پندرہ،سولہ

کہانی

تاریخ    18 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
سرسوتی مرکزی دانش گاہ کو شہر سے کافی دُور ایک ہموار میدانی علاقے میں قائم کئے ہوئے اکیس برس ہوچکے تھے ۔ شعبۂ حیوانات ونباتات ،ٹکنالوجی ، ریاضیات،اقتصادیات، معاشیات،سماجیات،نفسیات ،سیاسیات اور شعبہ ٔ  انگریزی کے علاوہ ہندی کا شعبہ بھی اس دانش گاہ میں شروع ہی سے قائم کیا گیا تھا ۔پروفیسر محمد اخلاق کو جب اس دانش گاہ کا کُلپتی بنایا گیا تو اُنھوں نے بڑی حکمت عملی ،محنت ،ایمان داری اور بہترین پلاننگ سے اس دانش گاہ کو چار چاند لگانے میں کوئی بھی کسر اُٹھائے نہیں رکھی ۔ سرکار نے ایک ضرورت کے طور پر اُنھیں کُلپتی کا عہدہ سونپا تھا کیونکہ اُن سے پہلے یہ دانش گاہ ایک طرح کی دُکان بن چکی تھی ۔اُنھوں نے قلمدان سنبھالتے ہی تمام تدریسی اور انتظامیہ ملازمین کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور انھیں یہ تلقین کی کہ وہ ایمانداری ،خوف آخرت، محنت ولگن کے ساتھ کام کریں اور دانش گاہ کو اپنا گھر سمجھ کر اپنے فرائض انجام دیں تاکہ یہ دانش گاہ ملک کی بہترین دانش گاہوں میں شمار ہوسکے ۔انھوں نے ایک روز دانش گاہ کے کُلسچیو،سندر سنگھ کو اپنے آفس میں بلایا اور اُن سے کہنے لگے 
’’دانش گاہوں میں لوگ کُلپتی کے عہدے پر پانچ سال تک کے لئے آتے ہیں ،اپنا اچھا بُرا رول ادا کرکے واپس چلے جاتے ہیں ۔میں چاہتا ہوں آپ میرا پورا ساتھ نبھائیں تاکہ میں اپنے کاریہ کال میں اس دانش گاہ کو دُنیا کی عظیم دانش گاہوں میں شمار کرواسکوں‘‘
 سندر سنگھ نے کہا 
’’ جناب !میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ آپ کے دور میں سرسوتی مرکزی دانش گاہ ایک مثالی دانش گاہ کا روپ دھارن کرے ۔میں اس کی ترقی کے لئے آپ کے مشوروں پر عمل کروں گا‘‘
پروفیسر محمد اخلاق، سندر سنگھ کی باتیں سن کر خوش ہوئے اور انھیں اطمینان قلب نصیب ہوا ۔اسی دوران چپراسی چائے لے کر آگیا ۔چائے نوش فرماتے ہوئے پروفیسر محمد اخلاق نے سندر سنگھ کو کہا’’کسی بھی دانش گاہ کے لئے کُلپتی اور کُلسچیو کی حیثیت آپ بہتر جانتے ہیں ۔میری پلاننگ میں کچھ خاص باتیں شامل ہیںاور وہ یہ کہ ہمیں سب سے پہلے انتظامیہ اور تدریسی عملے پر خاص دھیان دینا چاہیے ۔اس کے بعد کچھ نئے کورسز بھی شروع کرنے ہیں علاوہ ازیں نئی عمارتوں کے خاکے تیار کرائے جائیں اور  پوری دانش گاہ کودلکش ماحول میں بدلا جائے ‘‘
سندر سنگھ نے حامی بھرتے ہوئے کہا
’’جناب آپ مجھے اپنی پلاننگ کا فریم ورک سونپیں ‘‘
کلپتی پروفیسر محمد اخلاق نے سب سے پہلے تدریسی عملے کے لئے یہ احکامات جاری کئے کہ تمام شعبوں کے اساتذہ اور طلبہ وطالبات کو وقت کی پابندی کا خیال رکھنا ہوگا ۔نصاب میں جدید علوم اور نظریات پر خصوصی توجہ دینا لازمی ہے ۔تمام شعبوں کے اساتذہ کے لئے اس بات کو ضروری قراردیا گیا کہ ہرماہ اُن کے تین 
تحقیقی مضامین یُو جی سی کے منظور شدہ جرنل میں شائع ہونے چائیں ۔مزید برآں ہر سال ایک تحقیقی کتاب زیورطباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آنی چاہیے۔ہرماہ 
