ریاسی ضلع کے درجنوں دیہات میں پانی کی شدید قلت

تاریخ    3 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


زاہد ملک
ریاسی//جہاں ایک طرف سے کوروناوائرس بیماری کا قہر بڑھتا جارہا ہے اور لوگ گھروں میں ہی محصور ہیں وہیں دوسری جانب لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ضلع ریاسی کے دور دراز علاقہ جات سے لوگ شکایات کر رہے ہیں کہ انہیں پانی کی شدید قلت کا سامناہے۔ضلع کے درجنوں دیہات بدھن،کرمکٹھا،کینتھلی وارڈ نمبر،5,ڈیمی،سلدھار،مالا،بٹھوئی،نیرم رنگبنگلہ،شیدول،دیول وندارہ،بگوداس،منجیکوٹ،شیرگڑی،ممنکوٹ وغیرہ کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں محکمہ جل شکتی کی جانب سے بہتر پانی سپلائی نہیں مل رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی باشندوں نے کہا کہ ایک طرف سے کوروناوائرس بیماری کا مشکل دور چل رہا ہے اور کورونا کرفیو بھی نافذ ہے لوگوں کو ہدایات دی جارہی ہے وہ گھروں میں ہی بیٹھے وہیں دوسری جانب ماہ رمضان بھی چل رہا ہے ،اس دوران اگرچہ لوگوں کو پینے کے پانی کی بہتر سپلائی نا ملے وہ کس طرح سے بسر کریں گے۔پنچایت سلدھار وارڈ نمبر 4 کوس کنڈ کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 2 کلومیٹر دوری پہ چشموں سے پینے کیلئے پانی لانا پڑتا ہے جبکہ محکمہ جل شکتی  من مرضی سے ہی انہیں پانی فرہم کرتا ہے۔لوگوں نے کہا کہ انہوں نے کئی مرتبہ محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ افسران کو اپنی مشکلات سنائی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔اسی طرح سے منجی کوٹ دلہ کے لوگوں نے کہا کہ ہلی سے منجیوکوٹ گنجولی جانے والی پانی کی پائپیں سوکھی پڑی ہے۔لوگوں نے مزید کہا کہ اگرچہ محکمہ وقت پر کرایہ وصول کرتا ہے پھر عوام کو بہتر سپلائی فرہم کرنے میں کیا دقت ہے۔اس حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے ایگزیکٹیو انجینئر پی ایچ ای درماڑی ستپال بھگت سے بات کی توانہوں نے کہا کہ جہاں جہاں پر بھی مشکلات آرہی ہیں لوگ ٹیلی فون کے ذریعے ان کے پاس شکایت درج کروائیں وہ ان کے مشکلات کا ازالہ کریں گے۔
 

تازہ ترین