روزہ اور حصولِ تقویٰ… چند احکام و مسائل

ماہ صیام

تاریخ    19 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


عمران بن رشید
نزولِ قرآن کیلئے ماہِ رمضان کا انتخاب
ماہِ رمضان کو ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہے کہ اس مہینے میں قرآن کا نزول ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے(شَھْرُرَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰںُ ھُدًی لِّلْنَاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَان)’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اُتارا گیا جو لوگوں کے لئے سراسر ہدایت ہے‘اورجس میںہدایت کی اور (حق وباطل میں ) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں۔ ایک اور جگہ پر یوں ارشاد ہوا ہے’’اِنِّااَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ‘‘’’بے شک ہم نے اس(قرآن)کو قدر والی رات میں اُتارا‘‘۔ اِن آیات کے معنی اور مفہوم میں اکثر علماء نے سکوت اختیار کیاہے۔امام ابنِ کثیر ؒنے البتہ ابنِ عباس ؓ کے حوالے سے رقم کیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں قرآن آسمان سے بیت العزت کی طرف نازل ہوا اور پھر وہاں سے حسبِ ضرورت تھوڑاتھوڑا کرکے نازل ہوتا رہا(واللہ اعلم)۔
 ایک چیز تو البتہ واضح ہے کہ ماہِ رمضان کی قرآن کے ساتھ ایک خاص نسبت ہے۔اس حوالے سے ابو نعمان سیف اللہ خالدنے لکھاہے :۔ ’’معلوم ہوا کہ ماہِ رمضان کو قرآنِ مجید کے ساتھ خاص تعلق ہے ۔اس میں کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت اور قیام ہونا چاہئے۔رسول اللہ ؐ رمضان میں ہر رات جبریل ؑ کے ساتھ قرآنِ مجید کا دورہ کیا کرتے تھے۔صحابہ کرام ؓ اورصلفِ صالحین کے عمل سے بھی رمضان میں قرآن سے خصوصی شغف ثابت ہے۔‘‘(تفسیر دعوت القرآن جلد اول؍243)۔علاوہ ازیں اس آیت میں قرآن کو ’’ھُدًی لِّلْنَاسِ ‘‘کہا گیا ہے۔یعنی قرآن لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔ایک اورمقام پر اسے ’’ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘بھی کہا گیا ہے ۔یعنی قرآن متّقین کے واسطے ہدایت ہے۔اس فرق کو ذرا اچھے طریقے سے سمجھئے ۔لفظ’’ھدایت‘‘کے اصل میں دومعنی ہیں‘اس کا ایک معنٰی ہے راستہ دکھانااور ایک معنیٰی ہے منزلِ مقصود کو پہنچانا۔اول الذکرمعنٰی میں قرآن تمام بنی نوح انسان کے لئے سرچشمئہ ہدایت ہے یعنی یہ ہر اس شخص کو صراطِ مستقیم کا فہم عطا کرتا ہے جو اس کی آیات پر کما حقہ غور وفکر کرتاہو۔دوسرے مفہوم میں قرآن صرف اُن لوگوں کے لئے ہدایت ہے جنہوں نے تقویٰ کی رَوش اختیار کی۔اور وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔اُنہیں صراطِ مستقیم کا فہم بھی عطا ہوتا ہے اور وہ ہمہ تن اس پر گامزن بھی ہوتے ہیں۔اُن کے ضمیر پر گویا قرآن کا نزول ہوجاتاہے ‘اور اُن کے ظاہر وباطن پر ’’صِبْغَۃ َاللّٰہ ‘‘۸؎کے مصداق اللہ کا رنگ غالب آتا ہے۔اور اُن کا مزاج اور اُن کی طبیعت کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ وہ قرآن کو اپنی زندگی کا حَکم بناتے ہیں۔
روزہ چونکہ حصولِ تقویٰ کا بہترین ذریعہ ہے اور تقویٰ سے انسان پر ہدایت کی راہیں کھلتی ہیں‘لہذاجتناہوسکے رمضان میں قرآن سے شغف پیدا کریں تاکہ قرآن ’’ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘ کے مصداق آپ کو منزلِ مقصود کے قریب کردے۔آپ کو وہ نظر اور فہم میسر آئے کہ حق اور باطل کی تمیز کرسکو’’ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَان ‘‘اورجس میںہدایت کی اور (حق وباطل میں ) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں۔