ہر شعبے میں ایک سیمینارراور کانفرنس کا انعقاد لازمی قراردیا گیا ۔ہر پندرہ دن کے بعد دانش گاہ کے آڈی ٹوریم میں طلبہ وطالبات سے منشیات پر تقریری مقابلہ کروایا جائے ۔ہرمہینے سائنسی ،سماجی اورادبی شعبہ جات میں کسی ماہرشخصیت سے توسیعی خطبہ دلایا جائے۔ طلبہ وطالبات کے اندر چھپے فطری جوہر کو نکھارنے کے لئے کھیل کود، گیت سنگیت اور ڈرامائی پرواگرام منعقد کیے جائیں ۔انتظامیہ عملے کے لئے بھی یہ احکامات جاری کیے گئے کہ امتحانات بر وقت ہوں ،ہر کام اصول وضابطے کے مطابق ہونا چاہیے ۔کوئی بھی فائیل یونہی کسی بھی ٹیبل پر نہ پڑی رہے ۔سائنس کے شعبوں میں لبارٹریوں کا خاص انتظام ہو تاکہ طلبہ وطالبات کو کسی طرح کی پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے۔دانش گاہ میں نئی عمارتوں کی تعمیر کے لئے خاکے تیار کروائے گئے اور پورے ماحول کو دلکش بنانے کے لئے طرح طرح کے احکامات جاری کیے گئے ۔ پانی ،بجلی اور ذرائع ترسیل وابلاغ کی تمام سہولیات پر خصوصی توجہ دی جائے ۔دانش گاہ کے ملازمین کے لئے خصوصی بسوں کا انتظام عمل میں لایا جائے۔ہوسٹلوں میں رہائش پذیر طلبہ وطالبات کے قیام وطعام کوبہتر سے بہتر بنانے کے احکامات جاری کئے گئے ۔دانش گاہ کے طبی مرکز میں صفائی ستھرائی اور ادویات کی دستیابی کے علاوہ ایمرجنسی کے طور پر ایمبولنس رکھنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ۔ریگنگ کرنے اور نشہ آور چیزوں کے استعمال کرنے والے طلبہ وطالبات کے خلاف سخت سزاکے پوسٹر مختلف مقامات پر چسپاں کئے گئے ۔ہرہفتے تدریسی اور انتظامیہ عملے کے امور اور کارکردگی کو جانچنے پرکھنے کے لئے چند احتسابی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ۔پروفیسر محمد اخلاق نے ان تمام احکامات کو عملی جامہ پہنانے پر زوردیا۔انھوں نے سرکار سے مالی تعاون حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔دیکھتے دیکھتے سرسوتی مرکزی دانش گاہ میں کئی نئی عمارتوں کی تعمیر کاکام شروع کردیا گیا ۔ تین سال میں ہی پوری دانش گاہ ایک نیا رنگ وروپ اختیار کرگئی ۔کئی شعبوں کے طلبہ وطالبات نے ملکی سطح پر مختلف مقابلہ جاتی امتحانات میں گولڈ میڈل حاصل کئے ۔سرسوتی دانش گاہ میں ایم اے ،ایم ایس سی،ایم کام،ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلہ لینا ایک بہت بڑے اعزاز کی بات تصور کی جانے لگی۔اخبارات ،ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کے ذریعے سرسوتی دانش گاہ کے تمام شعبوں میں بہترین تدریسی کام ،انتظامیہ میں عمدہ نظم وضبط اور پوری دانش گاہ کے دلکش ماحول کی جھلکیاں دکھائی جانے لگیں۔اب ملک اور بیرون ملک سے کئی اہم علمی وادبی شخصیات کو مختلف موضوعات پر توسیعی لیکچر دینے کے لئے مدعو کیا جانے لگا۔ کُلپتی پروفیسر محمد اخلاق نے اپنی محنت، قابلیت اور دیانتداری سے مرکزی سرکار سے دانش گاہ کی ترقی کے لئے کروڑوں روپے کی مالی معاونت منظور کروائی ۔وہ ایک خدا دوست ،ایماندار اور انسانیت کے قدردان شخص تھے ۔ وہ انسان سے زیادہ انسانیت کو اہمیت دیتے تھے ۔وہ ذات پات، برادری واد،رنگ ونسل،امیر وغریب ،بھید بھاواور علاقائی تعصب کے سخت خلاف تھے ۔اُن کا اس بات پر کامل یقین تھا کہ سچائی اور ایمانداری میں ہی انسان کی کامیابی اور عزت کا راز مضمر ہے۔انھوں نے دانش گاہ میں رواداری ،بھائی چارے  اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں ایک مسجد تعمیر کروائی تو وہیں انھوں نے مندر،گورودوارہ اور کلیسا بھی تعمیر کروایا۔