تازہ ترین

آہ !مفتی فیض الوحید قاسمی رحمہ اللہ!

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

تاریخ    11 جون 2021 (00 : 01 AM)   


شہزاد انوری
کووڈ19کی دوسری لہر نے پورے ملک میں کہرام مچا رکھا ہے۔ ہر دن کسی نہ کسی بڑی شخصیت کے انتقال سے دل ودماغ مغموم و محزون ہے۔ واٹس ایپ اور اخبار کھولتے ہوئے ایک ڈرسا لگا رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیا خبر آئے گی اور کس کی موت کی خبر چھپی ہوگی،بالخصوص آج کل ہمارے اکابر ین کا اس تیزی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاناہم سب کے لیے بہت ہی صدمہ کی بات ہے۔ آخر ہم پر یہ کیسا زمانہ آگیا کہ ہم ایک حادثہ ابھی بھول نہیں پاتے کہ دوسرا حادثہ پیش آجاتاہے ، ایک زخم مندمل نہیں ہوپاتا کہ دوسرا زخم لگ جاتا ہے۔ اپنے بزرگوں ،دوستوں اور عزیزوں کی فرقت پراتنا زیادہ رونا دھوناہوچکا ہے کہ اب آنکھیں بھی خشک ہو چکی ہیں۔ اتنے صدمے جھیلے جاچکے ہیں کہ اب دلوں میں مزید سکت باقی نہیں ہے۔ملک بھر میں اورجموں وکشمیر میں ہورہے سلسلہ اموات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے یہ عام الحزن ، اور عام الاموات تو نہیں۔ یا اللہ!ہم کمزوردلوں اورکم ہمتوں پر رحم فرمااور اکابر ین کی وفاتوں کا سلسلہ روک دے ۔ آمین
ہائے افسوس! یکم جون سن دو ہزار اکیس کا دن غیرمندمل زخم دے کر مسلمانانِ جموں وکشمیر کو علمی طور پر یتیم کرگیا۔ دنیوی سورج طلوع ہوا مگرایک عظیم علمی روحانی سورج جموں کے بترا ہسپتال میں غروب ہوگیا۔ کیالکھوں کیسے لکھوں ہمارا علاقہ یتیم ہورہا ہے۔یوں تو گزشتہ ڈیڑھ سال سے علماء کرام نے جس تیزی کے ساتھ جنت کا رخ کیا ہے، اسے دیکھ کر یہ صاف محسوس ہورہا ہے کہ علم اٹھ رہا ہے اور قیامت کی آمد آمد ہے۔
عمومی طور پر پورا ملک بالخصوص جموں وکشمیر اپنے علماء کرام کو یکے بعد دیگر کھورہی ہے۔ ایک کے بعد ایک غم کاپہاڑ ٹوٹ رہاہے۔ دل افسردہ، آنکھیں اشکبار، دماغ ماؤف، عجب سا کلیجے پہ ماتم بپا ہے کہ ممتاز عالم دین، داعیِ اسلام ِ، فقیہ، مفسرِ قرآن، ملتِ اسلامیہ کا عظیم سرمایہ، ممتاز علمی دانش گاہ مرکز المعارف بٹھنڈی جموں کے صدر مفتی اور ہم سب کے مخدوم گرامی قدر حضرت مفتی فیض الوحید صاحب رحمہ اللہ بھی ہم سے جداہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
عجب قیامت کا حادثہ ہے، آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، اْفق پہ مہر مبین نہیں
تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگ ناگہاں کا اب تک یقین نہیں ہے
یہ اشعار شورش کاشمیری نے گرچہ مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کی سانحہ وفات پر کہے تھے مگریکم جون کی صبح کچھ یوںہوا جس کا بیان کرنا اشک بہائے بغیر ممکن ہی نہیں۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے داماد عزیزم مفتی محمد طیب قاسمی سلمہ کی ساڑھے آٹھ بجے ٹیلیفونک کال صاعقہ بن کر نمودار ہوئی جسے سننے کے بعد اشکوں کی لڑی لگ گئی اور حقیقتاً علمی یتیمی کا احساس گہرا ہوتا چلا گیا۔ابھی ایشیائی ممالک بالخصوص ملک عزیز کے نامی گرامی علماء کرام کی وفات کا زخم تازہ ہی تھا کہ حضرت مفتی فیض الوحید صاحب قاسمی رحمہ اللہ کے حادثہ ارتحال نے دلوں پر بجلی گرادی۔ اس الم ناک خبر نے دل ودماغ کو ہر دوسرے موضوع سے بے گانہ کر دیا۔
 حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ اپنے پیچھے ایسامہیب خلا چھوڑ کر چلے گئے کہ اس کے پْر ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ جہاں تک علم کے حروف ونقوش، کتابی معلومات اور فن کا تعلق ہے اس کے جاننے والوں کی تو ہماری ریاست میں کوئی کمی نہیں، لیکن دین کاٹھیٹھ مزاج ومذاق، تقویٰ وطہارت، سادگی وقناعت او رتواضع وللہیت کا البیلا انداز، جو کتابوں سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف بزرگوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے، ایسے روحانی اوصاف سے آپ علیہ الرحمہ متصف تھے۔مولانا قاسمی ایسی شخصیت تھے کہ جس کے شجر سایہ دار تلے پہنچ کر علم ِ دین کا متلاشی ہر کس وناکس راحت وسکون پاسکتا تھا۔
 حضرت مفتی فیض الوحید صاحب رحمہ اللہ کو یوں توقرآنی اور علمی بنیادوں پر پوری ریاست جانتی تھی مگر سرمائی راجدھانی جموں کے علمی وروحانی وقار و پہچان میں آپ کی آمد سے روز افزوں اضافہ ہوتا چلا گیا۔جموں میںمدینہ مسجد بٹھنڈی ہلزآپ کی تفسیر قرآنی کی ایسی گواہی دیتی تھی کہ ہر چہار جانب سے قرآن پاک کی تفسیر سے استفادہ کرنے کے شوقین حضرات کشاں کشاں آپ کی مجلس ِ قرآن کا رخ کرتے اور گھنٹوں بیٹھ کر علمی سمندر کے معانی میں غوطہ لگاکر جنت کی وادیوں میں ٹہلتے رہتے تھے۔
 آپ علیہ رحمہ بہت سی خوبیوں اور امتیازی اوصاف کے حامل تھے۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء میں سے تھے ،علم پختہ تھا ،فنون میں گیرائی تھی،فکر میں تصلب تھا، نظرمیں بصیرت تھی، زبان شستہ وشائستہ شہد کی طرح تھی، جب بولتے تو ایسامحسوس ہوتاکہ دودھ اورشہد سے دھلی ہوئی زبان موتیاں بکھیررہی ہے، انتہائی محتاط زندگی گزارتے تھے، حق گوئی میں بھی بے مثال تھے جوحق سمجھتے اظہار کرجاتے، غیرمناسب کام پہ نکیر کرنے میں قطعی دیر نہیں کرتے، فورا اصلاح کرنے کی ہدایت فرماتے۔ آپ خود بے حد نیک، شریف الطبع، سلیم الفطرت، کرداروعمل کے غازی، سادہ مزاج اور سادگی پسند، اسلاف کے قدیم روایتوں کے پاسبان، متاعِ شب چراغ تھے۔
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے 
مولانا علیہ الرحمہ کو پوری ریاست میںمفتی صاحب کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اس لیے سب انھیں مفتی صاحب کے نام سے یاد کرتے تھے۔آپ کی شخصیت ایسی دل نواز، حیات افروز اور باغ وبہار تھی کہ جس کی خصوصیات کو ایک مختصر تحریر میں سمونا مشکل ہے۔ ہر فن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ علم تفسیر اور حدیث آپ کا خاص موضوع تھا۔ اس فن میں پوری ریاست میں بے مثال تھے۔ ہر فن کی معلومات کا خزانہ تھے۔ وقت کے مناظر اسلام تھے۔ بڑے بڑے مناظر بھی انتہائی سوچ سمجھ کر آپ سے سوال کیا کرتے تھے۔ 
