تازہ ترین

اَنُوکھاسفر

کہانی

تاریخ    6 جون 2021 (00 : 01 AM)   


ریحانہ شجر
سیل فون بجنے کی آواز آئی تو ایمنؔ نے جلدی سے اٹھایا۔ بھائی سے بات کرتے ہوئے جذباتی ہو کر بولی ’بھائی تمہاری بہت یاد آتی ہے۔کیسے ہو ؟ دل لگتا ہے کہ نہیں ؟ شہر کیسا ہے  لوگ کیسے ہیں ‘۔ اتنے سارے سوالات ایک ساتھ پوچھے کہ امانؔ ہنس پڑا اور کہا ’بس کرو میں ابھی ویڈیو کال کروں گا سب بتادوں گا، امی کو بھی بلا ‘۔ ’ٹھیک ہے‘ایمن بہت خوش ہوکر بولی۔ ایمن نے لیپ ٹاپ آن کیا اور شروع ہوگئی۔ بہت دیر تک باتیں کرتے رہے، امان نے  پوچھا امی کدھر ہے۔  وہ زور کا قہقہہ لگا کر بولی’ آپ بھول گئے وہ نماز پڑھ رہی ہے ۔ جتنی دیر وہ نماز مکمل کرتی ہے میں اتنے وقت میں ذرا گھوم کے آئوں گی۔ امان کو ویڈیو میں پیچھے امی نظر آئیں اور بولا ’امی آرہی ہے ابھی تیری خبر لےگی‘۔ امی (افشان ؔ) جلدی نماز مکمل کر کے آئی اسکو ایمن کی باتوں سے اندازہ ہو گیا تھا کی امان فون پر ہے اس لئے نماز جلدی مکمل کی، بولی ’کیا باتیں ہو رہی ہیں‘۔ تینوں ہنس پڑے ایمن تھوڑا ہٹ گئی اور امی کےلئے جگہ بنالی۔
افشان بیٹے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ پوچھا ’جوائن کیا ‘۔ امان نے کہا ’ہاں امی ،اللہ کا شکر ہےہسپتال کوارٹرسے دور ہے کیونکہ ہسپتال کے احاطے میں کوارٹر ابھی زیر تعمیر ہیں۔ یہ دوسرے ہسپتال کے کوارٹر ہیں جہاں ہمیں رہنے کی جگہ دی گئی ہے۔ خیر میں سنبھال لوں گا، ’تم خوش رہو’ امان نے کہا‘ افشانؔ دل سے امان کے پردیس جانے  سے مطمئن نہیں تھی مگر امان ؔ کی ضد تھی،اس لئے وہ اسے روک نہیں پائی۔بہت دیر تک باتیں کرتے رہے۔’اللہ کریم تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے ،ترقی اور بلند مقام عطا کرے‘‘ ۔ افشان بیٹے کو دعائیں دیتی رہی۔ اپنا خیال رکھنے اور کھانا وقت پر کھانے کی تلقین کی ،شب بخیر کہہ کے گفتگو ختم کی۔
دونوں ماں بیٹی شام کے کھانے پر بیٹھ گئیں۔ کھانا شروع کرنے کے ساتھ ہی  افشانؔبیٹی ایمنؔ سے کہنے لگی ’کتنا اچھا ہوتا اگر امان ؔ یہیںاپنے ملک میں کام کرتا، تھوڑا سا صبر کر لیتا، یہیں پر تقرری ہوجاتی۔ آجکل کی نسل  میں صبر کہاں ہیں۔ تمہارے ابو نے دوران حیات ہی تم دونوں کے بارے میں سوچ رکھا تھا‘۔ اور اسکا اچھا خاصا پنشن بھی جاری ہے ۔ ایمن بولی ’امی بھائی نے صحیح وقت پر معقول فیصلہ لیا، اب اور کتنی دیر انتظار کر تا، چار پانچ سال ہو گئے جب سے وہ ایم بی بی ایس کر کے آیا اور کتنے سال انتظار کرتا۔ اللہ کا شکر کرو جنوبی افریقہ میں نوکری مل گئی‘۔’ تم کیا سمجھو گی وہ مائیں کیسے دن گزارتیں جن کی اولاد پردیس کام کرنے جاتی ہیں‘۔ افشانؔ یہ کہتے ہوئے کھانے میں مصروف ہو گئی۔
