غزلیات

تاریخ    18 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


 تم کتنے پانیوں میں ہو سوچا کرو کبھی
 خاموشیوں کے شہر میں جایا کرو کبھی
ہو مخملی سی رات تو جاگا کرو کبھی 
اور خاروخس کی سیج پہ سویا کرو کبھی
 لگ جائے آپ کو نہ کہیں اپنی ہی نظر
تم آئینے کو ایسے نہ دیکھا کرو کبھی 
ایسا نہ ہو کہ اپنا پتہ ڈھونڈتے پھرو
 تم اپنے پاس خود کو بھی رکھا کرو کبھی
 آلائشوں سے پاک بدن کی ہو جستجو
پھرآنسؤوں سے قلب کو دھویا کرو کبھی 
ہر بار جیتنے کا جنوں چھوڑ دو میاں
تم ہار جاؤ ایسا بھی کھیلا کرو کبھی
بسملؔ بہت ہی دیکھ لئے تم نے پارسا
زناریوں کے پاس بھی بیٹھا کرو کبھی
 
خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی راجوری
موبائل نمبر؛9622045323
 
 
جب بھی خوابوں میں لایا غزل ہو گئی
اُ ن کے با ر ے میں سوچا غزل ہوگئی
شب کی پلکو ں پہ تا ر ے تڑ پتے ر ہے
چاند چھت پہ جو آیا غز ل ہو گئی
علم و عر فا ں کا گہرا سمندر ہے و ہ
درس اُس سے جو سیکھا غزل ہو گئی
کتنے الفاظ ترسا کئے دید کو
رُو برو اُن کو پا یا غز ل ہو گئی
بن کے خامہ  جوحاصل ہوئیں قربتیں
اُن کے ہا تھوں کو چُوما غزل ہو گئی
دشت و صحرا میں بھٹکا کئے دیر تک
اُن کا دا من جو تھا ما غز ل ہو گئی
مُنتشر سب خیا لات یکجا ہو ئے
نام اُن کا جو جوڑا غزل ہوگئی
تیر گی چا ٹتی تھی بدن ر ا ت بھر
صُبح دم اُن کو دیکھا غزل ہوگئی 
گیسوئے فکر میں سب تھے اُلجھے ہوئے
ہم نے اُٹھ کر سنو ارا غز ل ہوگئی
فکر میں جس کے ڈوبے تھے قلب و جگر
جب وہ دل میں سمایا غز ل ہو گئی
اُس کے آ تے چر ا غو ں میں لَو آ گئی
رُخ سے پرد ہ اُٹھا یا غزل ہو گئی
 
پرویز مانوس 
نٹی پورہ سرینگر ،موبائل نمبر؛9622937142

 

 
’’شہر سنسان ہے،کدھر جائیں‘‘
 یار حیران ہے،کدھر جائیں
اب لگاتے نہیں گلے وہ بھی
جن سے پہچان ہے، کدھر جائیں
بیٹھ کر اب کہاں کریں باتیں
باغ ویران ہے، کدھر جائیں
آ چُکے ہیں وہاں،جہاں آگے
کھیت کھلیان ہے،کدھر جائیں
ٹھہر جائو منیؔ یہاں پر ہی 
رستہ انجان ہے،کدھر جائیں
 
ہریش کمار منیؔ بھدرواہی
بھدرواہ، جموں کشمیر ،موبائل نمبر؛959688843
 
 
جس طرح ملتا تھا ہم سے اُس طرح ملتا نہیں
وہ جو گزرا ہے اِدھر سے اِس طرف دیکھا نہیں
جس کی خاطر ہم نے چھوڑا تھا لڑکپن کا سفر
مڑ کے دیکھا غور سے جب، وہ بھی اپنا تھا نہیں
سازِ ہستی کی صدا ہے غور سے سن لیں میاں
ہوش والوں کی نظر میں یہ کہیں ملتا نہیں
آپ نے تو مجھ سے پوچھا کیا ہوا ہے تیرا دل
دل کے اندر آج تک تو نے کبھی جھانکا نہیں
دیکھنا ہے کس کی جانب رخ ہوا موڑے گی اب
دیکھنا ہے کس کا آخر تک دیا بجھتا نہیں
بات ہم نے آج کر دی مے کشی کی شیخ سے
جام کی جب بات آئی پھر تو کچھ دیکھا نہیں
آج ساگر ؔسے ہوا ہے وہ جدا پر اس طرح
دل گلی میں ہم نے ڈھونڈا پر وہاں وہ تھا نہیں
 
ساگر سلام
کوکرناگ،اننت ناگ
موبائل نمبر؛6006829932
 
 
کیا خوب زمانہ چل رہا ہے
عشق میں دیوانہ چل رہا ہے
 
موسم خراب اور تیز ہے آندھی 
وہ مثلِ پروانہ چل رہا ہے 
 
ساقی تو سب گھر چلے گئے ہیں
مگر یہ میخانہ چل رہا ہے
 
عشق تو تجھے جو ہے اس سے ناصرؔ
تو پھر کیوں بیگانہ چل رہا ہے
 
ناصر روشن خان
طالب علم
nasirroshank@gmail.com
 

تازہ ترین