ماہ صیام کی رونقیں کورونا قہر کے سائے میں

پیامِ رمضان

تاریخ    4 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


نثاراحمد حصیر القاسمی
انسانی بحران ، مصائب ومشکلات ‘بدترین حالات اور آزمائش کی گھڑی میں عام طور پر لوگ دین ومذہب کا سہارا لیتے اور اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو کر عبادتوں کے ذریعہ سکون واطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر کرونا وباء کے پھیلائو کے زمانہ میں اہل اسلام تو اپنے رب کو راضی کرنے کی طرف متوجہ ہوئے توبہ واستغفار میں مشغول ہوئے لیکن اس ملک کے دیگر اہل وطن کم ہی اس وباء سے بچنے کے لئے دین ومذہب کا سہارا لیا، یا اہل یورپ اور یہود ونصاری کم ہی چرچوں اور عبادت خانوں کا رخ کیا، خود دنیا کے مسلم ملکوں نے بھی مساجد کے دروازے بند کردیئے اور با جماعت نماز کی ادائیگی سے روک دیا۔ اور حج وعمرہ جیسی عظیم الشان عبادت پر پابندی لگا دی۔ 
اس بحث سے قطع نظر کہ کرونا آسمانی بلاہے یا زمینی پیدا وار، یہ قدرتی آفت ووباء ہے یا مصنوعی اور اس میں مارے جانے والے حقیقی معنوں میں اس مرض کا شکار ہو کر مرے ہیں یا انیہں اس نام پر مارا گیا ہے، یہ ایک راز ہے جس کا انکشاف رفتہ رفتہ ایک وقت میں ہوجائے گا۔ مگر یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ ایک وائرس ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ ساری دنیا میں پھیلاہے۔
اس وقت ہندوستان کی صورتحال نہایت سنگین بنی ہوئی ہے، کمبھ میلا اوراس سے لوٹنے والے سادھوئوں نے پورے ملک کو کوہ آتش فشاہ پر لا کھڑا کیا ہے، اور اس میلے کے بعد سے پورا ملک کرونا کی مار سے بلبلا رہا ہے۔ لاکھوں لوگ موت وحیات کی کشمکش میں ہیں، ہزاروں جانیں جا چکی ہیں، بڑی بڑی مذہبی شخصیات سیاسی قائدین اور عام انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ مسلمان ہی نہیں ساری دنیا کے لوگ آج یہ اعتراف کررہے ہیں کہ اسلامی تعلیمات ہی اس وبائو کو قابو کرنے اور اس کی زنجیریں توڑنے میںمعاون ومدد گار ثابت ہوسکتی ہیں۔ بشرطیکہ ان تعلیمات پر سختی سے عمل کیا جائے۔
دین اسلام نے اپنی متوازن تعلیمات کے ذریعہ اس طرح کی وبائوں کو کنٹرول کرنے کا فارمولا پیش کیا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک اس پر عمل بھی کررہے ہیں۔ خواہ وہ ملک مسلم ہو یا عیسائی یا کوئی اور، اسلام نے کورنٹائن ہونے کے  اصول وضابطے مقرر کئے اور صفائی ستھرائی کی سختی سے تاکید کی ہے جس کا قدرے تفصیل سے تذکرہ ہم آگے کریںگے۔
امریکی اسکالر کریج کونسیڈین نے ایک سال قبل 21 مارچ 2020 میں نیو یاک میگزین میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی اور اس میں ماہر قوت مدافعت ڈاکٹر انتونی فوسی اور ہیلتھ نامہ نگار کنجے کے حوالہ سے ذکر کیا تھا کہ صفائی ستھرائی کی پابندی  قرنطیہ  اور سماجی دوری کا اصول متعدی بیماریوں کے پھیلائو پر قدغن لگانے میں  موثر ثابت ہوسکتی ہے اور یہ طریقہ کو وباء کے وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں سب سے زیادہ موثر وکار گر ہے۔
نونسیڈین اسلام اور اس کی تعلیمات سے متعلق دو کتابیں تالیف کرچکے ہیں، انہوں نے واضح کیا ہے کہ دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وبائوں کے پھیلنے کے زمانے میں صفائی ستھرائی کا سختی سے اہتمام کرنے اور ہیلتھ پابندی وقرنطیہ کی ہدایت سب سے پہلے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اسلام کے پیغمبر محمد صلعم نے دی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیغمبر اسلام جان لیوا بیماریوں اور اس سے متعلق مسائل کے ماہر نہیں تھے مگر ان کے پاس نہایت عمدہ وشاندار ہدایات ہیں جو نو پید کرونا وائرس جیسے وباء کے ترقی کرنے اور پھیلنے سے روکنے کے لئے اور اس پر قابو پانے کے لئے کافی ہیں۔
اللہ کے نبی آخر الزماں صلعم نے مبتلائے مرض ووباء کے بارے میں ہدایت دی ہے کہ انہیں صحت مند لوگوں سے الگ رکھا جائے اور عام انسانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ روزانہ اپنے جسم کی اور رہنے کی جگہ کی صفائی کا اہتمام رکھیں، پاک وصاف رہیں، اور ہر طرح کی نجاستوں اور آلودگیوں سے رہنے کی جگہ کو بچائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ 
اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوںاورپاک وصاف رہنے والوں کو پسند کرتے ہیں،اور اللہ کے نبی صلعم نے ارشاد فرمایا ہے کہ نظفوا افینتکم ولاتشبھوا بالیھود (اپنے گھر کے صحن کو صاف رکھا کرو(او گندے رہنے والے) یہود کی مشابہت اختیار مت کرو)
ان اصولوں کی  پابندی سے بڑی آسانی کے ساتھ خود کومتعدی بیماری اور اس کے وائرس سے محفوظ رکھ سکتا ہے، اللہ کے نبی صلعم نے وباء کے زمانے میں بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے اور گھومنے پھرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فتنوںسے تحفظ کے بارے میں فرمایا ’’اپنے آپ کو اپنے گھروں تک محدود کرلو‘‘۔ 
