تازہ ترین

قدرتی آکسیجن اور مصنوعی آکسیجن | شجر کاری سے ہو ا صاف و شفاف رہتی ہے

توجہ طلب

تاریخ    8 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


محمدتوحیدرضا
جب سے عالمی وبا کورونا وائرس دنیا میں پھیلی ہے تب سے عالم ِدنیا اس کے دفع کے لئے ہر ممکن کوشش میں لگی ہے ۔کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ دنیا میں متعدد امراض جنم لئے ہیں اوروبائی امراض سے لا کھوں افراد لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں۔ ۲۰۱۹ ہی میں کورونا نے اپنی پہچان شہر اوہان سے کرائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ماہرین کے مطابق اس وبا پر شکنجہ بھی کسا گیا مگراپریل ۲۰۲۱ میں پھر سے کورونا وائرس بڑی تیزی کے ساتھ کئی ملکوں کو لاک ڈائون کرنے پر مجبور کردیا ۔انہی ملکوںمیں ایک ملک ہندوستان بھی ہے۔ اب کورونا کے بڑھتے معاملات میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ اپریل۲۰۲۱ میں کورونا کا ایسا قہر جاری ہے کہ ایک دن میں ساڑے تین لاکھ سے بھی زائد کورونا مثبت پائے جارہے ہیں۔کورونا کی دوسری لہر کا قہر اتنی شدت کے ساتھ قائم ہے کہ کہیں کورونا سے انسانوں کی ا موات واقع ہورہی ہیں اور کہیں کورونا سے شفایابی بھی حاصل کررہے ہیں اور اکثر جگہ وینٹی لیٹر کی کمی ،آکسیجن کی کمی ،بیڈکی کمی، کہیں ہسپتالوں کی کمی ،ڈاکٹروں کی کمی کے باعث انسان لقمہ اجل بھی بن رہے ہیں۔ قبرستانوں میںدفن کرنے کے لئے ،مشانوں میں گاڑنے کے لئے ، غیر مسلموں کو شمشان گھاٹوں میں جلانے کے لئے لائن لگی ہوئی ہے۔ آکسیجن کی اتنی قلت کہ لوگ راستوں پر ،کاروں میں، گھروں میں ،ہسپتالوں میں مررہے ہیں۔ ایک گھر میں دو دو تین تین اموات بھی واقع ہورہی ہیں۔ صرف آکسیجن کے نام سے ہزارہا روپیہ وصول کئے جارہے ہیں۔ملک ِ ہند کی یہ حالت دیکھ کر دوسرے ممالک مدد کے لئے آگے بڑھے ہیں ۔سرخیوں میں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کے شہر ِ مبارک سے آکسیجن بھیجی گئی ہے ۔یہ آکسیجن بلاتفروملت ہر ریاست کی ہسپتالوں تک پہنچائی جارہی ہے۔مشہورِ زمانہ شعرہے  ؎
 کیوں آکے رو رہا ہے محمد کے شہر میں 
 ہردرد کی دوا ہے محمد کے شہر میں 
قدرتی ہوااورشجرکاری کی اہمیت 
 ہوا کی وجہ ہی سے انسان زندہ رہتا ہے۔ اگر ہو ا بند ہوجائے تو ہر جاندار شئے فنا ہوجائے گی ۔ہوا کا زندگی میں اہم رول ہے ۔جب تک سانس چل رہی ہے ،اس وقت تک زندہ اور جب سانس بند ہوجائے تو انسان مردہ کہلاتا ہے۔ اللہ پاک نے انسانوں کے لئے ہو ا ،پانی ،مٹی، آگ کا انتظام فرمایا تا کہ انسان دنیا میں رہ کر اس کی نعمتوں کا استعمال کرکے شکر ادا کرے۔اللہ پاک نے سورہ بقرہ آیت ۱۵۲میں فرمایا’’تم مجھے یاد کرو میں تمہارا چرچہ کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری ناکرو‘‘۔
 قدرتی پاک و صاف ہواکے استعمال سے انسان تندرست رہتا ہے۔ اسی لئے شجر کاری کی جاتی ہے کہ پیڑ پودوں سے قدرتی پاک و صاف ہوا نکلتی ہے ۔ماہرین کی تحقیق کے مطابق انسان آکسیجن جذب کرتا ہے جس کا منبع و چشمہ درخت و نباتات ہیں جبکہ درخت و نباتات انسان ودیگر مخلوقات سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنی خوراک میں شامل کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں اور درجہ حرارت کو اعتدال بخشتے ہیں۔ خطرناک جراثیم کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔ ماہرین نباتات ڈاکٹر ایس کے جین کے مطابق ایک اوسط سائز کا درخت دو خاندانوں سے خارج شدہ کار بن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کر کے ہوا میں آکسیجن پیدا کرتا ہے ۔علاوہ ازیں ہمارے گھروں میں گیس سے چلنے والے آلات ،کارپٹ ،قالین ،ریفریجریٹر بھی ہوا کو آلودہ کرتے ہیں۔ ایک اوسط گھروں میں ۱۰ سے ۱۵ عدد پودے ضروری ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس طرح پودے بونا وکاشت کرنا ضروری ہے، بالکل اسی طرح اس کی آبیاری اور حفاظت بھی بہت اہم ہے ۔ موجودہ دور میں چونکہ سائنس و ٹکنالوجی کا دور ہے، نت نئے ایجادات صنعتی کارخانوں و فیکٹریوں ،گاڑیوں ، سمندر ی، ہوائی جہازوں سے نکلنے والے دھویں نے فضائی ،زمینی، سمندری آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ کیا ہے۔فضامیں موجود زہریلے مادے انسان و دیگر حیوانات کے جسم میں سانس کے ذریعے داخل ہورہے ہیں جس کی وجہ سے تمام حیوانات مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں ۔البتہ ان کے مضر اثرات کا تدارک ہم شجر کاری وپودوں کی تعداد بڑھا کر ہی کرسکتے ہیں ۔
