تازہ ترین

پنچایت چوکی گوہلد کے کئی مستحقین’آواس یوجنا‘سے باہر | محکمہ و ملازمین پر اثر ورسوخ رکھنے والوں کو فائدہ پہنچانے کا الزام

تاریخ    8 اپریل 2021 (10 : 12 AM)   


جاوید اقبال
مینڈھر //بلاک مینڈھر کی سرحدی پنچایت چوکی گوہلد کے کئی بی پی ایل مستحقین پردھان منتری اواس یوجنا کے زمرے میں لائے ہی نہیں جاسکے جس کی وجہ سے مستحق غریب اپنے کچے گھروں میں ہی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ اور محکمہ دیہی ترقی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سرحدی پنچایت میں ہی ہی بنکروں کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے اور نہ ہی بی پی ایل مستحقین کو مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کر دہ سکیم کے تحت گھروں کی تعمیر کا کام دیا گیا ہے ۔مقامی سرپنچ زمرد خان نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مذکورہ پنچایت سرحدی کے قریب آباد ہے تاہم اس کی زیادہ تر آبادی بی پی ایل زمرے میں آتی ہے اور کئی کنبے کچے گھروں میں پسماندہ طرز کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے محکمہ دیہی ترقی اور متعلقہ ملازمین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کردہ پردھان منتری اواس یوجنا کا فائدہ صرف اور صرف سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والوں ہی پہنچایا جارہا ہے جبکہ مستحقین کو یکسر نظراندازکرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پہلے انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ پنچایت کے بنکروں کو منتقل کر دیا گیا اور اب غریبوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے ۔مقامی مستحقین و معززین نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ سرحدی پنچایت کے مستحقین کو مرکزی سکیم کا فائدہ پہنچایا جائے جبکہ غیر قانونی عمل میں ملوث ملازمین کیخلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
 

تازہ ترین