آپ خوب صورت ، درمیانہ قد ،قوی الجثہ تھے، کوئی اگر آپ کو دیکھتا تو آنکھ ہٹانے کو اس کا دل نہ چاہتا۔چہرے سے نورانیت ٹپکتی تھی، داڑھی پوری سنت کے مطابق تھی۔ چہرہ بارعب تھا۔ غصے کے وقت ان کے چہرے پر جلال کی ایک کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ بات کرتے تو ہر کوئی ان کی گفتگو سے ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ صاف صاف الفاظ میں گفتگو فرماتے، جس سے کوئی بھی ان کی بات سمجھے بغیر نہ رہتا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری ریاست میں آپ کوخطابت کا ایسا ملکہ عطا فرمایا تھا کہ وہ شاذ ونادر ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ بالخصوص آپ کی اردو تقریریں، جو اتنی بے ساختہ ، سلیس، رواں اور شگفتہ ہیں کہ ان کے فقرے فقرے پر ذوقِ سلیم کوحظ ملتا ہے۔ ان میں قدیم وجدید اسالیب اس طرح سے جمع ہو کر یک جان ہو گئے تھے کہ سننے والا جزالت اور سلاست دونوں کا لطف ساتھ ساتھ محسوس کرتا ہے۔
مفتی صاحب علیہ الرحمہ طلبہ کے ساتھ انتہائی شفقت کا معاملہ فرماتے۔ طلبہ بھی ان سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور مرحوم کے مزاج کے سبب طلبہ لطف او رخوشی محسوس کرتے تھے۔ پوری ریاست میں آپ کے شاگردوں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جن کے آنسوؤں سے جنازہ گاہ کا ماحول سونا سونا ہوچکا تھا، کوئی آپ کی زیارت کے لیے مرکزالمعارف کی بالائی منزل پر تھا تو کوئی جنازہ اٹھانے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے کر اپنے کندھوں کو سعید بنا کر نصیب جگا رہا تھا، خوش مزاجی، سادگی اور حلم گویا آپ کی فطرت ثانیہ بن گئی تھی۔ 
آپ علیہ الرحمہ کی گفتگو سامع کے لحاظ سے مختلف ہوتی تھی۔سامع اگر عالم ہوتا تو گفتگو عالمانہ ہوتی تھی۔ سامع اگر عامی ہوتا تو ان کی گفتگو عامیانہ ہوتی تھی۔ماہِ فروری میںراقم الحروف اٹھارہ گھنٹے آپ کی صحبت میں رہا تو سخاوت میں بھی انوکھا پایا، ظہرانے پر آپ کے دولت کدے پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی تو درویش ِ خدا کے یہاں کھانے میں عجیب لذت محسوس کی، جمعرات کی رخصت ہونے کی وجہ سے بعد نماز ظہر درس ِتفسیر کے ایک شاگرد کی گاڑی میں راقم الحروف کو تیس کلو میٹر تک کی سیر کرائی اور مستقبل کی گہری تعلیمی منصوبہ بندی پر کھل کر تبادلہ خیال فرمایا، ہر پانچ دس منٹ کے بعد ناچیز کے شانوں کو ہلاتے اور مولانا شہزاد مولانا شہزاد کہہ کر نصیحت کرتے کہ ہم کچھ نہیں تھے، اللہ نے یہاں تک پہنچایا اور جموں میںمستقبل کی تعلیمی منصوبہ بندی میں بھی اللہ ہی ہماری مدد فرمائے گا، یہ کہتے اور اکابرین کے اقوال سے کانوں میں رس گھولتے جاتے۔
 آپ یقینا وسیع الظرف تھے۔مصروف ترین شخصیت اور انتظامی امور پر مامور ہونے کے باوجود اپنے برخورداروں کو وقت دیتے اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے ۔ سیرتی کوئز مقابلہ برائے ضلع پونچھ کی انعامی تقریب میں آپ ہی کی صدارت طے تھی مگر صحت کی خرابی کو پیش نظر رکھ کر معذوری ظاہر کی اور رمضان سے قبل جامعہ کے سالانہ اجلاس میں تشریف آوری کا وعدہ فرمایا مگر قدر اللہ وما شاء -
