تازہ ترین

یہ غازی یہ ترے پُر اسرار بندے

فکر وفہم

تاریخ    11 جون 2021 (00 : 01 AM)   


انظر نبی ،شیری نارواؤ
رات انتہائی بھیانک تھی ہر سو قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی ’’مخلوق خدا ‘‘نرم و نازک بستر پر محو استراحت تھی اور ’’کتے ‘‘ننگے آسمان تلے پہرہ داری کا مقدس انجام دے رہے تھے۔ برف خراماں خراماں زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھی۔ میرے دل و دماغ پر خیالات کے قافلے گزر رہے تھے۔ لمحوں میں ماضی ،حال اور مستقبل کا سفر طے کر رہا تھا۔ آنکھوں سے نیند مفقود ہوچکی تھی۔ ایسے میں’’قلم ‘‘ ہاتھ میں اٹھا لیا اور’’کاغذ‘‘ کے سینے پر لفظوں کی چھاپ ڈالنے میں محو ہوگیا ۔ 
 نوک قلم سے بے ساختہ کلام ربانی کی یہ آیت صفحہ قرطاس پر منقش ہوگئی کہ:
 ’’الذین ان مکنٰھم فی الارض اقامو ا الصلوٰۃو اٰتو الز کوٰۃ وامروا بالمعروف ونھو عن المنکرـ‘‘
 ترجمہ:  یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے،زکوٰۃ دیں گے،معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے۔ ( الحج آیت ۔ ۴۱)
 قرآن کی سحر طرازی کا کوئی جواب نہیں اس کے سوز و گداز نے ’’عمر ‘‘ کو بامراد اور بطل جلیل بنا دیا میں بھی اس کی سحر انگیزی کا شکار ہوگیا۔آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں جاری ہوگیا جیسے ساون کی جھڑی لگی ہو مجھے استعجاب نے اپنے نرغے میں لے لیا کہ مجھ جیسا کم ظرف ،بدخو، معصیت سے پُر انسان کیا تخلیق کرنے بیٹھ گیا میں ’’عصمتِ مریم ‘‘ کا ہرگز دعویدارنہیںایک طرف کلامِ ربّانی اور دوسری طرف یہ ’’بندہ عاجز ‘‘دونوں کی آنکھیں درد مشترک کا مرقع بن بیٹھیں گھنٹوں قرآنی تفہیم کے بحر پیکراں میں غواص بن بیٹھا شاید کوئی درِّ نایاب ہاتھ لگ جائے اس قلزم زخار میں ’’کبھی سوز و ساز رومی ‘‘ ’’کبھی پیچ وتاب رازی ‘‘ والی کیفیت سے دو چار رہا  جستہ جستہ قرآنی ادراک کے دریچے وا ہونے لگے آج جیسے براہِ راست خالق کائنات مجھ سے تخاطب ہورہا ہو اور مجھے جنجھوڑ رہا ہو دیکھ میرا کلام تجھ سے کیا کہہ رہا ہے۔
 کلام ربّانی کی یہ آواز سن کر میرا تخیل و ادراک دفعتاً’’قرن اوّل ‘‘ کی وادیوں میںکھو گیا جہاں میں نے تاریخ کے عظیم  ترین ،بلند ترین ،سراپا متحرک، کشتگان ایثار و ایقان اور لافانی کرداروں کا مشاہدہ کیا جہاں میں نے ان چراغوں کی روشنی دیکھی جنہیں محمد عربیﷺ کی قندیل سے تابانی ملی ہے ۔ انسانی تاریخ کے ان مقدس و معطر نفوس کی  قدرو منزلت کو حوالۂ قلم کرنے کے لئے کسی ذرّین جذبہ ،مقدس خیال ،اور نئی لغت کی ضرورت ہے قلم میں اتنی صلاحیت کہاں کہ ان اصحاب کا خاکہ کھینچ سکے اور زبان مین اتنی تاثیر کہاں کہ ان کا ارتفاع بیان میں آسکے یہاں ’’من در چہ خیالم و فلک در چہ خیال ‘‘کہہ کر ہی اپنی بے مائیگی کا اظہار کروں گا۔
