تازہ ترین

اوڑی میں پہاڑی طلبہ کیلئے 60لاکھ روپے وظیفہ کی رقم لیپس

محکمہ مال یا محکمہ تعلیم کی لاپرواہی؟تحقیقات کئے جانے کا عوامی حلقوں کا مطالبہ

تاریخ    8 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ظفر اقبال
 اوڑی/ /اوڑی میں پہاڑی بولنے والے طلبہ کیلئے 60لاکھ روپے کاتعلیمی وظیفہ حکام کی کوتاہی سے لیپس ہوگیاہے اور اب یہ محکمہ تعلیم اور محکمہ مال اس کاالزام ایک دوسرے پر تراش رہے ہیں۔ اس دوران نیشنل کانفرنس نے وظیفہ ضائع ہونے کی وجوہات جاننے کیلئے اس کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تعلیمی زون اوڑی میں پہاڑی طلبہ کے لئے 31لاکھ روپے کا وظیفہ منظور ہواتھا جبکہ بونیارزون اورچندن واڑی زون کیلئے بالترتیب 14 لاکھ 60 ہزار اور 13 لاکھ 86 ہزار روپے منظور ہوئے تھے۔زونل ایجوکیشن افسر اوڑی میں تعینات ایک ملازم نے بتایا کہ اگرچہ اوڑی زون کے تمام اسکولوں کے طلبہ کی دستاویزات وقت پر متعلقہ تحصیلدار کے دفتر میں تصدیق کیلئے جمع کرائے گئے تھے ،تاہم متعلقہ تحصیلدار نے ان دستاویزات کی تصدیق نہیں کی،جس کی وجہ سے یہ رقومات ضائع ہوگئے۔اس ملازم نے یہ بھی بتایا کہ تحصیلدارنے وہ دستاویزات بھی واپس نہیں کئے جو اُنہیں تصدیق کیلئے پیش کئے گئے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اوڑی زون میں پہاڑی طلبہ کے وظیفے میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ زونل ایجوکیشن آفیسر بونیار محمد حسین لون نے بتایا کہ سال 2020 میں ان کے تعلیمی زون میں پہاڑی طلبہ کے لئے 14 لاکھ ساٹھ ہزار روپے منظورہوئے تھے مگر ہم نے اس رقم سے صرف 4 ہزار روپے تقسیم کئے کیوںکہ متعلقہ تحصیلدار نے دستاویزات تصدیق کرنے سے انکار کیا۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنے اعلیٰ حکام کو مطلع کیا ہے۔پہاڑی وظیفہ ضائع ہونے کے بعد مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے پہاڑی وظیفے کی ایک بڑی رقم کو ضائع کر کے اوڑی کے غریب طلبہ کو اس سے محروم رکھا گیا۔لوگوں کا کہنا ہے اگر چہ اوڑی کے پہاڑی طلبہ کو برسوں سے یہ وظیفہ فراہم کیا جاتا تھا تو اس میں اب تنازہ کیوں پیدہ کیا گیا۔  تحصیلدار بونیار، جنہیں اوڑی کا بھی اضافی چارج دیا گیا ہے ،نے بتایا کہ مستحقین نے پہاڑی سپیکنگ سرٹیفیکیٹ کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کے لئے محکمہ تعلیم کی طرف سے بھیجے گئے دستاویزات کو تصدیق کرنا ممکن نہیں تھا جو میں نے پہلے ہی محکمہ تعلیم کے آفسران کو تحریری طور بتایا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ محکمہ تعلیم کی غلطی ہے کیوں کہ ان کو چاہے تھا کہ وہ طلبہ کو وقت پر وظیفہ حاصل کرنے کا اصل طریقہ کار بتاتے۔ادھر جموں کشمیر نیشنل کانفرنس, شمالی زون کے نائب صدر ڈاکٹر سجاد شفیع نے لفٹینٹ گورنر جموں کشمیر اور ڈپٹی کمشنر بارہمولہ سے اپیل کی ہے کہ ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو اس معاملے کی چھان بین کرئے کہ پہاڑی وظیفے کی ایک بڑی رقم کو کیوں لیپس کیا گیا۔
 

تازہ ترین