رمضان ایثار و قربانی کا مہینہ

فلسفہ رمضان

تاریخ    30 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


صہیب قاسم ندوی
رمضان کریم کا بابرکت مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے،نیکیوں کا موسم بہارہے۔ اس مہینے میں جہاں ایک طرف بدنی عبادات کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے تو وہیںدوسری طرف مالی عبادات کا ثواب بھی دوہرا کر دیا جاتا ہے، کم عمل زیادہ فائدہ۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں اجر و ثواب کی نیت سے جذبہ ایثار و قربانی کے ساتھ مالی عبادات پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور دوہرے اجر کے مستحق بنیں۔
 اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک آدمی کسی چیز کا خود ضرورت مند ہو لیکن جب کوئی دوسرا حاجت مند اس کے پاس آجائے تو وہ اپنی ضرورت کی پرواہ کئے بغیر اس شخص کو اپنی چیزیں دیدے اورخود مشکلیں اور پریشانیاں برداشت کرتا رہے، یہ جذبہ ایثار و قربانی کہلاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا تعلق دل اور نیت سے ہے اور اخلاقیات میں اس کا مقام بلند و بالا ہے کیونکہ جب کوئی اپنی ضرورت کوپس پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو پورا کرتاہے تواس وقت اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح راضی ہوتا ہے اور اس کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں بڑا محبوب اور مقبول ہوتا ہے اس لئے اسلام میں اس کی بے پنا ہ فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ خود فاقہ سے ہوں اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘ 
(سورۃ الحشر: آیت نمبر ۹)
ہمارے پیارے آقا حضور اقدسؐکا خود اپنا طرز عمل بھی یہی تھا اوروہ اپنے صحابہؓ کو بھی اس چیز کی بڑی تعلیم اور ترغیب دیتے تھے۔ جذبہ ایثار و قربانی کے پیش نظر کوئی شخص آپؐ سے اپنی ضرورت کی کوئی چیز مانگ لیتا تو اسے خود پر ترجیح دیتے ہوئے وہ چیزاسے عنایت فرمادیتے تھے۔چنانچہ حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہؐ کی خدمت میں ایک بْنی ہوئی چادرہدیہ کے طور پر لے کر آئی اور کہنے لگی ایاللہ کے رسول ؐ!میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بْناہے تاکہ آپؐکو پہناوں۔ رسول اللہؐنے اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قبول فرمالیا، پھرآپؐاسے تہہ بند کے طورپر باندھ کرہمارے درمیان تشریف لائے توایک صحابیؓ نے آپ ؐکو وہ چادر اوڑھے دیکھا تو عرض کیا، یا رسول اللہؐیہ چادر تو بہت ہی اچھی ہے، یہ تومجھے عنایت فرمادیجئے۔ آپؐ نے فرمایابہت اچھا۔پھرنبی کریمؐ مجلس میں بیٹھ گئے،پھرواپس گئے اورا س چادرکواتارکرلپیٹا اور اس کو اس آدمی کے پاس بھیج دیا۔ پھر جب رسول اللہ ؐ اس مجلس سے اٹھ گئے تو بعض ساتھیوں نے ان صاحب کو ملامت کی اور اس سے کہاتم نے یہ اچھا نہیں کیانبی ؐنے یہ چادراپنی ضرورت سمجھ کر پہنی تھی اور آپ ؐ نے حاجت مندی کی حالت میں یہ چادر اس خاتون سے قبول کی تھی، اس کے باوجود تم نے اسے حضورؐسے مانگ لیاحالاں کہ تم جانتے ہو کہ آپ ؐکی عادتِ کریمہ یہ ہے کہ جو چیز بھی آپ سے مانگی جائے آپ اس کو دے ہی دیتے ہیں۔ اس صحابی نے کہا اللہ کی قسم! میں نے یہ پہننے کیلئے نہیں مانگی،میں نے تویہ اس لئے مانگی ہے تاکہ (آپؐ کے جسم مبارک سے لگی ہوئی بابرکت چادر)میرا کفن بن جائے۔راوی فرماتے ہیں کہ یہ چادر اس کے کفن کے ہی کام آئی۔
(بخار ی شر یف)
 قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ایثار کواہل مدینہ کا وصف قراردیاہے کیونکہ مسلمان جب مکہ مکرمہ میں ستائے جانے لگے، کفارِ مکہ اہل ایمان پر طرح طرح کے مظالم ڈھانے لگے تو مسلمان اپنے محبوب وطن مکہ المکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آئے تو وہاں پہلے سے رہنے والوں نے مہاجرین کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جس میں جذبہ ایثار قدم قدم پر نمایاں نظر آتا ہے۔تاریخ میں اس بے لوث جذبے کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ در حقیقت خود ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کی ہر لحاظ سے مدد کی اس لئے اللہ کو ان کا ایثار بہت پسند آیا۔ 
ایسی ہی ایثار و قربانی کا ایک بے نظیر واقعہ یوں ہے کہ مسجدنبویؐ میں شام کے وقت ایک مسافر آتا ہے۔ مہمان کو بھوک لگی ہوئی ہے، اسے اپنی بھوک مٹانی ہے۔ جانتے ہیں یہ کس کا مہمان ہے؟ یہ اللہ کے رسولؐکامہمان ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐسب سے بڑے مہمان نواز تھے۔آپؐ نے اپنی ایک اہلیہ کے ہاں پیغام بھیجا کہ ایک مہمان آیا ہے، اس کو کھانا کھلانا ہے۔ گھر میں کھانے کے لیے کچھ ہے؟ جواب میں ہماری اماںجان نے کہلوا بھیجا کہ گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں۔ 
قارئین کرام! آگے بڑھنے سے پہلے ذرا سوچئے، غور کیجیے کہ یہ بیت نبوی ہے، مگر گھر میںسوائے پانی کے کچھ نہیں۔ اماں عائشہ صدیقہؓ سے ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیںکہ ہمارے گھر میں بعض اوقات کئی ماہ گزر جاتے، مگر چولہا جلنے کی نوبت نہ آتی تھی۔ سوال کرنے والے نے پوچھ لیا: اماں جان! پھر آپ کا گزارا کس چیزپر ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا:بیٹا! ہمارا گزارا پانی اور کھجور پرہوتا تھا۔ لگتا کچھ یوں ہے کہ اْس روز بیت نبوی میں کھجوریں بھی نہیںتھیں۔ اللہ کے رسولؐنے صحابہ کرام کو شفقت بھری نگاہوں سے دیکھااور سوال کیاآج تم میں سے کون میرے مہمان کی مہمان نوازی کرے گا؟ صحابہ کرام میںسے ایک صحابی سیدنا ابو طلحہ انصاری ؓکہتے ہیں اللہ کے رسولؐ! آپؐکے اس مہمان کی میزبانی میں کروں گا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہوں۔سیدناابو طلحہ انصاریؓمدینہ کے بڑے مشہور اور امیر لوگوں میں سے تھے۔ ان کا گھر مسجد نبوی ؐسے ملا ہوا تھا بلکہ اب تو وہ مسجد نبوی ؐکا حصہ بنچکا ہے۔ ان کی اہلیہ سیدہ ام سلیمؓ بھی بڑی عظیم صحابیہ تھیں۔ گھر میںچھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ رات کا وقت تھا، اندھیرا پھیل چکا تھا،سیدناابوطلحہ نے مہمان کو ساتھ لیااور اپنے گھر آ گئے۔ مہمان کو مہمان خانہ میں بٹھایا، اپنی اہلیہ سے کہایہ اللہ کے رسولؐکا مہمان ہے،اس کی عزت کرنی ہے۔ مہمان کی عزت کیا ہے؟ یہی کہ اس کی تکریم کی جائے، اسے پیٹ بھرکر کھانا کھلایا جائے۔ اس کا مسکرا کر استقبال کیا جائے۔ اللہ کے رسولؐکی مشہور حدیث ہے’’جو شخص اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘ سیدناابو طلحہ اپنی اہلیہ سے پوچھ رہے ہیں اس وقت گھر میں کھانے کے لیے کیا کچھ ہے؟ انہوں نے جواب دیا گھر میں سوائے بچوں کی خوراک کے اور کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابو طلحہؓ بڑے امیر آدمی تھے۔ان کا کھجوروں کا باغ تھا، مگر اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ بعض اوقات امیر لوگوں کے ہاں بھی کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو جاتی ہیں۔ دونوں میاں بیوی آپس میں مشورہ کر رہے ہیں کہ کھانا تو ایک فرد کا ہے۔ بچوں کوکیا کھلایا جائے؟ سیدناابو طلحہؓ سیدہ ام سلیمؓ سے کہتے ہیں ایسا کرو کہ کھاناتیار کرو، بچوں کو بھوکا سلا دو۔ جب مہمان کھانے کے لیے بیٹھ جائے توچراغ کو بجھا دینا۔ حضراتِ ام سلیم اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہم ایثارو قربانی کی ایک نئی داستان رقم کرنے جارہے ہیں۔سیدہ ام سلیمؓ نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ رات ہو چکی تھی، بچوں سے کہا جاتا ہے کہ تم سو جاو۔ انہیں بھوکا ہی سلا دیا جاتا ہے۔ ام سلیم نے دستر خوان لگایا، کھانا صرف ایک ہی شخص کے لیے کافی تھا۔شرفاء کے ہاں دستور چلا آ رہا ہے کہ میزبان بھی مہمان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے۔ اب اگر میزبان بھی مہمان کے ساتھ کھاناکھائے گا تو مہمان تو بھوکا رہ جائے گا۔ پروگرام پہلے سے طے ہو چکا ہے کہ ام سلیم چراغ درست کرنے کے بہانے چراغ بجھا دیگی۔ میزبان مہمان کے ساتھ بیٹھے گا، مگر کھانا نہیں کھائے گا۔ مہمان کو کھانا کھانے کا پورا موقع دیا جائے گا۔اس طرح وضع داری پر بھی آنچ نہیں آئے گی اور مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھا لے گا۔ مہمان کو آوازدی جاتی ہے کھانا تیار ہے، تشریف لائیے۔ میزبان اور مہمان دستر خوان پر بیٹھ گئے ہیں۔ اْدھر مہمان نے لقمہ منہ میں ڈالا،اِدھر ام سلیم چراغ کو درست کرنے کے بہانے بجھا دیتی ہیں۔ مقصد بڑا واضح ہے کہ مہمان کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو جائے۔ کہیں مہمان بھوکا نہ رہ جائے، مہمان کھانا کھاتا رہا۔ سیدناابو طلحہؓ کھانا کھانے کا انداز اپنارہا ہے۔ آج کی رات ابو طلحہ کا پورا گھرانہ بھو کا رہا ہے۔ مہمان کھانے سے فارغ ہو کر باعزت طریقے سے اپنے سونے کی جگہ چلا جاتا ہے۔ صبح ہوتی ہے، سیدناابو طلحہؓ حسب معمول اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ آپؐنے فرمایا: اللہ عزو جل فلاں مرد اور فلاں عورت کے رات والے ایثار و قربانی پر خوش ہوا اوراللہ تعالیٰ ان کے طرز عمل پر ہنس پڑا۔
ایثار اہل تقویٰ کے اوصاف کا خاصا ہے کیونکہ متقین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اخلاص اور جذبہ ایثار کے تحت اللہ کے دین کو سر بلند کرنے کے لیے اس کی راہ میں خرچ کریں تاکہ اللہ ہر طرح سے راضی ہو۔جذبہ ایثار کا تقاضا ہے کہ اللہ کی راہ میں دوسروں کی تکلیف دورکرنے کے لئے قیمتی سے قیمتی چیز دینے سے دریغ نہ کیا جائے اور دنیا کی اشیاء کی محبت رضائے الٰہی میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئے۔ایثار فیاضی اور احسان کے بلند ترین درجہ کو کہتے ہیں۔جسے ہم قربانی کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی ذاتی ضرویات پر دوسروں کی ضروتوں کو ترجیح دی جائے۔مثلاََ خود بھوکا رہے اور دوسروں کو کھلائے،خود تکلیف اٹھائے اور دوسروں کو آرام پہنچائے۔
آج کورونا وائرس کے قہر کی وجہ سے لوگوں کے مسائل سنگین رخ اختیار کرچکے ہیں کوئی بھی ایسا طبقہ نہیں جو اس بلائے ناگہانی سے متاثرنہ ہوا ہو بس فرق یہ ہے کہ نچلے طبقہ کے مسائل اور پریشانیاں دکھائی دیتی ہیں جبکہ اعلٰی طبقہ کی مشکلیں پوشیدہ ہیں ایسے پر آشوب ماحول میں جو باہم تعاون و امداد کی حیثیت رکھتے ہیں انکی ذمے داری ہے کہ اْن پریشان حال لوگوں کو تعاون فراہم کریں جو پریشانی کا شکار ہیں،اورایسے مشکل حالات میں اْمت مسلمہ کی ذمے داری اور بڑھ جاتی ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ اسکے پاس زکواۃ جیسا بے مثال قانون حیات موجود ہے آج موقع ہے کہ ہم اپنا فریضہ ادا کرتے ہوئے نہ صرف اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کے سامنے ہم اپنے اس آفاقی نظام کو بھی پیش کر سکتے ہیں کہ آؤ دیکھو یہ ہے وہ نظام حیات جو ہمیشہ انسانیت کی اور انسان کی فلاح و کامرانی کا ضامن ہے۔
 
���
 متعلم شعبہ عربی، یونیورسٹی آف کشمیر،حضرتبل سرینگر
ای میل۔suhaibqasim2009@gmail.com
موبائل نمبر۔9469033846

تازہ ترین