معاشرے یونہی تبدیل نہیں ہوتے

حرف حق

تاریخ    19 جون 2021 (00 : 01 AM)   


امتیاز خان
انسان نے یقیناہر دور میں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظر آتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دئے اور گردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب انہوں نے اجتماعی طور پر فطرت کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا۔ 
کوئی بھی معاشرہ مکمل جامد تو کبھی نہیں ہوتا۔ کچھ نہ کچھ بدلتارہتا ہے۔ یہ عمل بالعموم غیر محسوس نوعیت کا ہوتا ہے۔ اندر ہی اندر بہت کچھ بدل چکاہوتا ہے تب کسی بڑی تبدیلی کا دیدار ہوتا ہے اور ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی معاملہ اپنی اصل میں حیرت انگیز نہیں۔ اگر ہم معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں اور دیکھنے والی نظر پیدا کریں تو بہت کچھ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی بھی دیتا ہے اور محسوس بھی کیا جاسکتا ہے۔ کشمیری معاشرہ بھی تبدیلیوں کے مختلف مراحل سے گزر رہا ہے۔ ہمیں زیریں سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا زیادہ اندازہ اسلئے نہیں ہو پارہا ہے کہ ہم اول تو دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں اور اگر کچھ دکھائی دے بھی تو اْسے سمجھنے اور مطابقت رکھنے والی فکر و عمل اختیار کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتے ہیں۔
معاشرے یونہی تبدیل نہیں ہوتے۔ بہت دیکھنا، سمجھنا، سوچنا اور پھر اْس کے مطابق عمل کرنا پڑتا ہے۔ آج کے انتہائی ترقی یافتہ معاشروں نے بھی شعوری سطح پر فیصلے کرکے خود کو بدلنے کی کوشش کی تو بات بنی۔ ہمارے ہاں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ کہیں سے کوئی آئے گا اور ہمارے تمام معاملات کو بدل کر ہمیں بہتر زندگی کی طرف جانے کی پوزیشن میں لے آئے گا۔ اس سادہ مزاجی نے ہمیں برباد کیا ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم خود کو اور ماحول کو بدلنے کیلئے شعوری سطح پر متحرک ہوں،صحیح سوچیں اور عمل کی راہ پر اس طرح گامزن ہوں تاکہ جینا بامقصد ٹھہرے۔
وقت اپنے اثرات چھوڑتا جاتا ہے۔ حالات و واقعات سے کوئی چیز محفوظ رہتی ہے نہ کوئی فرد۔ہمارا معاشرہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ دو ڈھائی عشروں کے دوران بہت کچھ بدلا ہے۔ یہ تبدیلی انفرادی سطح پر بھی ہے اور اجتماعی سطح پر بھی۔ ہماری زندگی میں بہت کچھ غیر محسوس طور پر در آیا ہے۔ آج ایک المیہ یہ ہے کہ ہمارا اپنا وقت بھی ہمارا نہیں۔ اگر فراغت کے چند لمحات کسی طور میسر ہو بھی جائیں تو ہم خود اْنہیں غیر متعلق سرگرمیوں میں ضائع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر پاتے۔ یہ بے بسی پہلے کبھی انسان کا مقدر نہیں بنی تھی۔ زندگی الجھنوں سے عبارت رہی ہے۔ انسان اور مسائل کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے مگر ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا کہ انسان کا اپنے وجود اور وقت ہی پر اختیار نہ رہے۔ آج کا انسان بہت سے معاملات میں انتہائی درجے کی بے بسی کا مرقع ہے۔
ہم میںمجموعی طور پر کون سے اخلاق و اطوار باقی ہیں؟ کونسا کردار پایا جاتا ہے؟ جواب…یقینا کوئی نہیں ،مگر اس کے برعکس آج وہ کونسی اخلاقی خرابیاں ہیں جو ہم میں، ہمارے معاشرہ میں اجتماعی طور پرموجود نہیں ؟ وہ کونسے غلط اطوار ہیں جو ہم میں نہیں پائے جاتے؟ وہ کونسی بد خلقیات ہیں جن کی ہم میں کثرت نہیں؟ ظلم و زیادتی، فساد،حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی کیا ہمارا اجتماعی فعل نہیں ؟ منشیات کے بازار، جوا ، چوری، رشوت خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ،خوشامد، دوغلاپن، حرص، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کون سا اخلاقی مرض ہے جو ہم میں نہیں پایا جاتا؟ بد عنوانی و کرپشن اور خود غرضی کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی، فریب اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی قسم ہے جو ہمارے معاشرہ میں زوروں پر نہیں؟ تعصب اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہرے ہیں جو ہمارے معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ ان سوالات کا جواب یقینا ہاں میں ملے گا۔یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ برا ہے ہمارے معاشرہ میں مگر پھر بھی ہم مسلمان کہلوانے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے۔ اچھے مسلمان تو بہت دور کی بات ہم تو اچھے انسان بھی نہیں۔یہ بات ہمیں ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ جب قوموں میں بد عملی، بد خلقی، غفلت اور بے راہ روی اجتماعی طور پر گھر کر جاتی ہے تو تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