آپ کی خطابت اور جادو بیانی کا انداز پانی کے بہاؤ کی طرح رواں دواں تھا۔ سبق پڑھاتے وقت مشکل سے مشکل مسئلہ کو چٹکیوں میں حل فرمالیا کرتے تھے۔ راقم الحروف کو نو سال قبل اشر داس اننت ناگ میں حافظ فیاض صاحب سلمہ کے ادارے میں رمضان المبارک میں درسِ تفسیر قرآن میں دو روز شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تو قریب سے سنا کہ کس قدر حلاوت اور شیریں انداز میں آپ تفسیرفرماتے تھے ، حق بات ڈنکے کی چوٹ پر بیان کرتے، بہادری آپ کی پہچان تھی، کس سے نہیں ڈرتے تھے۔ جس کی وجہ سے انھیںسنت ِ یوسفی جیسے دشوار مراحل سے گزرنا پڑا۔ جب بیان کرتے تو گویا لوگوں پر سحر طاری ہو جاتا، ہمہ تن گوش ہو کر ان کا بیان سنتے تھے۔ دین کا کام کرنے والوں کی بڑھ چڑھ کر حوصلہ افزائی فرماتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ نے پوری زندگی قرآن کی خدمت میں گزاری۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی آخری وصیت بھی یہ تھی؛ زندگی وفا کرے یا نہ کرے بس جس سے اللہ کے دین کا جو کام ہوتا ہے وہ کرتا رہے۔رہزن رہبروں سے بچتے رہیں۔قرآن کی موٹی موٹی باتیں لے کر ہر مسجد میں تفسیر کے حلقے لگائیں۔جماعت کے خول میں قید ہو کر کام کرنے والا ریشم کے کیڑے کی طرح ہوتا ہے، جو اسی خول میں مر کر دفن ہوجاتا ہے۔جماعت اور فرقے کے خول کو توڑ کر کام کریں، جتنا ہوسکے لوگوں تک خیر پہنچائیں اور لوگوں کے شر سے بچتے رہیں، اسلامی تہذیب کی حفاظت کریں، اگر شکلیں ہی باقی نہ رہ سکیں تو پھر باقی رہ ہی کیا جائے گا، غیر مسلموں میں بھی اچھے لوگ ہیں جو اپنے خول سے تنگ آچکے ہیں لیکن ان کے پاس راستہ ہی کوئی نہیں۔
آپ علیہ الرحمہ نے پوری زندگی دین کی خدمت میں گذری۔ آپ کی زندگی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ دین اور دینی داروں سے محبت کی جائے۔ علماء کرام کے زیر سایہ رہ کر دین سیکھیں، اطاعت ِ خداوندی اور اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی جان بھی پیش کرنے سے پیچھے نہ رہا جائے۔ حق چاہے کتنا بھی کڑوا کیوں نہ ہو اس کو بیان کرنے سے ہرگزپیچھے نہ ہٹنا چاہیے۔
 آپ علیہ الرحمہ کا جنازہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔اپنی نوعیت کی منفرد نماز جنازہ۔حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی نماز جنازہ بائیس بارپڑھی گئی، اس لیے کہ حکومت کی بتائی ہوئی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے ایک مرتبہ میں اتنے لوگوں کا ایک ساتھ نماز جنازہ پڑھنا ممکن نہ تھا  ؎
آنکھ پرنم ، دل حزیں اور مضطرب فکروخیال
ناگہانی مرگ کا سن کر تیری ، فیض الوحید
مشغلہ تھا آپ کا تفسیر قرآن وحدیث
اور اک دانش کدہ کے تھے مسلم آپ عمید
آپ فکر قاسمی کے ترجماں تھے بے دھڑک
اور خائف آپ سے تھا کل جبار عنید
آپ کی سحرالبیانی آپ کا طرز خطاب
جو بھی سنتا آپ کو ، کہتاتھا وہ ، ھل من مزید
رہبران قوم وملت کے چلے جانے سے یوں
لگ رھا ہے جیسے سر پہ آگیا یوم الوعید
داعیان اھل حق میں آپ کا تھا وہ مقام
جس طرح لذت بھری کھانوں میں ہوتاہے ثرید
آپ کے حسن عمل پر ناز تھا سب کو ریاض
کیوں نہ ہو کہ آپ تھے کشمیر کے در فرید
(مضمون نگارخادم جامعہ امام محمد انورشاہ کشمیری علیہ الرحمہ شہر پونچھ ہیں)
فون نمبر۔9469715470 
 

تازہ ترین