بہو اور بیٹی میں یہ غیر منطقی تمیز کیوں؟

بہوئوں سے پیارکریں،گھر خوشحال بنائیں

تاریخ    22 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بٹ
حالیہ دنوں میں کشمیر سے کچھ دلدوز خبریں سننے کو ملیں۔ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ سے پتا چلا ہے کہ کشمیر کے مختلف مقامات پر سسرال والوں کی طرف سے بہوؤں پر ظلم و ستم جاری ہے۔بہوؤں پر اس قدر ظلم کیا جارہا ہے کہ انہیں خودکشی جیسے سنگین اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ موجودہ بہوؤں کے لیے سسرال نہ صرف غیر محفوظ بلکہ وبال جان بنتا جارہا ہے۔ حال ہی میں کولگام اور اننت ناگ میں پیش آئے اس طرح کے انسانیت سوز واقعات نے ہم سب کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔آخر یہ معاشرہ عورتوں کے لیے کیوں خطرہ بنتا جارہا ہے؟ بہوؤں کے تئیں سسرال والوں کا منفی رویہ کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ آجکل کا معاشرہ بیٹی اور بہو کو یکساں مقام کیوں دینے میں ناکام کیوں ہوتا جا رہا ہے۔؟اس دوغلے پن اور دہرے معیار کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں، جو ہر ذی شعور انسان کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔عورت اس دنیا میں کتنے کردار نبھاتی  ہے۔کبھی بہن کا کردار ادا کر کے اپنے بھائی کا فخر ہوتی ہے۔قدم قدم پر اپنے بھائی کا ساتھ دیتی ہے۔یہی عورت جب بیٹی کا کردار نبھاتی ہے تو اپنے باپ کا سہارا بنتی ہے۔جب سب لوگ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں وربیٹے باپ کی دولت کو لیکر لڑ رہے ہوتے ہیںتو بیٹی اس وقت بھی باپ کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے۔جب ماں بنتی ہے تو اپنے بچوں کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔یہاں تک کہ اپنا چین، سکون سب کچھ اپنے بچوں پر قربان کر دیتی ہے۔یہیں عورت جب بیوی کا کردار نبھاتی ہے تو اپنے شوہر کے لیے اپنے بھائی بہن، ماں باپ، اپنا گھر سب کچھ چھوڑ دیتی ہے۔اپنے شوہر کا دکھ سکھ بانٹتی ہے۔دن بھر گھر کا کام کرتی ہے۔بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے لیکن افسوس یہ شوہر اس سب کے بدلے میں بیوی سے مسکراتے ہوئے بات بھی نہیں کرتا۔اس سب کے بدلے میں بیوی کے لیے شاباشی کا ایک لفظ بھی کسی بڑے تحفے سے کم نہیں تھا۔ لیکن شوہر اپنی بیوی کے جذبات اور احساسات سمجھنے میں ناکام رہتا ہے۔کبھی کبھی تو شوہر اپنی بیوی کو اپنے گھر والوں کے رحم و کرم کر چھوڑ دیتا ہے اور ایسا کردار نبھاتا ہے جیسے بیوی کے تئیں اس کی کوئی ذمہ داری ہی نہ ہو۔اور کبھی ساس، سسر اور نند دیور دیورانی بھی بہو پر ظلم کرتے ہیںاور شوہر یہ سب کچھ دیکھتا رہتا ہے۔شاید وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے سارے حقوق اس کے گھر والوں کے تئیں ہیںاور اس کی بیوی کا کوئی بھی حق اس پر نہیں ہے۔جب کہ اسلام نے گھر والوں اور بیوی بچوں کے حقوق واضح طور پر متعین فرمائے ہیںجن پر عمل پیرا ہو کر زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔
سسرال والے بہو لاتے وقت بلند بانگ دعوے کرتے ہیں کہ وہ بہو کو بیٹی کا درجہ دیں گے لیکن بہو کو گھر پہنچا کر ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیںاور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہو نہیں بلکہ ایک نوکرانی کو گھر لایا ہے۔اس سے ہر قسم کی خدمت کرنے کی امید لگائی جا رہی ہے۔شوہر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے ماں باپ کے لیے نوکرانی لائی ہے۔جب کہ وہ یہ نہیں سمجھتا ہے کہ ماں باپ کی خدمت کرنا اس کا حق ہے نہ کہ اس کی بیوی کا۔بہو جب تک صحت یاب ہوگی سسرال میں رہ سکتی ہے لیکن تھوڑی سی صحت کیا بگڑ گئی اسے میکے والوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
اس طرح کا منفی رجحان بلکہ بے غیرتی کشمیر میں کچھ زیادہ پنپتی جا رہی ہے۔ایسے منفی رجحان کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔معاشرے میں بہوؤں کو اپنا مقام دلانا وقت کا تقاضا ہے۔ لیکن شوہر حضرات کو سمجھنا ہو گا کہ کہیں وہ یا ان کی وجہ سی ان کی بیویوں پر ظلم یا زیادتی تو نہیں ہو رہی ہے؟ کچھ میکے والے بھی بیٹیوں پر دباؤ بناتے ہیں کہ تمہیں سسرال کی زیادتیاں برداشت کرنا ہونگیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت ساری عورتیں سسرال والوں کے ظلم وستم اور میکے والوں کی دبائو کی وجہ سے خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہی ہیں۔لہٰذا اس معاشرے کو بدلنا ہوگا۔بہوؤں کو وہی درجہ اور وقار دینا ہو گا جو یہ معاشرے میں بیٹیوں کو حاصل ہے۔اگر بیٹی سے غلطی ہو جاتی ہے تو معاشرہ اسے معاف کر دیتا ہے لیکن اگر بہو سے غلطی ہو جائے ،تو اس پر بوال کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ہمیں اس دوغلے پن سے باہر آنا ہو گا۔اتناہی نہیں عورتوں کو گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کا شکار بھی بنایا جا رہا ہے جو نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔ہم سب کو سمجھنا چاہئے کہ عورت محض کام کرنے والی یا بچہ جننے والی مشین نہیں ہے کہ مرد اس سے اپنی خدمت کروائے اور اس سے جنسی لذت حاصل کرے۔بلکہ عورت سے یہ دنیا آگے بڑھتی ہے۔ 
عورت کے بھی جذبات ہیں۔اس کی بھی اپنی خواہشیں ہیں۔تمنائیں ہیں۔ہمیں ان کے جذبات، خواہشوں اور تمناؤں کی قدر کرنی چاہئے۔شوہر کو چاہیے کہ مناسب رویہ اختیار کرے۔جہاں اسے لگے کہ اسکی بیوی اس کے ماں باپ سے زیادتی کرتی ہے وہاں ماں باپ کا ساتھ دینا چاہئے اور جہاں لگے کہ اس کے والدین یا بھائی بہنیں اس کی بیوی سے زیادتی کر رہیں ہیں۔وہاں اپنی بیوی کا ساتھ دینا چاہیے۔بیوی کی ہر بات اطمنان سے سننی چاہئے کیونکہ شوہر کے سوا بیوی کا کوئی نہیں ہوتا ہے جس سے وہ راز کی باتیں کہہ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر ے تاکہ معاشرے میں ایک طرح کا توازن بنا رہے کیونکہ میاں بیوی معاشرے کی گاڑی کے دو پہئے ہیں، جب تک یہ دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے،تب تک زندگی کا یہ کارواں چلتا رہے گا۔لہٰذا میاں بیوی کو آپسی حقوق کا خیا ل رکھنا چاہیے اور معاشرے کو بہوؤں سے بیٹیوں والا برتاو کرنا چاہیے تاکہ بہوؤں کی خودکشی کے دلدوز واقعات پیش نہ آئیں کیونکہ ایسے واقعات کسی بھی معاشرے کے لیے کسی بدنما داغ سے کم نہیں ہیں۔عورت کے ساتھ ظلم وستم اور زیادہ کمزور اور بزدل کرتے ہیں بہادر اور عالی ہمت لوگ عورتوں کو برداشت کرتے ہیں اور ان کے جذبات کی قدرکرتے ہیں۔ اگر عورتوں سے اسی طرح کا ظلم وستم رواں رکھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہ معاشرہ افرا تفری کا شکار ہوگا۔
رابطہ ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر
 

تازہ ترین