ماہ ِ رمضان اورکورونالاک ڈائون! | خالق کائنات ہم سے اتنے روٹھے کیوں ہیں؟

میری بات

تاریخ    19 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


ایم شفیع میر
کرونا وائرس !اک ایسی وباء جو چین کے شہر وہان سے دندناتی انسان جانوں کو ختم کرتے ہوئے پوری دنیا میں ملک الموت کی طرح ابھی بھی منڈلا رہی ہے،پہلے پہل تو اِس خونخوار وبا ء نے دنیا بھرمیں اِس طرح کا خوف بپا کر دیا کہ انسان گھروںمیںقیدی ہو کر رہ گیا۔رب ِ کائنات کے جلال کے سامنے اچھے بھلے،چست تندرست انسان معذور ہو کر رہے گئے، خدائی دعوے کرنے والے ممالک اک نظر ناآنے والے وائرس کے سامنے بے بس ہوگئے، تمام تر ٹیکنالوجی بیکار ثابت ہوئی۔ ایسے میںبیشتر ممالک نے وبا سے بچنے کیلئے لاک ڈائون کا اہتمام کیا، جو جہاںتھا وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ اِسی طرزعمل کو اپناتے ہوئے ملک ِ ہندوستان میںارباب ِ حل و عقد نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ اک دم سے لاک ڈائوں کا اعلان کر دیا۔لاک ڈائون کے اِ س اچانک اعلان سے کتنی مصیبتیں جھیلنی پڑیں یہ سب ہمارے سامنے اک کھلی کتاب ہے۔گزشتہ برس کے لاک ڈائون اور رواں برس کے لاک ڈاؤن میںبہت فرق ہے، تب کرونا وائرس کو بھگانے کیلئے تالیاںاور تھالیاںبجائی گئی تھیں ،مندر ،مساجد، گوردوارے اور چرچوں میںعبادات پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی لیکن اب کی بار کچھ مختلف دیکھنے کو مل رہا ہے۔جہاںتک کرونا سے بچنے کی تدابیر سے کا سوال ہے تو سرکار کی طرف سے ویکسین کا عمل کافی زور و شور سے شروع کیا جا چکا ہے، لیکن حیران کن امر ہے کہ جس قدرکرونا ٹیکہ کاری مہم میںتیزی لائی جار ہی ہے اُتناہی کرونا معاملات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
ابھی تک جو دیکھنے میںآیا کہ جس شخص کو ٹیکہ لگایا جاتا ہے وہ چند دن یا ہفتے بعد کرونا پازٹیو ثابت ہو رہا ہے، یہ اک الگ معاملہ ہے اور اِس معاملے پر ابھی تک کوئی خاص چرچہ نہیںہوئی نہ ہی اِس جانب کسی کا دھیان گیا۔ بحرحال سرکار کی جانب سے چلائی جا رہی ٹیکہ کاری مہم کے دوران کرونا معاملات میںتیزی سے اضافہ اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ٹیکہ کاری صرف ’’مہم ‘‘تک محدود ہے اِس کے کوئی فائدے نظر نہیں آرہے ہیں۔
قابل ِ ذکر ہے کہ اگر ٹیکہ کاری مہم بھی چلائی جا رہی ہے اور انتخابی مہم بھی چلائی جار ہی ہیں،پھرکیا وجہ ہے کہ ماہ ِ رمضان کے آتے ہی سرکار کو لاک ڈاؤن کرنے کا من کیوںبن جاتا ہے؟ یہ بات آج تک کسی کی سمجھ میںنہیںآئی کہ کروناوائرس صرف تعلیمی اداروںاور مساجد میںہی کیوںپایا جاتا ہے ، انتخابی ریلیوںاور دیگر سرکاری پروگرامز میںکرونا کہاںبھاگ جاتا ہے ؟ عجیب اتفاق ہے جب بھی کرونا معاملات میںاضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے تو خاص طورجموںو کشمیر میںسرکار کی اولین ترجیح یہ رہتی ہے کہ تعلیمی اداروںکو بند کیا جائے۔پھر دوسراقد م رمضان کے جلوہ افروز ہوتے ہی شبانہ کرفیو کا نفاذ عمل میںلاناہوتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرکار کرونا کے خوف سے تذبذب کا شکار ہوتی ہے یا پھراقلیتی طبقہ کو یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ آپ کا اِس ملک یا اِس ریاست میںکوئی خاص مقام نہیںہے۔کیا یہ شبانہ کرفیو اک خاص طبقے کو ہراساں کرنے کی سازش تونہیںہے؟ 