جس نے ماہِ رمضان کو پایا
رمضان کا بابرکت مہینہ جس خوش نصیب نے پایا اُسے چاہیے کہ اللہ کاشکربجالائے۔ سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں کی اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ’’ریان‘‘ہے‘اس دروازے سے روزِ قیامت صرف روزہ دور داخل ہونگے۔دوسراکوئی اس سے داخل نہیں ہوگا(بخاری؍1904)۔اللہ تعلی کاارشاد ہے’’تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہووہ اس کا روزہ رکھے ‘جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہوتو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔اللہ تمہارے ساتھ آسانی کاارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔اور تاکہ تم گنتی پوری کرواور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو‘اس پر جو اُس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو‘جس شخص پر تندرستی اور حالتِ قیام میں رمضان کا مہینہ سایہ فگن ہوجائے تو اُس پر روزہ رکھنا فرض ہے۔البتہ بیماری اور سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کاحکم خود اللہ نے دیا ہے( وَمَنْ کَانَ مَریْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ)۔اور اللہ تعلی کا امر ہی ایمان میں اصل الاصول ہے‘کہ اس کی بجاآوری میں ہی خیر ہے۔امام ابنِ کثیرؒلکھتے ہیں:۔’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ جب رمضان کا چاند چڑھے کوئی شخص اپنے گھر ہو‘  سفر میں نہ ہو  اور تندرست بھی ہواسے روزے رکھنے لازمی اور ضروری ہیں۔پہلے اس قسم کے لوگوں کو بھی جو  رخصت  تھی وہ اُٹھ گئی۔اس کا بیان فرماکر پھر بیمار اور مسافر کے لئے رخصت کابیان فرمایاکہ یہ لوگ روزہ ان دنوں میں نہ  رکھیں۔اور پھر قضاکرلیں۔یعنی جس کے بدن میں کوئی تکلیف ہوجس کی وجہ سے روزے میں مشقت پڑے یاتکلیف بڑھ جائے یاسفرمیں ہوتو افطار کرلے اور جتنے روزے رہ جائیں اتنے دن پھر قضا کرلیں۔‘‘(تفسیر ابن کثیرجلداول؍357)۔یہاں دو اہم نکتے آپ کے گوشِ گزار کرنا چاہتا ہوں۔ایک یہ کہ سفرکی حالت میں روزہ چھوڑنے کا حکم اگرچہ نصِ قرآنی سے ثابت ہے لیکن اس کا قطعًا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ روزے سرے سے ہی معاف ہوگئے ‘جیسا کہ بہت سے لوگ اس شبہ میں مبتلاہیں۔ بلکہ اُن روزوں جو سفر میں چھوٹ جائے‘ کو ماہِ رمضان کے بعد پورا کرنا ہے۔اسی طرح بیماری میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ہے۔دوسرا اہم نکتہ عورتوں کی ماہ واری یعنی حیض (Menstruation)سے متعلق ہے۔ حیض کے دوران عورتوں کو نماز اور روزوں کی رخصت ہے۔لیکن ماہِ رمضان کے گزرنے پر روزوں کی قضا کرنی ہوگی جب نماز یں سرے سے ہی معاف ہیں ۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہمیں رمضان میں حیض کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کا حکم کیاگیالیکن چھوٹی ہوئی نمازوں کا نہیں(البخاری)۔اور حضرت عائشہؓ ان روزوں کوعام پور پر ماہ شعبان میں اداکیاکرتی تھیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  دورانِ حیض چھوٹے ہوئے روزوں کو تاخیرسے ادا کیا جاسکتا ہے ‘یہ ضروری نہیں کہ ان کو رمضان کے فوراً بعد ہی ادا کیا جائے ۔
رمضان میں دعا کی اہمیت