ڈاکٹر امان ؔ دل لگا کر کام کرنے لگا۔ اب دو سال ہوگئے تھے ۔ اسکے کام کی سراہنا کی جا رہی تھی۔ آج اسکی اور اُسکے دوسرے کولیگ ڈاکٹر ہاشم ؔ جو سوڈان سے تھا، دونوں کی  ڈیوٹی ایمرجنسی میں تھی۔ مریضوں کی قطار لمبی تھی لیکن ڈاکٹروں کی یہ جوڑی تیزی سے کام کرنے کے لئے مانی جاتی تھی ۔ کام کے دوران ایک مریضہ لڑکی کی باری آئی تو ڈاکٹر ہاشم نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس آنے کو کہا ، کیونکہ اسکے پاس کوئی مریض نہ تھا۔ لڑکی نے انکار کیا اور  ڈاکٹر امانؔ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  بولی مجھے اسے ہی اپنی  جانچ کرانی ہیں۔  ڈاکٹر امان نے ڈاکٹر ہاشم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’میں مصروف ہوں آپ ان کے پاس جایئے یہاں بہت دیر تک انتظار کرنا پڑے گا۔‘ لڑکی لچکدار آواز میں بولی، ’میں انتظار کر لوں گی‘۔ خیر لڑکی کی باری آئی تو ڈاکٹر امان نے پوچھا ’جی بتائیں کیا تکلیف ہے‘؟ لڑکی انگڑائی لیتی ہوئی بولی، ’سر میں درد ہو رہا ہے‘۔ ڈاکٹر  امان نے مریضہ کی نبض دیکھی تو اسکو جھٹکا سا لگ گیا اور چونک پڑا۔ لڑکی کا ہاتھ اتنا گرم تھا کہ پوچھو مت۔ لڑکی بولی ’ڈرو مت ہم اتنے ہی گرم ہوتے ہیں‘۔ ڈاکٹر سوچ میں پڑ گیا کہ اگرلڑکی کو تیز بخار ہوتا تو اسقدر نارمل نہیں ہو تی۔ خیر باقی مریض بھی تھے اسلئے مختصر بات کی اور نام پوچھا؟ لڑکی بولی ' غہل '، ڈاکٹر امان کو شاید ٹھیک سے نہ سنائی دیا پھر سے پوچھا ’کیا نام ہے‘؟ وہ پھر سے بولی 'غہل۔ ڈاکٹر  امان نے کہا’ٹھیک ہے یہ لو نسخہ اور وہاں سے دوائی لے لو‘ہاتھ کے اشارے سے بتایا۔
اس کے بعد یہ لڑکی اکثر  ایمرجنسی میں دکھائی دینے لگی ۔ کبھی پیٹ درد، کبھی زکام، کبھی کچھ اور ہر وقت ڈاکٹر امانؔ  سے ہی جانچ کرانے کی ضد پکڑ کے بیٹھتی تھی اور ایک دن کہا ’ڈاکٹر صاحب مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے‘۔ ڈاکٹر امان نے اسے اچھے طریقے سے باہر کا راستہ دکھایا اور دوبارہ آنے سے منع کیا۔ہسپتال کے پورے عملے نے یہ بھانپ لیا تھا کہ لڑکی کیونکر آتی ہے۔ ڈاکٹرامان بھی تنگ آگیا تھا اس کی حرکتوں سے لیکن یہ سوچ کر کہ شفاخانہ ہے کسی کو کیسے روک سکتے ہیں ۔ وہ سنجیدگی سے کام لیتا رہا ۔
ایک دن ڈاکٹر امان خود بیمار ہو گیا۔ ڈیوٹی اٹینڈ نہیں کی اور وہ کوارٹر میں آرام کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد آنکھ کھلی تو سامنے اس لڑکی کو دیکھا تو حیران و پریشان ہو کر پوچھا، ’تم یہاں کیسے آگئی‘؟ لڑکی بولی، ’دروازہ کھلا تھا سوچا خیریت پوچھوں‘۔ ڈاکٹر امان ؔنے سوچا شاید میں دروازہ اندر سے بند کرنا بھول گیا ہوں۔ اُس نے مشکل سےلڑکی سے جان چھڑادی۔لڑکی نے ڈاکٹر امان سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’مجھے روکنے کی کوشش کرو گے تو پچھتاوگے‘۔ آج سے پہلے امان نے اس کی طرف نہیں دیکھا تھا، آج دیکھا تو لگا لڑکی کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی۔ لڑکی چلی گئی، دروازہ بند کرنے سے پہلے اس نے واچ مین کو  بلایا اور اونچی آواز میں بولا  یہ لڑکی یہاں تک کیسے آگئی۔ واچ مین بولا،صاحب، ’یہاں سے کوئی لڑکی نہیں گزری، ایک لمحے کے لئے میں اپنی جگہ سے نہیں ہٹا، آپ آرام کیجئے میں چائے آڈر کرتا ہوں‘۔ واچ مین کو لگا شاید ڈاکٹر صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، خواب دیکھا ہوگا، یہ سوچ کے چلا گیا۔ ڈاکٹر امان نے بنا کچھ کہے دروازہ بند کیااورگہری الجھن میں پڑگیا آخریہ لڑکی کون ہے ،یہ سوچتے ہوئے اُسے نیند آگئی۔ 
ایک روز شام کوتھکا ہوا کوارٹر پر پہنچا، بیڈ پر لیٹا ، تھوڑی دیر بعد اسکو لگا کہ ماتھے پر کوئی بھاری گرم پتھر ہے۔ ہٹانے کی کوشش کی تو اسکا ہاتھ کسی سے ٹکرا گیا۔ آنکھ کھولی تو لڑکی سامنے تھی۔ امان کا گلہ خشک ہوگیا، غصے اور خوف کے آثار ڈاکٹرامانؔ کےچہرے پہ صاف نظر آنے لگے۔ پھر بھی ضبط سے کام لیکر کہا، ’آخر تم کیا چاہتی ہو کون ہو تم، مجھے پریشام کیوں کرتی ہو‘۔ لڑکی بھاری آواز میں بولی ’اولاد آدم میں جن زادی ہوں۔ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے، میرے ساتھ شادی کرلو‘۔ ڈاکٹر امان کا پورا وجود ہل گیا، اسکو لگا کہ وہ بہت بڑی مصیبت میں پڑ چکا ہے لیکن ہمت کرکے بولا ’یہ ممکن نہیں ہے ، چلی جاو یہاں سے‘۔ جن زادی کو غصہ آیا اور اپنی اوقات دکھانی شروع کردی۔ پھرکبھی ھہ۔۔۔۔ھہ۔۔۔ہی کرکے ہنستی رہی اور بیڈ کی ایک طرف منجمد ہو کربیٹھ گئی۔اپنی گردن چاروں سمت موڑتی رہی، کبھی دیوار سے لپکتی دکھائی پڑتی تھی تو کبھی کھڑکی کے ساتھ چپکتی ہوئی ، سر آگے کی طرف تو پیر پیچھے ، ہاتھ کبھی لمبے تو کبھی چھوٹے۔ڈاکٹرامان پر وحشت طاری ہوگئی۔ اسکو کچھ نہ سوجھا پھر بھی ہمت کر کے  دھیرے سے فرش پر پڑے ہوے لوہے کے ڈنڈے کو ہاتھ میں اٹھا کر جن زادی کے قریب گیا۔ وہ چیخ اٹھی اور اچانک غائب ہو گئ۔ مگر اپنی بھیانک آواز میں بولتی گئی ’مجھ سے بچ کر کہاں جاوگے ڈاکٹر امان۔۔۔۔۔!کہاں جاؤ گے۔۔۔۔۔!کہاں جاؤگے امانؔ۔۔۔‘! دیر تک یہ آواز فضاء میں گونجتی رہی۔
ڈاکٹر امان کی چھٹی کی منظوری آگئی تھی۔ ہسپتال کے انتظامی آفیسر نے سارے کاغذات  ڈاکٹر امان کو دے دیئے۔ ڈاکٹر امان نے ایسے اطمینان کی سانس لی جیسے کسی قید سے رہائی ملنے والی تھی۔ آخر تین سال کے بعد گھر کی ٹھنڈی چھاؤں کا احساس ہو رہا تھا۔ کوارٹر پہنچ کر پہلے گھرویڈیوکال کیا ۔ گھر والوں کا چہرہ دیکھ کر اسکو اچھا محسوس ہوتا تھا۔ ماں اور بہن کو چھٹی کے بارے بولا ’میں ایک دو روز میں آجاونگا‘۔ وہ دونوں خوشی سے جھوم اٹھیں۔ ماں بیٹے کو دعائیں دیتی رہی۔