لمحہ ٔفکریہ ہے کہ حکومت کامسلمانوں کے تئیںجارہانہ رویہ اپنی جگہ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے رب کی فرمانبرداری میںکس قدر ایمانداری سے کام لے رہے ہیں، کہیں ہم موسمی نمازیوں کیلئے اللہ نے مساجد کے دروازے بند تو نہیںکئے ہیں، کہیںسرکاری ہراسانی ہمارے برے اعمال تو نہیں؟ہمیںزنگ آلود ذہنوںکو جھنجھوڑنا ہوگا، اپنے دماغ پر زور ڈالنا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ آخر کیوں ماہ ِ مقدس میں ہی اِس طرح کے حالات بنتے ہیں یا بنائے جا رہے ہیں۔ کہیں اِس سازش کا باعث ہماری سال بھر کی نافرمانیاںتو نہیں جن سے ناراض ہوکر ہمارا رب ہم سے یہ ماہ ِ مقدس بھی گھر میںبیٹھے بٹھائے چھین لیتا ہے،کیونکرمساجدمیںہماری حاضر ی اک معمہ بن جایا کرتی ہے؟؟ یہ اُمت ِ مسلمہ کیلئے اہم سوالات ہیں۔ اگر ہمارا ایمان اتنا پختہ ہے کہ کرونا وائرس ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تو پھرہمارا ایمان اِس اہم بات پرجوش کیوں نہیںپکڑتا ہے کہ مساجد میںعبادتوںپر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور ہم یہ سرکار ی احکامات سرخم تسلیم کر لیتے ہیں جبکہ ہمارے ایمانی معیار کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب گوشت اور مرغ دکانوں کو بند کرنے کے سرکاری احکامات جاری ہوتے ہیںتو ہم لنگوٹ کس کے سڑکوںپر آجاتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں ، پولیس کے ڈنڈے تک ہضم کرلیتے ہیں۔ 
ہائے افسوس!!قابل ِ رحم ہیں ہم اور ہمارا معاشرہ!! ہم گوشت اور چکن کی پابندی پر احتجاج تو کر سکتے ہیںلیکن ہم مساجد میں عبادتوںپر پابندی کو لیکر اُف تک نہیںکرتے۔ سچ مانو تو حقیقتاً ہماراایمانی معیار اِس درجہ بوسیدہ اور زنگ آلود ہو چکا ہے کہ اب ہم نمود و نمائش کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ ہماری عبادتیں اللہ کے خوف سے ادا نہیںہوا کرتی بلکہ دکھاوے کے جوش سے ادا ہو رہی ہیں۔وگرنہ کیا وجہ ہے کہ ہم بے شمار نافرمانیاں کرنے کے باجود بھی اپنی غلطیاں تسلیم کرنے پر آمادہ نہیںہوتے۔ مساجد میںہماری حاضری بھی اک فیشن ہو چکا ہے، اکثر نوجوان تو مساجد کے میناروں تلے سیلفیاں لیکر اپنے حسن کی نمائش کرتے نظرآرہے ہیں، کلیجہ تو اُس وقت منہ کو آتا ہے جب ادھیڑ عمر کے لوگ بھی مساجد میںفوٹو شوٹ سے گریز نہیںکرتے۔ 