اگلی آیت قرآن مجید کی نازک ترین آیات میں سے ہے۔ اللہ تعلی فرماتاہے:۔(وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ  عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ  دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ)’’اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں‘تو بے شک میں قریب ہوں‘میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتاہے۔تولازم ہے کہ وہ میری بات مانیں  اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں‘‘اللہ تعلی مجیب الدّعواۃ ہے ‘یعنی دعائوں کا قبول کرنے والا۔روزوں کے ساتھ دعا کے بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ رمضان میں دعا کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔چنانچہ ابو نعمان سیف اللہ لکھتے ہیں’’روزوں کے احکام کے درمیان دعا کے ذکر سے مقصود اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ رمضان میں دعا کی بڑی اہمیت ہے‘‘۹؎۔انسان کو چاہئے کہ رمضان میں خوب خوب دعا کرے‘اور اپنے رب سے گناہوں کی بخشش طلب کرے۔بندہ جب بھی اور جہاں بھی صحیح نیت کے ساتھ ربّ سے دعا کرتا ہے تواللہ اُس کی دعاکو شرفِ قبولیت عطاکرتاہے’’ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ  دَعْوَۃ الدَّاعِِ اِذَا دَعَانِ ‘‘ سے یہی مرادہے۔ مسند احمد وترمذی میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایاکہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی ایک عادل امام کی دوم روزے دار کی جب تک کہ وہ روزہ افطار نہ کرلے اور سوم مظلوم کی(الخ)۔
یاد رہے کہ دعاکی دو قسمیں ہیںایک دعائے عبادت اور دوسرے دعائے مسلہ۔عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے ’’کتاب التّوحید‘‘ کی شرح(توحید الٰہ العالمین)میں لکھا ہے’’قرآنِ مجید میں جہاں بھی لفظ دعاوارد ہواہے اس سے مراد کبھی تو دعائے عبادت ہوتا ہے‘کبھی دعائے مسلہ اور کبھی دونوں۔اور حقیقت یہ ہے کہ دعائے عبادت اور دعائے مسلہ آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں[203]۔دعائے عبادت کیاہے؟دعائے عبادت یہ ہے کہ بندہ اللہ کے عذاب وعتاب کے خوف سے اس کے سامنے گڑگڑائے ‘لیکن اُس کی رحمت کا امیدوار بھی رہے۔ اور دعائے مسلہ سے مراد ایسی دعا ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعلی سے اپنی حاجت اور ضرورت کا سوال کرے اور اپنے لئے نفع اور ہرطرح کی مصیبت سے نجات طلب کرے ۱۰؎۔سورہ مومن جس کا ایک نام سورۃالغافر بھی ہے میں ارشاد ہوا ہے( وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْ عُوْ نِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَد خُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ)’’اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے[60]۔‘‘نعمان بن بشیرؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایااَلدُّعَائُ ھُوَالْعِبَادَۃیعنی دعاعبادت ہی ہے۔اس کے بعد آپؐ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔عبداللہ ابن عباس ؓ اس آیت کی دلیل دے کر کہا کرتے تھے کہ دعا سب سے بہترین عبادت ہے۱۱؎۔دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ بندہ اللہ کی فرمانبرداری کرے ۔ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ‘‘۔
چند اہم مسائل