 ڈاکٹر امان کی نائٹ ڈیوٹی تھی۔ دوسرے دن فلائٹ کا ٹائم تھا، اسلئے ٹرول بیگ بند کر لیا، یہ سوچ کر کہ نائٹ ڈیوٹی کے بعد وہیں سے روانہ ہو نا  بہتر رہےگا ۔ ڈیوٹی پہنچنے پرڈاکٹرہاشم نے پوچھا ’تمہیں کل گھر کے لئے روانہ ہونا ہےآج آرام کرلیتے، واپس جائو تمہاری ڈیوٹی میں کروں گا‘۔ ڈاکٹر امان ؔنے منع کیا لیکن ڈاکٹر ہاشمؔ نے کہا ’دیکھو دوست جب مجھے بھی گھر جانا ہو تو آپ میری ڈیوٹی دے دینا‘۔ ڈاکٹر امان کو یہ مشورہ ٹھیک لگا اور واپس روانہ ہونے نکلا۔ وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ہوا تیز تھی ریگستان میں گرمی بھی بہت ہوتی ہے۔ گاڑی کے شیشے بند کرکے آگے بڑھ گیا۔ کچھ کلو میٹر چلنے پر ہوا زیادہ  تیز ہونے لگی۔ ریت کا طوفان اڑنے لگا اور کچھ دکھنا بند ہو گیا۔ وہ 120کلو میٹر کی رفتار سے گاڑی چلاتا رہا کہ اچانک کسی انجانی چیز سے ٹکرا گیا۔ گاڑی کئی فٹ اوپر اُچھلی اورپھر پلٹ گی۔اندھرکے کو چیرتی ہوئی بس ایک چیخ نکل گئی۔
ڈاکٹر امان کو جب ہوش آیا تو اُس نے ا پنے آپ کوایک  بھیانک محل میں بڑے سے پلنگ پہ پایا۔  اسکا پورا جسم درد کر رہا تھا۔ سر چکرا رہا تھا، ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ہر سو دل دہلانے والی خاموشی کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اسکے بعد پھر بے حس ہوگیا۔ کچھ دیر بعد وہ پھر سے جاگ گیا۔ تو سامنے جن زادی اور باقی جنات کو بھی پایا، جو شاید جن زادی کے قریبی رشتہ دار تھے۔ ڈاکٹر امان گھبراہٹ اور درد کے مارے خوف زدہ ہو کے چیخنے لگا۔ جن زادی قریب آئی اور کہنے لگی ’گھبراو مت، تم ٹھیک ہو‘۔ جن زادی چہک رہی تھی۔ ڈاکٹر امان نے منت کی ’مجھے چھوڑ دو‘ لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ جن زادی نے مزید کہا کہ یہاں سے نکلنے کے علاوہ جو کچھ بھی چاہے حاضر کیا جاے گا اور اب یہی تمہاری دنیا ہے۔ کچھ دنوں بعد ڈاکٹرامان ؔ ٹھیک تو ہوگیا مگر اسکی روح گھائل تھی ۔ اسکو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگے اسکے ساتھ کیا ہوگا۔ محل کے اندر اسکو وقت کے گزرنےکا احساس تک نہیں تھا۔ اسکے لئے وقت تھم سا گیا تھا۔ 
ایک روزڈاکٹر امان کو نیند سے جاگنے پرعجیب سے گانے اور ڈھول بجانے کی آوازیں سنائی دیں۔ پھر جنات کی ٹولی کمرے میں ناچتے ہوئے آئی۔انکا ناچ بھی انکی ذات سے زیادہ بھیانک اور ڈراو نا تھا۔ جن ایک کے اوپر ایک قطاریں بنا بناکے ناچنے لگے۔ بڑا جن چھوٹے جن کو ہاتھ میں لے کر پنکھے کی طرف گھمانے لگا۔جن زادیاں سقف (سیلنگ) پرآرام سے  ناچنے لگیں، انکے بال فرش پر رقص کر رہے تھے۔ یہ منظر اپنے آپ میں ایک عجوبہ تھا۔ ان میں سے ایک جن ڈاکٹر امانؔ کے پاس آکر بولا ’تیارہوجاو‘۔ کچھ جنات کو دولہے کی تیاری سونپ دی گئی اور باقی چلے گئے۔ ڈاکٹر امانؔ کو بطور دولہا تیار کیا گیا۔ جن زادی بھی تیار ہو کے آگئی۔ سارے محل میں دھوم مچائی گئی۔ نہ سمجھ آنے والے پکوان پکے ہوے تھے۔ ایک بڑا جن، جس کے سر پر کسی دھات کا پتیلا جیسا تھا اور شاید یہ اسکے با اختیار ہونے کی نشانی تھی،بولا ’خوب کھاو، پیو، آج میری شہزادی کی شادی ہے‘۔