شجر کاری کے حوالہ سے بھی اسلام کی تعلیمات واضح اور روشن ہیں ۔قرآنِ کریم سورۃ النحل آیت نمبر ۱۰ ،۱۱، میں اللہ پاک نے فرمایا ’’وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا ،اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چراتے ہو ،اس پانی سے تمہارے لئے کھیتی اُگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اورہر قسم کے پھل۔ بیشک اس میں نشانی ہے دھیا ن کرنے والوں کو‘‘۔اس آیت میںدرختوں پودوں کو جانوروں اور انسانوں کی خوراک بتایا گیا ہے اور سورہ یٰسین آیت نمبر ۸۰ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’جس نے تمہارے لیے ہرے پیڑ میں سے آگ پیدا کی جبھی تم اس سے سلگاتے ہو‘‘۔اس آیت میں درختوں سے آگ کے حصول کا فائدہ بتا یاگیا ہے اور سورہ رحمٰن آیت نمبر ۶ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اورسبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں‘‘۔ہمارے فائدہ کے لئے سبزے اور پیڑ ہیں یہ سب اللہ پاک کی بارگاہ میں سجدہ کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے درختوں اور کائنات کے اندر موجود اشیاء سے عالم دنیا کو مزین کیا ہے۔ سورہ کہف آیت نمبر ۷ میں اللہ پاک نے فرمایا’’بیشک ہم نے زمین کا سنگار کیا جوکچھ اس پر ہے ‘‘۔
 سبحان اللہ شجر کاری ایک صدقہ جاریہ ہے۔ ریاض الصالحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا ،جومسلمان کوئی پودا اُگاتا ہے تو اس درخت میں سے جوکچھ کھایا جائے وہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے اور جوکچھ اس سے چوری ہوجائے ،وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہوجاتا ہے اور حضرت امام مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت بھی ہے کہ جو کچھ اس سے درندے یا پرندے کھالیں وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے اور متعدد احادیث میں شجر کاری کاذکر موجود ہے۔
قدرتی آکسیجن اورمصنوعی آکسیجن
ایک قدرتی آکسیجن ہے اوردوسری مصنوعی آکسیجن۔ آج مصنوعی آکسیجن کے لئے روزانہ ہزاروں روپیہ خرچ کئے جارہے ہیں اور اس آکسیجن کی محدود حد ہے ۔جب پہلا آکسیجن سلنڈرختم ہوجائے تودوسرا آکسیجن سلنڈلگایا جاتا ہے ۔مریض آکسیجن کے سہارے کئی کئی دن زندہ رہتے ہیں اور اکثر حرکت ِ قلب بند ہونے کی صورت میں یا سانس کی تکلیف کی وجہ سے روح قفس ِ عنصری سے پرواز کرجاتی ہے اللہ اکبر۔ کبھی ہم نے غور کیا اس بات پرکہ قدرتی ہوا جو اللہ رب العزت ہماری پیدائش سے آخر سانس تک مفت میں فراہم کرتا ہے ،ہم روزانہ کتنی بار قدرتی آکسیجن لیتے اور چھوڑ تے ہیں۔ایک تندرست انسان ایک منٹ میں ۱۶ سے۲۰ مرتبہ سانس لیتااور کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑ تا ہے۔ایک گھنٹے میں اور۲۴ گھنٹہ میں اور پوری عمر میں کتنی مرتبہ سانس لیتا ہوگا ،ہم خود حساب لگا سکتے ہیں ۔
کبھی اس قدرتی ہوا کے لئے کسی نے ایک روپیہ بھی خرچ کیا ؟ نہیں قدرتی ہواکے سہارے قلب بھی حرکت کرتاہے۔ایک انسان کا دل ایک منٹ میں ۷۲ مرتبہ دھرکتا ہے۔ ۲۴ گھنٹے میں ایک ہزار سات سو چوبیس بار قلب حرکت کرتا ہے تو پوری زندگی میں لاکھوں بار قلب حرکت کرتا ہے ۔یہ اس وقت ممکن ہے جب انسان میں سانس چلتی ہو، سانس چلنے کے لئے ہوا کا ہونا بیحد ضروری ہے اور پاکیزہ صاف وشفاف ہوادرختوں سے ملتی ہے اور ڈاکٹروں کا مشورہ بھی یہی ہے کہ ہرے بھرے درختوں کے سائے میں چہل قدمی کرنے سے مریض جلد شفایابی حاصل کرتے ہیں ۔اسی لئے پارک وغیرہ میں پیڑ پودے اور بڑے بڑے درخت لگائے جاتے ہیں۔انسان علی الصبح چہل قدمی کرتاہے اور اس کے برعکس ہوا صاف و شفاف نہ ہو تو بھی انسان بیمارپڑتا ہے ۔
اس تحریر کا نچوڑ یہ ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں اور قدرتی ہوا کا استعمال کررہے ہیں،ان سب کا مالک ایک اللہ ہے ۔ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو مہلک عالمی وباء کورونا وائرس سے محفوظ رکھے آمین ۔
 کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر 
 خدا مہربان ہوگا عرشِ بریں پر
رابطہ ۔9886402786
 

تازہ ترین