موجودہ دور پر نظر دوڑائیں توہر طرف تقریریں ہو رہی ہیں، وعظ و نصیحت کا تسلسل جاری ہے، علماء امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں مشغول نظر آتے ہیں، مگر اس کے باوجود امت صلاح و فلاح کے راستے طے کرنے اور عروج و ترقی سے ہمکنار ہونے کے بجائے ذلت و پستی اور ناکامی و نامرادی کی طرف بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایک وہ دن تھا جب وعظ و نصیحت خواب غفلت سے بیدار کرنے کا سامان ہوا کرتی تھی، علماء و صلحا کی رہنمائی عوام کے دلوں میں نئی امید جگاتی تھی اور ایک یہ دن ہے جب بیان و تقریر کی حیثیت زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں، تقریروں میں وہ روح باقی نہیں جو امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو متحد کر سکے ، وعظ و نصیحت نہ تو زبان دل سے کی جاتی ہیں اور نہ ہی گوش دل سے سنی جاتی ہیں۔
مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں ’’محض خطبات سے، دو چار اچھی تصنیفات سے، قلم کی روانی سے، خیالات کے سلجھاؤ سے، کسی نادر علمی تحقیق سے، محض کسی نئے طرز میں کسی پرانے خیال کو یا نئے جام میں کسی شرابِ کہن کو پیش کرنے سے زمانہ میں کوئی نیا انقلاب اور انقلاب تو بڑی چیز ہے کوئی معمولی تبدیلی بھی پیدا نہیں ہو سکتی۔اس زمانے میں ضرورت ہے کردار کی، قلب کی دردمندی اور اندرونی سوز کی، ایک ایسی حرارت کی جو اندر اندر جلا رہی ہو، اعصاب کو پگھلا رہی ہو اور پھر یہ لاوا پھوٹ کر کسی آتش فشاں کی طرح بڑھ رہا ہو اور اس کی تپش اور سوزش سینکڑوں اورہزاروں دلوں کو گرما رہی ہو‘‘۔(بحوالہ پاجا سراغ زندگی) 
کوئی بھی معاشرہ حقیقی تبدیلیوں سے اْسی وقت ہم کنار ہوتا ہے جب شعوری سطح پر کچھ کیا جائے۔انفرادی سطح پر کی جانے والی کاوشیں بھی رنگ لاتی ہیں مگر اْنہیں اپنے اثرات کا جلوہ دکھانے کیلئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔غیر معمولی شخصیت بننے کیلئے آپ کی سوچ غیر معمولی ہونی چاہئے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی کی ابتدا بھی ایک سوچ سے ہوئی ہے۔ غاروں کے دَور سے آج تک کی تمام ترقی صرف انسان کی سوچ اور غورو فکر کا نتیجہ ہے۔ انسان نے ابتدا سے ہی زندگی کو باسہولت بنانے کیلئے سوچنا شروع کیا اور آج اس سوچ کی وجہ سے بجلی، ٹیلی فون، ہوائی جہاز، کمپیوٹراور موبائل فون جیسی سہولیات میسر ہیں۔عظیم لوگوں کو منفرد بنانے والی طاقت کا نام ان کی سوچ ہے۔ ایک سوچ کی اپنی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ ہر شخص کی ایک ہی واقعے کے حوالے سے سوچ مختلف ہوتی ہے لیکن ہر سوچ ایک حقیقت کو جنم دیتی ہے۔ آپ کے تمام حالات آپ کی سوچ کے مرہونِ منت ہیں کیونکہ آپ جیسا سوچتے ہیں ویسا بن جاتے ہیں۔ جو شخص کامیابی اور خوشحالی کا نہیں سوچتا، وہ اسے حاصل بھی نہیں کر سکتا۔ سوچ پانی کے بہاؤ کی مانند ہے۔ جب یہ بہاؤ متواتر ایک پتھر پر پڑتا رہے تو سخت پتھر بھی کٹ جاتا ہے اور اسے راستہ فراہم کر دیتا ہے۔ ہمارے حالات ہمارا انتخاب نہیں لیکن ہم اپنے خیالات کو ضرور منتخب کرسکتے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہم اپنے خیالات کو بدل کر اپنے حالات بدل سکتے ہیں۔ اقوام عالم کے بدلتے تناظر کے حالات میں دیکھ لیں جن قوموں نے وقت اور حالات کے مظابق خود کو تیار رکھا وہی اقوام ترقی و خوشحالی کی ضامن بن کر ترقی کے خواہشمند معاشروں کے لئے ایک بہترین مثال کے طور پر موجود ہیں اور جس قوم نے دنیا میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر نہ رکھتے ہوئے خود کو تیار نہیںکیا تو مؤرخ ایسی اقوام کو پستیوں سے دوچار کرتا نظر آتا ہے۔
 

تازہ ترین