وقت گزر گیا جن زادی اور ڈاکٹر امان دو بچوں کے ماں باپ بن گےے۔ دونوں بچے ماں پہ گئے تھے۔ ڈاکٹر امان کو کمرے سے باہر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ کئی بار اُس نے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن  ہر بارجن زادی اسکو گردن سے پکڑ کر واپس لے آتی تھی اور یہ بھی بولتی تھی ’اگرپھر سے محل کی اس طرف آگیے تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑونگی‘۔ اس دن سے ڈاکٹر امان کو شک ہوگیا کہ ادھر کچھ ہے۔ ایک دن جن زادی بچوں کو لے کے کہیں چلی گئ۔ ڈاکٹر امانؔ دبے پاوْں محل سے باہر آنے لگا اور اسی اندھیری جگہ پر پہنچا جہاں سے جن زادی اسکو کئی بار واپس لے آئی تھی۔ وہ سانس روک کے چل رہا تھا کہ اسکا پاوْں کسی شیشے کے مٹکے یا ایسی ہی کسی چیز سے ٹکرا گیا۔  ایک دم دھماکے کی آواز آئی۔ ڈاکٹر امان بھی گر گیا ، سنبھلنے کے بعد اندھیرے میں اسکو صرف ایک سفید رنگ کی پر نور  داڈھی والا سر سے زمین کو چھنے والا چوغہ پہن کے نظر آیا، نہ اس وجود کے  ہاتھ دکھتے تھے اور نہ ہی پاوْں۔ ڈاکٹر امان کو لگا شاید جن زادی مجھے اس خطرے سے آگاہ کر رہی تھی۔ اسکویہ بھی لگا کہ وہ ایک نئی مصیبت میں پڑگیا۔ وہ سوچ ہی رہا تھا کہ سفید داڑھی والےجن نے بولنا شروع کیا ’تم نے مجھے کئی سو سالوں کے بعد آزاد کیا، میں اس مٹکے میں بند تھا،میرا نام زانبور ہے’تم کون ہو ؟میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں!۔ ڈاکٹر امان نے کہا ’تم عالم جنات سے ہو میں آدم کی اولاد ہوں، میری کیا مدد کرسکتے ہو؟ مجھے جن زادی ’غہل‘ نے یہاں لایا ہے، تم بھی تو جن ہو‘۔ جن نے کہا ’ہم ان میں سے نہیں ہے،میرے جد امجد حضرت سلیمانؑ کے دربار میں کام کرتے تھے‘۔ اُس نے ڈاکٹرامان ؔ کو مزید یہ سمجھایا غہلؔ کئی لوگوں کو یہاں لائی ہے، جب ان سے جی بھرتا ہے تو ان کو دیوار کے پیچھے بند کر دیتی ہے اور وہ  لوگ وہیں پردم توڑ دیتے ہیں۔ دیوار کے ساتھ کان لگا کرسنو’۔ جب ڈاکٹر امان نے غور کیا تو اسکو سچ مچ انسانوں کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں۔  ڈاکٹر امان نے  جن سے مدد مانگی ،جن زانبور ؔنے ڈاکٹر امان کو ایک  خوشبو دارٹوپی دی اور کہا’جب تک تم یہاں سے بہت دور نہیں جاتے تب تک اسکو اپنے سر پر رکھ لینا‘۔ جن زانبور ؔنے اسکو منزل تک پہنچنے کے چند راستے بتائے، جو کافی لمبے تھے مگر اس کے مطابق محفوظ تھے اور کہا تم کو صحیح رستہ ملے گا۔ 
زانبورؔ کے بتائے ہوئے لمبے سفر کو طےکرنے کے بعد وہ برابر اسی جگہ پر پہنچ گیا جہاں اسکی گاڑی پلٹ گئ تھی اور اپنی گاڑی وہیں پر کھڑی دیکھی۔ گاڑی کے قریب گیا ۔ اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نےگاڑی کاانجن ابھی بھی گرم دیکھا اور وہ کاغذات وغیرہ سارے اپنی اصلی حالت میں تھے۔وہ گاڑی میں بیٹھا اور منزل کی اور روانہ ہوا۔ 
 
 ���
وزیر باغ ،سرینگر، کشمیر،rehanashajar@gmail.com
 

تازہ ترین