تازہ ترین

جموں خطہ میں کوویڈ 19 کیسوں میں نمایاں اضافہ: صوبائی کمشنر | مائیکرو کنٹینمنٹ زون قائم کرنے ،شدید متاثرہ مقامات کا پتہ لگانے کا دیا عندیہ

تاریخ    8 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

سید امجد شاہ
جموں// جموں خطے میں تازہ کوڈ 19معاملہ میں نمایاں اضافہ پر لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے صوبائی کمشنر جموںڈاکٹر راگھو لنگر نے کہا کہ اگرلوگوں نے کوڈ مناسب رویہ نہ اپنایا تو وہ کورونا کے مزید پھیلائو کو روکنے کیلئے مائیکرو کنٹینمنٹ زون بنانے پر مجبور ہوجائیںگے۔صوبائی کمشنر نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بالخصوص ضلع جموں اور دیگر چند اضلاع میں کوویڈ کیسوں کی کل تعداد میں اضافے کے درمیان گذشتہ تین ہفتوں سے ابھرتی کوویڈ صورتحال تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے کچھ دنوں سے 10 سے 15 معاملات کی نسبت مثبت معاملات کی تعداد 347 تک پہنچ چکی ہے جن میں ضلع جموں میں 137 شامل ہیں اور یہ ایک تشویش ناک رجحان ہے۔انہوں نے کہا "مجموعی طور پر تخفیف کے لئے ہمیںعام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے جیسے عوامی مقامات پر کوویڈ مناسب طرز عمل کو اپنانا ، ماسک پہننا ، ہاتھوں کی صفائی کرنا اور جسمانی دوری بنائے رکھنا ہے‘‘۔ پچھلے کئی دنوں میں کچھ یونین ٹریٹریوں اور ریاستوں کی جانب سے رات کے کرفیو اور لاک ڈاؤن یا کسی قسم کی پابندی عائد کئے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا"مجھے نہیں لگتا کہ یہاں کوئی ایسی بات ہوگی (جموں و کشمیر میں لاک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے) ، بشرطیکہ تمام افراد انتظامیہ اور محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کریں۔ اگر مناسب رویہ اختیار نہ کیا گیا اورمعاملات میں اضافہ ہوتا رہا تو ہم مائیکرو کنٹینمنٹ زون بنائیں گے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے لوگوں کو حساس طرز عمل اپنانا ہوگا اور انہیں خود ہی ٹیکے بھی لگوانا ہونگے "۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم کوویڈ مناسب طرز عمل پر عمل نہیں کرتے ہیں تو ہمیں مائیکرو کنٹینمنٹ زون کے بارے میں سوچنا اور منصوبہ بنانا ہوگا۔ ہمیں شدید متاثرہ مقامات کی تلاش کرنی ہوگی جہاں مائیکرو لیول پر معاملات دوبارہ سامنے آرہے ہیں کیونکہ ہم مکمل کنٹینمنٹ زون نہیں بناسکتے ہیں۔انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی نقل و حرکت کو کم کریں اور کووڈ رہنما اصولوں پر عمل کریں ، تحمل کا مظاہرہ کریں اور جسمانی فاصلے برقرار رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا "ہمیں اس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے ہر نقطہ پر 100 فیصد جانچ کو یقینی بنانا ہوگا"۔انہوں نے مزید کہا "کوویڈ کیسوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، ہم نے اپنی جانچ میں بھی اضافہ کیا ہے ، یعنی جموں ڈویژن میں روزانہ ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ (RAT) 18000 اور RT-PCR 6500 سے زیادہ ہورہے ہیں"۔انہوں نے کہا کہ لکھن پور میں ، جسے ریڈ زون کے طور پر درجہ بند کیاگیا ہے ، میں باقاعدہ ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔ ہم نے ضلع رام بن کے جواہرٹنل کی جنوبی سرنگ پر ڈرائیوروں / کنڈکٹروں کے بے ترتیب نمونے لینے میں بھی اضافہ کیا ہے۔دریں اثنا ، ڈپٹی کمشنر ، جموں انشول گرگ نے کہا کہ "جموں ضلع میں صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔"ان کاکہناتھا’’پچھلے 15 دنوں سے کیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔صرف جموں ضلع میں ہی 138 واقعات سامنے آئے ہیں ، جس کے لئے ہمیں کوویڈ مناسب رویہ اپنانے کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا "آنے والے تمام مسافروں کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔ ہم نے آر ٹی پی سی آر کے نمونے لینے میں اضافہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کو گھر پر قرنطین کیاجارہا ہے جبکہ قرنطین کی سہولیات میں بیرونی افراد کو الگ تھلگ کیا جارہا ہے اور انہیں اپنے ٹیسٹ منفی آنے کے بعد مزید آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ شہر میں روزانہ 4000 ٹیسٹ کئے جارہے ہیں اور 25 ٹیمیں بھیڑ بھاڑ والے مقامات ، سروس پرووائڈرس ، بینکوں ، دفاتر اور دیگر مقامات پر نمونہ جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ، ہم معاملات کا پتہ لگانے کے بعد 2 دن کے لئے اداروں کو بند کردیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا "ہم نے جموں ضلع میں کووڈ ٹیکہ کاری کے 91 مقامات قائم کیے ہیں اور پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے صورتحال کے مطابق اٹھائے جائیں گے"۔
 

تازہ ترین