 اس حلقہ درویشان میں ایک طرف صدیقِ با صفا ،تو دوسری جانب فاروق با وفا ،وہیں عثمان با حیا اور حیدرِ کرار جلوہ افروز ہیں میں آگے بڑھتا گیا تو حبش کے غلام پہ نظر پڑی جو عشق میں یوں فدا ہوا کہ متاعِ حیات لٹا بیٹھا ، ظالموں نے ستم ڈھائے،چھاتی پر پتھر رکھا لیکن ’’وادیٔ عشق ‘‘میں مردِ حر ہی بازی مار لیتے ہیں ویسے بھی ’’عشق رسولؐ ‘‘کا ضرب المثل بننا اتنا آسان نہیں یہاں حضرت زید،حضرت خبیب ، حضرت سمیہ، حضرت خالد بن ولید،حضرت حمزہ،حضرت مصعب بن عمیر ہزاروں کردار ایسے ہیںجو عزم و استقلال اور شجاعت ودلیری کے آئینہ دار ہیں ان سالارانِ حق نے رہتی دنیا تک اسلام کے جامع ، آفاقی، اور ہمہ گیر پہلو کو زندہ و تابندہ رکھا یہ اصحاب من حیث المجموع ’’بوئے گل ‘‘تھے اور اپنے پیچھے ’’نالہ دل‘‘ چھوڑ گئے َ  ّ___ ــــ  یہ مقدس نفوس دو جذبوں میں انتہائی صادق تھے ایک ’’جذبہ توحید‘‘ اور دوسرا رسول ﷺ سے والہانہ عشق ___یہ دو جزبے قبر کی دہلیز تک ان کے رفیق رہے ___میں نے آہستہ خرامی سے’’قرن اول ‘‘کو الوداع کہنا شروع کیا___کرتا بھی کیا یہاں ہر کوکب مجھے اپنی طرف کھینچتا اقبال کا یہ نغمہ میرے قرطاس پر ابھر کے آیا ہے کہ ’’کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کاروانـ ‘‘۔
 میں تاریخ کے ہر ورق کو بے نقاب کر دینے میں منہمک تھادین متین کے عظیم سالاروں کے تجسس میں محو سفر تھا داعیانِ حق کی یہی تلاش و جستجو مجھے  ’’عہدِ ایوبی ‘‘ کی دہلیز تک لے آئی اس عہد عزیز میں اصطلاحًا نہیں بلکہ اصلًا مسلمانوں کا مشاہدہ کیا__  یقین محکم ، عمل پیہم ،محبت فاتح عالم کا وہ ذریں باب نظر آیا جس سے رہتی دنیا تک سورج کی طرح شعائیں پھوٹتی رہیں گئیں اور دریا کے لہروں کی طرح ارتعاش رہے گا جو عزم با لجزم،قوت،غیرت اور حمیت کی ایک نئی لغت مرتب کرے گا ___یہاں مرد آہن صلاح الدین ایوبی ایک محاذ پر اپنے کردار و عمل کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام کی آبرو کے محافظ بنے ہوئے ہیں دوسری طرف یہود و نصاریٰ اور ان کے شریک راز اپنی تمام توانائیوں کو محض اس لئے صرف کر رہے ہیں کہ اسلام کے خوبصورت چہرے کو اپنے ناپاک عزائم سے مجروح کیا جائے ۔ غلیظ سرگرمیوں سے مضمحل کیا جائے ۔ فکر اسلامی کی روح کو کدال سے خراش زدہ کیا جائے ۔لیکن مرد مجاہد ،صلاح الدین ایوبی جس کے اندر ایک سچے داعی کا سوز دروں جھلکتا تھا۔جو سراپا صبر و ایثار کا مرقع تھا، نے صیہونیوں کے ان تمام ناپاک مرادوں پر ضرب کاری لگادی۔راہِ حق کے اس راہی نے شجاعت و دلیری،ایمان و ایقان اور عفتِ قلب و نگاہ کا وہ ذریں باب رقم کیا جس سے رہتی دنیاتک یاد رکھاجائے گا ۔ شدت جذبات کا یہ تلاطم قلب و ضمیر پرحکمرانی کر رہا تھا ۔
