اسٹابری کے کاشتکار لاک ڈائون سے پریشان

پچھلے سال کی طرح امسال بھی مالی نقصان کا خدشہ لاحق

تاریخ    21 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
سرینگر// وادی کشمیر میں اسٹابری پھل کی کاشت کرنے والے کسان اور اس کی تجارت سے وابستہ تجار اس سال بھی پریشان نظر آ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں امسال بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدید نقصان سے دوچار ہونے کا اندیشہ لاحق ہے ۔انہوں نے حکومت سے اس پھل کی کاشتکاری سے وابستہ کسانوں کے لئے ایک مربوط پالیسی بنانے کی اپیل کی ہے ۔ اسٹابری وادی کشمیر میں موسم سرما کے اختتام کے بعد تیار ہونے والا سب سے پہلا پھل ہے ۔ پودوں سے اتارنے کے بعد یہ پھل صرف تین سے چار دنوں تک ہی تازہ رہ سکتا ہے ۔ اس پھل کو ملک کے مختلف حصوں میں سپلائی کیا جاتا ہے ۔ماہرین کے مطابق جموں وکشمیر اس پھل کی کاشت کے لئے موزوں جگہ ہے ۔سرینگر کے مضافاتی علاقہ حضرت بل کے گوسو نامی گاؤں، جو کشمیر کا اسٹابری ولیج کہلاتا ہے ، کے ایک کسان منظور احمد نے کہا کہ اس سال فصل کافی اچھی ہے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے خریداری اور پھل کی ریٹ کافی کم ہے جس سے ہمیں کافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں 80 سے 90 فیصد لوگ اسی پھل کی کاشتکاری کر کے اپنے اہل و عیال کو پالتے ہیں لیکن گذشتہ دو تین برسوں سے اب نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔موصوف نے کہا کہ اب حالات ایسے ہیں کہ لوگ اس کی کاشت کو خیر باد کہہ کر رہے ہیں اور روزی روٹی کے لئے دوسرے ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا: 'امسال سال گذشتہ سے بھی حالات بدتر ہیں کیونکہ پچھلے سال کئی لوگ ہمارے گھر ہی آ گئے اور ہم سے مال خریدا لیکن اس سال ہمارے پاس مال خریدنے کے لئے کوئی آتا ہی نہیں ہے ہم مال منڈی بھیجتے ہیں لیکن ریٹ کافی کم ہے جس سے خرچے کی ہی بھر پائی ہوسکتی ہے '۔منظور احمد نے حکومت سے معاوضے کی مانگ کی اور اس پھل کی کاشتکاری سے وابستہ کسانوں کے لئے زعفران کی فصل سے وابستہ کاشتکاروں کی طرز پر ایک پالیسی بنانے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پھل کی کاشتکاری کو ایک ایسا منافع بخش تجارت بنائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے وابستہ ہوکر اپنے روزگار کی سبیل کر سکیں۔پارمپورہ سبزی منڈی کے صدر بشیر احمد نے بتایا کہ بازار بند ہونے کی وجہ سے اسٹابری پھل کی ریٹ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔
 

تازہ ترین