سورۃالبقرہ کا زیرِ مطالعہ رکوع جن دو آیات (187؍188)پر ختم ہوتاہے اُ ن میں روزوں سے متعلق کئی اہم مسلے بیان ہوئے ہیں۔اللہ تعلی ارشاد فرماتا ہے:۔تمہارے لئے روزوں کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرناحلال کردیا گیا ہے‘وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم اُن کے لئے لباس ہو۔اللہ نے جان لیا کہ بے شک تم اپنی جانوں کی خیانت کرتے تھے تو اس نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمہیں معاف کردیا‘تواب اُن سے مباشرت کرواور طلب کرو  جو اللہ نے تمہارے لئے لکھاہے۔اور کھائواور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے سیاہ دھاگے سے سفیددھاگافجرکا خوب ظاہر ہوجائے۔پھر روزے کو رات تک پورا کرواور اُن سے مباشرت مت کروجبکہ تم مسجدوںمیں معتکف ہو۔یہ اللہ کی حدیں ہیں‘سو اِن کے قریب نہ جائو۔اسی طرح اللہ اپنی آیات لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتاہے‘تاکہ وہ بچ جائیں‘‘ روزے کی راتوں میں کھاناپینااور اپنی بیویوںسے جماع کرنا جائز ہے ۔ابتداء اسلام میں یا جب روزے فرض ہوئے مسلمان راتوں کو بھی اپنی بیویوں سے دور رہاکرتے تھے جوکچھ لوگوں پر شاق گزرتا تھا۔براء بن عازبؓ سے موقوفًا روایت ہے کہ جب رمضان کے روزے کا حک نازل ہوا تومسلمان پورے رمضان میں اپنی بیویوں کے قریب نہیں جاتے تھے اور کچھ لوگوں نے اپنے کوخیانت میں مبتلا کرلیا تھا۔اس پر اللہ تعلی نے یہ آیت نازل فرمائی (بخاری؍4508)۔اب راتوں کو جماع کرنا حلال کردیا گیا اور ساتھ ہی کہا گیا کہ تمہاری بیویاں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم اُن کے لئے لباس ہو۔اس کے بعدمذکورہ آیت میں کہا گیا ہے’’اور کھائواور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے سیاہ دھاگے سے سفیددھاگافجرکا خوب ظاہر ہوجائے۔پھر روزے کو رات تک پورا کرواور اُن سے مباشرت مت کروجب کہ تم  مسجدوںمیں معتکف ہو۔‘‘یہاں سیاہ دھاگے سے مراد رات کی تاریکی؍سیاہی اور سفید دھاگے سے مراد صبح کی سفیدی ہے(بخاری؍4510)۔ 
آخری آیت
رکوع کے بالکل آخر پرمالِ حرام سے بچنے کی ترغیب دی گئی ۔(وَلَا  تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ  بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا  بِھَآ  اِلَی الْحُکَّامِ  لِتَاْکُلُوْا   فَرِیْقًا  مِّنْ  اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ  وَاَنْتُمْ  تَعْلَمُوْنَ ۔)اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھائو اور نہ انہیں حاکموں کی طرف لے جائوتاکہ لوگوں کے مالوں میں سے ایک حصہ گناہ کے ساتھ کھاجائو۔اس آیت کی تفسیر میں ابو نعمان سیف اللہ خالد رقمطراز ہیں ’’روزے کی حالت میں اللہ کے حکم سے آدمی تین نہایت مرغوب اور حلال چیزیں ترک کردیتاہے ‘اسی مناسبت سے اب حرام سے بچنے کی تلقین فرمائی ۔جو مال بھی ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے خواہ مالک کی رضامندی بھی اس میں شامل ہو وہ باطل طریقے سے کھانا ہے ‘مثلًا سود‘ زنا کی اجرت ‘ نجومی کی فیس‘ شراب کی فروخت‘لاٹری یا جوئے کے ذریعے کمائی یا گانے بجانے کی اجرت ‘الغرض تمام ناجائز وسائل باطل کے ساتھ کمانے میں شمار ہوںگے‘‘۔ ان سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔(ختم شد)
حوالہ جات
۱؎حجۃ اللہ البالغہ ترجمہ مولاناخلیل احمد؍134
۲صحیح البخاری؍کتاب النّکاح
۳؎  غنیۃ الطالبین شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ
۴؎  شرح بخاری از مولانا دائود راز ؒ جلد؍6؍87
۵؎  حضرت معاذؓ بحوالہ ابن کثیر ؍البقرہ؍183
۶؎  تفسیرِ ابنِ کثیر البقرہ؍وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنۃ کی تفسیر میں
۷؎  ابن کثیر ایضًا
۸؎  البقرہ؍138
۹؎  دعوت القرآن
۱۰؎  توحید الٰہ العالمین؍203‘204
۱۱؎  حسن (مستدرک حاکم)
رابطہ۔سیر جاگیر سوپور،کشمیر
 فون نمبر۔8825090545
 

تازہ ترین