نئی کریم ﷺکے دور میںایمان کی ایسی کیفیت ہوا کرتی تھی کہ جب کوئی غیر مسلم کسی ایمان والے کو دیکھتا تھا تودیکھتے ہی’’ ایمان ‘‘لے آتا تھا لیکن آج کے دورِ میںہمار ے ایمان کی بنیادیں اِس درجہ کمزور ہیںکہ بیان کرنے میںشرم محسوس ہو رہی ہیں۔ آج ہم مسلم معاشرے کی اک ایسی تصویر پیش کر رہے ہیںکہ غیرسوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیںکہ کیا یہ واقعی مسلم معاشرہ ہے؟ہمارے طور اطوار کافی شرمناک اور قابل ِ رحم ہیں۔ افسوس کامقام ہے کہ مسجدوں سے نمازیوںکے جوتے چوری کرنے میںبھی گریز نہیںکیاجاتا، نمازیوںکے جیب تک کاٹے جاتے ہیں۔قابل ِ غور ہے کہ ہم جب اپنے معاشرے سے باہر نکل ایسے مصروف ترین شہروںیا جگہوںپر جاتے ہیںجہاں مسلم معاشرے کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہوتاوہاں ہمیںیہ فکر لاحق نہیںہوتی کہ کوئی ہماری جیب کاٹے ، کوئی ہمارا سامان اُڑ الے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے اور انتہا درجے کی غفلت ہے کہ جب ہم مساجد میںجاتے ہیںتو ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے کہ ہم اپنا ’’جوتا ‘‘اور اپنی ’’چپل ‘‘کہاںچھپا رکھیں جہاں یہ چیزیںچوروںسے چیزیںمحفوظ رہیں۔کوئی مانے نہ مانے لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ نمازوںمیںبھی ہمارا دھیان بھٹکا ہوا ہوتا ہے کہ کہیںکوئی ہمارے سامان پر ہاتھ صاف نہ کر لے۔ظاہر ہے کہ اگر ہمارے ایمان کی حالت اِس قدر ابترہوچکی ہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ یہ وبائیں یونہی نہیںآ رہی ہیں یہ سب ہماری نافرمانیوں، بے ایمانیوں، بد کرداریوں، بد اخلاقیوں، تفرقہ بازیوںاور غفلتوںکی دین ہے،ہمارے دل واذہان غفلتوںمیںڈوبے ہوئے ہیں، اِس لئے نمود و نمائش کے بغیر ہمیںبار گاہ ِ الٰہی میںجھکنا ہوگا،عملی طور اللہ کا فرمانبردار بننا ہوگا، ورنہ ہم پٹے جائیں گے، گھسیٹے جائیں گے، غیر تو غیر ہم پر ہمارے اپنے ہی بطورِ عذاب مسلط کر دیئے جائیں گے جو ہم پر مظالم ڈھاہیںاور جواباً ہم انہیںکچھ کہنے سے قاصر رہیں گے۔اِس لئے دن رات سیاسی و سماجی ناخدائوںکے سامنے جھکنے کے بجائے ہم بس ایک واحد طاقت کے سامنے جھک جائیں ، وہ طاقت صرف اور صرف ہمارا پیارا اللہ ہے ،ایک اللہ جو وحدہ ُ لاشریک ہے، جو سب کو پیدا کرتا ہے ، جس کے قبضے میںہم سب کی جان ہے، جو سب سے بڑا ہے ،کوئی بھی اُس کے برابر نہیں،بے شک وہی ہماری بگڑی بنانے والا ہے۔مصیبتوں سے آزادی دینے والا، خوشی ،سکون، امن و بھائی چارہ یہ سب نعمتیں اُسی میرے رب کے دربار سے ملنے والی ہیں۔ بس اگر دیری ہے تو وہ اِس بات کی کہ ہم اپنے ایمان کو تازہ کریں اور اللہ کے احکامات پر چلیں ،اپنے پیارے رب کی جانب قدم بڑھائیں،اُسی کا مانیں ، اُسی سے لو لگائیں۔ پھر کوئی کورونا، کوئی میزائل ، کوئی جنرل، کوئی کرنل اور کوئی ہٹلر ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیںسکتا۔اللہ تعالیٰ تمام اُمت مسلمہ کو ایمان جیسی عظیم دولت سے نوازے ،ہمیں نمود نمائش کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے باہر نکالے تا کہ ہم سب عملی طور اللہ کے احکامات پر چلیںا ور یوںہماری بگڑی بن جائے۔ آمین!
پتہ ۔گول ،رام بن ،جموںوکشمیر
فون نمبرات۔7780918848/9797110175
ای میل۔zahid.shafi22@gmail.com
����

تازہ ترین