تازہ ترین

کمیونٹی انفارمیشن سینٹر آپریٹروں کی مستقلی ؟

دفعہ 370 منسوخی کے بعد خصوصی قانون منسوخ، معاملہ التوا میں ڈالا گیا

تاریخ    11 جون 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// حکومت نے5برسوں کے دوران چوتھی مرتبہ محکمہ دیہی ترقی میں’’ سی آئی سی‘‘ ( کمیونٹی انفارمیشن سینٹر) آپریٹروں کی مستقلی کی فائل کو متعلقہ محکمہ کو واپس کرتے ہوئے کہا ہے دفعہ370کی تنسیخ سے’’ سپیشل پرویژن قانون ‘‘ بھی منسوخ ہوگیا ہے۔ محکمہ دیہی ترقی کے ماتحت کمیونٹی انفارمیشن سینٹر(سی آئی سی )نے 172 آپریٹرز 2004 سے کنٹریکچول بنیادوں10ہزار ماہانہ مشاہرے پر کام کر رہے ہیں اور یہی چیز انکی پریشان کن زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ قابل رسا دستاویزات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے سال2003-4میںاخبارات میں مناسب اشتہار دینے اور اہل امیدواروں سے درخواستیں طلب کرنے کے بعد سی آئی سی آپریٹرز کی تقرریوں کو عمل میں لایا گیا تھا۔ان کی بھرتی اہلیت( میرٹ) کی بنیاد پر اسی برس متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں حکومت جموں و کشمیر کی تشکیل کردہ ضلعی سطح پر تقرری کمیٹی کے ذریعے مناسب بھرتی کے طریقہ کار کے ذریعے کی گئی تھی۔محکمہ عمومی انتظامی کی جانب سے ایک بار پھر یہ فائل متعلقہ محکمہ کو واپس کی گئی ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ نے اس بار یہ نقطہ ابھارا ہے کہ جموں کشمیر میں دفعہ370کی منسوخی کے ساتھ ہی سپیشل پرویژن ایکٹ مجریہ2010بھی ختم ہوگیا ہے۔ امیدواروں کا  تاہم کہنا ہے کہ انکی فائلیں اور دستاویزات سال2014 سے ہی زیر التوا ء ہے،اور اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ یہ امیدوار اب45برس یا ا سے زیادہ عمر کے ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کیسوں کو سال2017میں حکومت کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے بھی منظوری دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار محکمہ عمومی انتظامی نے محکمہ قانون  و انصاف سے قانونی رائے طلب کرنے کیلئے فائل واپس لوٹا دی،اور دوسری بار ایڈوکیٹ جنرل سے رائے طلب کی،جبکہ تیسری بار محکمہ خزانہ کو فائل پیش کی،تاہم انہوں نے سابق کنکرنس کے ساتھ ہی فائل کو واپس کیا۔ سی سی آئی سی آپریٹرز ایسوسی ایشن کے صدر نعیم صدیق نے کہا کہ انہوں نے معمولی تنخواہ پر آر ڈی ڈی کی بہتری کے لئے 17 سال تک  خدمات انجام دی ہیں اور ان مشکل ایام میں معمولی تنخواہ کے ساتھ انکا بقاء ایک چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹیک ، ایم ایس سی آئی ٹی ، بی ای اور بی ٹیک ڈگری لیکن اس کے باوجود انہیں معمولی ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا’’پچھلے 12 سالوں سے ہماری تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا اور ہماری آواز کو دبایا جارہا ہے۔، نعیم نے کہا۔ انہوں نے تنخواہوں میں10ہزار سے25ہزار روپے کے اضافے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اہل خانہ کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔
 

تازہ ترین