انہوں نے مختلف شعبہ جات اور انتظامیہ میں تین سال خالی پڑی آسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ایک نوٹس کے ذریعے درخواستیں طلب کیں ۔اس نوٹس کی تشہیر کے فوراً بعد سینکڑوں امیدواروں نے فارم بھرے ۔دو ماہ کے بعد انٹرویو کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ کلپتی پروفیسر محمد اخلاق کو بہت سے سفارشی فون آنا شروع ہوئے لیکن انھوں نے بڑی صاف گوئی سے سفارش کرنے والوں کو یہ کہہ دیا کہ اگر امید وار قابل ہوگا اور وہ ممتحن کو مطمئن کرے گا تو اُس کی سلیکشن ضرور ہوجائے گی  بصورت دیگر اگر نالائق ہوگا تو سلیکٹ نہیں ہوگا۔اُنھیں اس بات کا احساس تھا کہ دانش گاہوں میں جب سفارش کی بنیاد پر نالائق لوگوں کی سلیکشن کی جاتی ہے تو وہ نسلوں کو تباہ کردیتے ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ وہ قابل ،ذہین ومتین اور باادب وبااخلاق اُمیدواروں کی سلیکشن کروانے میں کامیاب ہوئے ۔عالیشان عمارتوں،مختلف قسم کے پیڑپودوں اور پھولوں سے آراستہ  سرسوتی دانش گاہ کا ماحول انتہائی دلکش اور جازب نظر تھا ۔ہر شعبے کی عمارت کو رنگ وروغن اور اقوالِ زریں سے اس طرح سجایا گیا تھا تاکہ دُور سے اُس کی پہچان ہوسکے۔اب تو یہ عالم تھا کہ دانش گاہ کے تعلیمی معیار اور سدا بہار ماحول میں جو کوئی بھی داخل ہوتا تو اُس کا دل یہاں سے واپس جانے کو نہ چاہتا تھا۔
ہر سال کی طرح جب مختلف شعبوں میں ریسرچ ورک کے لئے نوٹس نکالا گیا تو بہت سے امید واروں نے فارم بھرے ۔اُن میں قابل امیدواروں کا پتا 
لگانے اور اُن کی جانچ پرکھ کے لئے ایک تحریری امتحان رکھا گیا ۔مقررہ تاریخ پر بہت سے امیدوار امتحان میں بیٹھے ۔ہندی وبھاگ میں پی ایچ ڈی کی چھ سیٹیں تھیں ۔ 
پچپن امیدواروں میں اکیس امیدوارامتحان میں کامیاب قرار دیے گئے۔ ہندی وبھاگ کے ادھیکش لوک سیوک ایک قابل،خوددار اور جہاں دیدہ انسان تھے۔انہوں نے دو دن بعد کامیاب امیدواروں کے زبانی امتحان کی تاریخ طے کردی ۔ ہندی وبھاگ کے تمام اساتذہ نے مقررہ تاریخ پر زبانی امتحان کا سلسلہ شروع کردیا ۔نمبر وار ہر امیدوار کو اندر الگ ایک کمرے میں بلاکر اُس کی ادبی دلچسپی کے بارے میں پوچھتے ۔ اُ س کے تلفظ اور موضوع پر دھیان دیتے پھر اُس سے سوالات پوچھتے ۔اساتذہ اس بات کی بھر پور کوشش کرتے کہ ذہین ،ہوشیار اور قابل امیدوار وں کا تحقیقی کام کے لئے انتخاب ہو ۔اس لئے زبانی امتحان میں دو دن لگ  گئے۔بالآخر اساتذہ نے چھ اُمیدوار وں کے نام ترتیب وار ایک لسٹ میں شامل کردیئے اور لسٹ منوہر لعل سینئر اسسٹنٹ کے حوالے کردی ۔انھوں نے جونہی منتخب امیدواروں کے نام، ولدیت اور حاصل شدہ نمبرات کے کالم بھرنے کے لئے کمپیوٹر آن کیاتو اسی دوران اُن کے دوست راجن اور ساجن اُن کے پاس آکے بیٹھ گئے ۔پہلے توتینوں کے درمیان کچھ ہنسی مذاق کی باتیں ہوتی رہیں پھر منوہر لعل نے کمپیوٹر پر کام کرنا شروع کردیا۔وہ کام بھی کررہے تھے اور دوستوں کے ساتھ باتیں بھی کررہے تھے کہ اسی دوران ساجن نے اپنے موبائل پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں مداری ایک آدمی کو کبوتر اور سانپ کو خرگوش بنانے کا کرتب دکھا رہا تھا۔ساجن نے اپنے دوستوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا
’’یارو!یہ دیکھو!دُنیامیں انسان کیا کیا کارنامے انجام دے رہا ہے۔حیراں ہوں ان دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں!‘‘
منوہر لعل نے کہا
’’دوست! یہ انٹر نیٹ کا زمانہ ہے ۔سائنس ناممکنات کو ممکنات میں بدل رہی ہے۔پوری دُنیا آج ہمارے ہاتھ میں آگئی ہے ‘‘
راجن نے کہا
’’دوستو! میرا خیال تو یہ ہے کہ انٹرنیٹ نے جہاں ہمیں بہت سی سہولیات مہیا کروائی ہیں تو وہیں بہت کچھ ہم سے چھن لیا ہے ۔کیا تم میری اس بات سے اتفاق کرتے ہو کہ فیس بُک،واٹس ایپ اور یُو ٹیوب نے ہم سے نیند،سکونِ قلب اور حیا چھین لی ہے ؟‘‘
منوہر لعل اور ساجن دونوں دوستوں نے راجن کی بات سے اتفاق کیا۔باتوں باتوں میں منوہر لعل نے کمپیوٹر پہ ہندی میں پی ایچ ڈی کرنے والے امیدواروں کی لسٹ تیار کردی لیکن پہلے امیدوار کے نمبرات کالم میں انھوں نے ایک کالم میں پندرہ نمبرات میں سے سولہ نمبرات لکھ دیے۔ منوہر لعل نہایت محنتی، شریف ،خوش اخلاق ،وقت کے پابند اور سنجیدہ تھے ۔ہندی وبھاگ کے ادھیکش لوک سیوک اُن کے کام سے مطمین تھے۔ وہ منوہر لعل کے ہاتھ سے نکلی ہوئی کسی بھی دستاویز پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے ہستاکھشر کرتے تھے۔ کامیاب امیدواروں کی لسٹ تیار کرنے کے بعد اُس پر ہندی وبھاگ کے اساتذہ نے ہستاکھشر کیے ۔اُس کے بعد وبھاگ کے ادھیکش لوک سیوک نے اپنی مہر ثبت کی اور اُس پر ہستاکھشر کیے ۔آخر پر سنکائے ادھیکش سے ہستاکھشر کروائے گئے ۔ اس طرح جب ہیرا لال نندن کے پاس یہ کامیاب امید واروں کی لسٹ پہنچی تو انھوں نے بھگوان کا نام لے کر دانش گاہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردی ۔لسٹ کو اپ لوڈ کیے ابھی ایک منٹ بھی نہیں ہوا تھا کہ دانش گاہ کے کسی آفیسر کا ہیرالال نندن کو فون آیا کہ ہندی کی اپ لوڈ کی ہوئی لسٹ کو فوراً ویب سائٹ سے ہٹا دیں کیونکہ اس میں پندرہ نمبرات میں سے ایک امیدوار کو سولہ نمبرات دیے گئے ہیں ۔ہیرا لال نندن کے ماتھے پہ ڈر وخوف کی وجہ سے سناٹا سا چھا گیا ۔پسینے کے قطرے ابھر آئے ۔انھوں نے چشم زدن میں ویب سائٹ سے لسٹ ہٹا دی لیکن تب تک وہ سوشل میڈیا کی تُند وتیز لہروں کی زد میں آچکی تھی۔سرسوتی مرکزی دانش گاہ کے سینئر اسسٹنٹ کی ایک معمولی سی غلطی کو  زیادہ تراُن لوگوں نے فیس بُک اور واٹس ایپ پر اتنا زیادہ اچھالا کہ جن کی سلیکشن سرسوتی مرکزی دانش گاہ میں کسی پوسٹ پہ نہیں ہوئی تھی ۔وہ لوگ اس بات کو بھول گئے تھے کہ انسان بشر ہے اور بشریت اُس کی سرشت میں ہے ۔واٹس ایپ ،فیس بک اور اخبارات میں اس معمولی سی لغزش پر اک کہرام مچادیاگیا۔مایوسی،شرمساری اور بے  بسی کے سائے دانش گاہ کے ہر چھوٹے بڑے آفیسر تک پہنچے لیکن کوئی کیا کرسکتا تھاکیونکہ جان جسم سے اور تیر کمان سے نکلے تو واپس نہیں آتے۔ہاں اس معمولی غلطی سے ایک  بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ سرسوتی دانش گاہ کے تدریسی اور انتظامیہ عملے کے ملازمین ہر کام کرنے سے پہلے خوب سوچتے ہیں ،کوئی بھی دفتری دستاویز تیار کرنے کے بعد اُسے بار بار چیک کرتے ہیں کیونکہ اُنھیں پندرہ،سولہ والی غلطی کا شدید احساس ہے۔
���
صدر شعبۂ اردو 
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیوسٹی راجوری( جموں کشمیر)
موبائل نمبر؛7889952532

تازہ ترین