(سنن ترمذی؛ 2204)
اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلعم سے عرض کیاکہ فتنوں اور پریشانیوں سے نجات کی کیا صورت ہے؟ تو آپ صلعم نے ارشاد فرمایا’’زبان پر کنٹرول رکھو، اپنے گھر ہی کو کافی سمجھو یعنی گھر ہی میںزیادہ تر رہو، اوراپنے گناہوں پر روتے رہو‘‘۔ 
(ترمذی؛2406)
جہاں وباء پھیل چکی ہو اس کے بارے میں ہدایت ہے کہ لوگ وہاں نہ جائیں اور وہاں والے باہر نہ آئیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا ’’جب تم کسی جگہ کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون ہے تو وہاں مت جائو ، اور جہاںتم رہ رہے ہو اگر وہاں یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے مت نکلو، اور جسے یہ وبا اور بیماری لاحق ہوگئی ہو اس سے دوری اختیار کرنے کا اللہ کے نبی صلعم نے حکم دیا ہے‘‘۔ 
حضرت عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ثقیف کے وفد کے ساتھ آپ صلعم سے بیعت کرنے ایک ایسا شخص بھی آیا جو مرض جذام میں مبتلا تھا تو آپ صلعم نے اس سے ملاقات کئے بغیر یہ پیغام اسے بھیج دیا کہ میں نے آپ کو بیعت کرلیا ہے ، آپ واپس چلے جائیں۔ (صحیح مسلم: 5958)۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے ارشاد فرمایا کہ مرض جذام میںمبتلا شخص سے ایسے دور بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ 
(بخاری؛5707)
ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیا رکرنا اللہ پر اعتماد وبھروسہ کرنے کے منافی نہیں ہے۔ حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا میں اپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ دوں اور اللہ پر بھروسہ کروں؟ تو آپ صلعم نے فرمایا کہ نہیں ایسا کرنا اللہ پر بھروسہ کرنا اور توکل نہیں بلکہ اونٹنی کو باندھو پھر اللہ پر بھروسہ کرو، یعنی اسباب کو اختیارکرو پھر انجام کو اللہ پر چھوڑ دو۔ 
(شعب الایمان للبیہقی ؛1159) 
ہاتھوں اور چہرے وغیرہ کو بار بار دھونے کا حکم اسلام کا اٹوٹ حکم ہے ، دین میں پانچ وقت کی نماز ہے، جس کے لئے وضوء ضروری ہے، اسی طرح سو کر اٹھنے کے بعد بھی ہاتھ دھونے کا حکم ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ جب بھی تم میں سے کوئی نیند سے بیدا ر ہو تو اسے چاہیے کہ اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں نہ ڈالے یہاں تک کہ اپناہاتھ تین بار خوب اچھی طرح دھولے۔ کیونکہ اسے نہیںمعلوم کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں (نامناسب جگہ ) لگا ہے۔ 
اسی طرح اللہ کے نبی صلعم نے کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھونے کی ہدایت دی ہے ،ارشاد ہے کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھونے میں ہے۔ 
(ترمذی) 
دین اسلام میں تدابیر اختیارکرنا ضروری ہے، اور ان تدبیروں میں سے ایک کورنٹائن ہونے کی صورت ہے جس سے سب سے پہلے رسول اللہ صلعم نے دنیا کو روشناس کرایا۔ آپ نے وباء کی جگہ جانے اور وہاں سے نکل کر دوسری جگہ پہنچنے سے منع کیا ، بلکہ وہاں سے نکل کر دوسری جگہ جانے کو میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف قرار دیاہے۔ جو کہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اور اس جگہ رہتے ہوئے وبا سے متاثرہو کو فوت ہونے والے کو شہید کا درجہ عطا کیا ہے۔ 
چھینک اور جمائی کے وقت منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے ڈھک لینے کی تعلیم ہے، اس لئے اگر ماسک کے استعمال کے لئے کہاگیا ہے تو اس کی پابندی ضروری ہے۔
ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کے سامنے گڑگڑانا ، توبہ واستغفار کرنا اور دعا کرنا چاہیے کہ وہ اس وباء کو دور کرے، پوری انسانیت کو اس کی ہلاکت خیزی سے بچائے، ہمیں اس بابرکت ماہ میں چاہیے کہ ہم کثرت سے صدقہ وخیرات کریں، یتیموں ، بیوائوں اور عام غریبوں ومسکینوں کا سہارا بنیں، مدارس اسلامیہ کی مدد کریں اوراس میں پڑھنے پڑھانے والوںکی اعانت کریں، حدیث کے اندر ہے کہ اللہ کے نبی صلعم نے ارشاد فرمایا کہ ا پنی بیماریوں کا علاج صدقہ سے کرو۔ 
(النن الکبریٰ للبیہقی؛ 6593)
حدیث میں یہ بھی ہے کہ پوشیدہ صدقہ رب تعالیٰ کے غضب کو دور کرتا اور علانیہ صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں بھی اور اس کے بعد بھی ہمیں چاہیے کہ حکومت ہدایات کی پابندی کے ساتھ مساجد ومدارس کو ویران ہونے سے بچائیں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس بیماری کا مقابلہ کریں، خوف وہراس سے بچیں اور ہمت سے کام لیں۔
���
 ای میل۔nisarqasmi24@gmail.com
موبائل نمبر۔0091-9393128156
 

تازہ ترین