رات صبح صادق کی طرف محو پرواز تھی ۔سکوت شب کی وجہ سے باہر کی مہیب آوازیں صاف و شفاف سنائی دے رہی تھیں۔ ہر سو بھیانک خاموشی کے طویل سائے۔۔۔۔۔ میں خیالوں کی وادی میں چہل قدمی کرتا ہوا دور نکل آیا تھا یہاں تک کہ اسلام کی نشاۃ الثانیہ کے سرگرم عمل تحریک ـ’’اخوان المسلمین‘‘  پر نگاہ انتخاب پڑی۔ تحریک سے زیادہ بانی و مبانی ،اخوان و مرشد عام شہید حسن البنا کی سحر طراز شخصیت نے فکر و نظر کو مغلوب کیا ۔ حسن البنا کون تھے  ____ایک بطل جلیل مہربان ،شفیق اور دین متین کا درد رکھنے والا___  یہ اللہ کا وہ پُر اسرار بندہ تھا جس نے اپنا تن ،من،دھن دین متین کی سر بلندی کے لئے وقف کیا ۔سب کچھ اللہ کی راہ میں نچھاور کیا۔مصر کے اس درویش حق نے دعوت کا آغاز مسجد سے نہیں بلکہ قہوہ خانوں اور ہوٹلوں سے کیا۔قدرت نے حسن البنا کو مؤثر لب و لہجہ اور علمی وجاہت کاتحفہ عنایت کیا تھا ۔ شیخ کسی موضوع پر لب کشائی کرتے تو سامعین انگشت بدندان انہیں دیکھتے لہو ولعب کے گرویدہ افراد اصرار کرتے کہ مزید گفتگو فرمائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے راہِ عزیمت کے اس جانباز نے ایک انقلاب آفرین تحریک کا رُخ اختیار کیا۔ لیکن اس تحریک سے فرعونِ وقت کو خطرہ محسوس ہوا۔انصاف کے سوداگروں کے ہاتھ جنبش میں آئے۔فیصلہ صادر ہوا ۔حسن البنا مرتبۂ ’’شہادت‘‘ سے سرفراز ہوئے۔یہ پروانہ، دیوانۂ وار شمع کے گرد طوافِ عشق کرتا رہا ۔آخری وقت قریب آیا تو بزم کو روشنی دیتا ہوا جہانِ نا پائیدار سے رخصت ہو گیا۔
ایسے ہزاروں کردار تاریخ کے بے نظیر اوراق پر اپنی حق گوئی کے نقوش ثبت کر چکے ہیں۔مولانا مودودی مرحوم ،خواہ محمد یوسف ہواش  و شیخ عبد الفتاح اسماعیل ہوں ۔علامہ خادم حسین رضوی ہوں یا عمر مختار۔ ان اصحاب راہ شوق نے فکر اسلامی کی تجدید و احیاء اور استحکام نطام اسلام کے خاطر ٓاسودۂ رحمت ہوئے۔ رب کریم کا یہ فرمان ان ہی پر صادق آتا ہے ۔
’’ اے مقصد حیات اور راہِ استقامت میں اپنی خواہشات کو زیر کرنے والو___‘‘داخل ہوجاؤ میری جنت میں سلامتی اور اطمینان سے ‘‘یہاں تک آتے آتے یہ عقدہ کسی حد تک کھل چکا تھا کہ ان اصحاب حق کی ظفر مندی کا اصل رازکیا تھا ان مقدس نفوس کی اخلاقی پاکیزگی ،روحانی بلندی ،جرأتِ ایمانی،مزاجِ قلندری کا اصل محرک کیا تھا ۔انہوںنے یہ سارے اوصاف نسخۂ کیمیا یعنی کلام ربانی سے ہی اخذ کئے تھے ۔اپنے فکری اور روحانی اقدار کو کلام ربانی سے جلا بخشی تھی۔یہ راز سر بستہ جان چکے تھے کہ قوم کی کامیابی کا مدار کلام ربانی کی تابعداری پر منحصر ہے۔یہ کتاب محض آیات و بینات کا جامد نسخہ نہیں ،فقط اوراق کا خزینہ نہیں ،بلکہ ایک مکمل ،جامع اور وقیع منشور حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو عملی ،فکری ،روحانی ،معاشرتی ، معاشی انقلاب سے ہمکنار کرنے لئے نازل ہوا ہے۔ جو قوم پورے تجرّد اور اخلاص کے ساتھ کلام ربانی کی طرف رجوع کرتا ہے۔خالقِ ارض و سمٰوات کا وعدہ ہے کہ اللہ اُاس قوم کو تمکنت فی الارض عطا فرمائے گا اور اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں 
اللہ کرے تجھ کو عطا  جدّتِ کردار 
(اقبال)
����
رابطہ ۔ متعلم شعبہ اردو،سنٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر 
 فون نمبر۔9906820951
����

تازہ ترین