہٹہ ، صورہ اور دیگر علاقوں میں لوگوں کی بھاری بھیڑ خرید و فروخت میں مصروف تھیں ۔ سرینگر کے نوہٹہ علاقے میں خریدو فروخت کرنے والے ایک صارف محمد صدیق  نے بتایا ،’’ضروری سامان کی قیمتوں پر روک نہیں، ہر گزرتے دن مہنگائی میں اضافہ اور لاک ڈائون کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات کی وجہ سے لوگوں کی خریداری کی قوت ختم ہوچکی ہے ‘‘۔محمد صدیق نے بتایا ’’ سبزیوں، بیکری اور دیگر ضروری سامان کی  قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کا کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔محمد صدیق نے بتایا کہ ان چیزوں کی خریدری کیلئے بازاروں میں بھیڑ جمع ہورہی ہے لیکن نہ تو خود قوائد و ضوابط پر عمل کررہے ہیں ، نہ سرکار کی جانب سے لوگوں کو قوائد و ضوابط پر عمل کرانے کیلئے کوئی انتظام کیا گیا ہے۔ محمد صدیق نے بتایا کہ عام دنوں میں جب لوگ کافی کم تعداد میں بازار میں موجود ہوتے ہیں تو پولیس اور محکمہ مال کے افسران ماسک نہ پہننے اور قوائد و ضوابط پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں چالان کا ٹتے ہیں لیکن عید الضحیٰ سے قبل کسی بھی جگہ ماسک نہ پہننے پرکسی کا چالان نہیں کیا گیا ‘‘۔لوگ خانیار میں خرید و فروخت میںمصروف کورونا وائرس سے بے خبر دکھائی دے رہے تھے۔ خانیار میں خریداری میں مصروف ایک نوجوان بشارت نے بتایا ’’ عام دنوں میں گاڑی میں بھی بغیر ماسک کے چالان کیا جاتا تھا لیکن آج کہیں کسی پر کوئی روک نہیں اور نہ کہیں چالان کیا جارہا ہے اور ہر کوئی بغیر ماسک کے ہیں۔ بشارت نے کہا کہ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ یہ جان لیوا ہوسکتا ہے مگر پھر بھی قوائد و ضوابط پر کوئی عمل نہیں کرتا ۔عالمی وباء کے دوران سرکاری انتظامات میں کورونا مخالف ایس او پیز پر عمل کرانے کیلئے خصوصی ٹیمیں بازاروں میں موجود ہونی چاہئے تھی تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ بشارت نے بتایا کہ عیدالضحیٰ کے موقع پر حکام نے بھی کورونا مخالف قوائد و ضوابط کو نظر انداز کیا اور عام لوگوں نے کہیں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر وادی میں ابتک 2232افراد کورونا وائرس سے فوت ہوئے ہیں جبکہ 2لاکھ کے قریب افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ 
 

تازہ ترین