صدقہ ٔفطر فی کس62روپے مقرر:مفتی اعظم

تاریخ    22 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   
(File Photo)

نیوز ڈیسک
 سرینگر// مفتی عظم نے صدقہ فطر فی کس62روپے مقرر کئے ہیں ۔ ایک بیان میں انہوں نے بتایاکہ مقدس اور متبرک رمضان المبارک کے اختتام اوررخصت ہونے پر ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت کو صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے بلکہ ہر شیر خواربچہ کی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اس کی وجوبیت کے قائل ہیں۔ حضرت امام شافعی اس کو فرضیت مانتے ہیں۔ علماء شریعت نے لکھا ہے کہ جو شخص صدقہ فطر ادا کرتا ہے اس کی جان کو عذاب نہیں ہوگا اور عذاب قبر کی سختی نہیں ہوگی اوراس کے روزے قبول ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ پیغمبر خدا رسول رحمتؐ نے دربار نبوتؐ میں اعلان فر مایا ہے کہ جب تک صدقہ فطر ادا نہ کیا جائے، روزے آسمان وزمین میں معلق رہتے ہیں۔ صدقہ فطر عید الفطر کی نماز ہونے سے پہلے ادا کیاجانا چاہئے تاکہ غریبوں کی بھی عید ہوجائے اور وہ بھی اسلامی جشن مسرت میں باقی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ آنحضور ؐنے  فرمایاکہ زکوۃفطر ایک صاع کھجور اورایک صاع گیہوں ہوگا۔ یہ ہر غلام ہر آزاد مرد عورت چھوٹے بڑے مسلمان پر مقرر فر مایا ہے اورنماز عید کی ادائیگی سے پہلے پہلے ادا کرنے کا حکم فر مایا ہے۔(متفق علیہ) یعنی صدقہ فطر عید گاہ جانے سے پہلے ہی دیدینا چاہئے اگر عیدگاہ جانے سے پہلے نہیں دیا تو نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے ادا کرنا چاہئے۔ صدقہ فطر کی مقدار ہرایک کی طرف سے نصف صاع شرعی مقرر ہے یعنی پونے دوسیر گیہوں کا آٹا جو درمیانی قسم کا آٹا ہے پوری تحقیق کے بعد فی کلو35روپیہ جبکہ جدید اعشاریہ اوزان ایک کلو سات سو ساٹھ گرام، (ایک کلو کی قیمت 35 روپیہ اور 760 گرام کی قیمت 26.60روپیہ کْل 61.60 روپیہ) البتہ احتیاطاً فی کس 62 روپیہ ادا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ صدقہ فطر اپنے اوراپنے چھوٹے اورشیر خوار بچوں کی طرف سے دینا چاہئے۔اگر فرزند اپنا مال رکھتے ہوں، تو خود دیں پھر باپ پر دینا واجب نہیں ،جو فرزند جوان ہے اس کا صدقہ فطر بھی باپ پر واجب نہیں اگر چہ وہ فقیر اور تنگدست ہو۔ ماں کا اس کے فرزند پر صدقہ فطر واجب نہیں بیوی کو کہے بغیر شوہر اس کا صدقہ فطر ادا نہیں کرسکتاہے۔
 

تازہ ترین