تازہ ترین

ویانا میں مذاکرات کا پہلا دور کامیاب

امریکہ اور ایران جوہری معاہدے پر ’ورکنگ گروپ‘ کے قیام پر متفق

تاریخ    8 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ویانا// آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان عالمی جوہری معاہدے پر بلواسطہ مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہوگیا۔ویانا میں یورپی یونین کے توسط سے امریکا اور ایران کے درمیان عالمی جوہری معاہدے میں واپسی سے متعلق ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا جس میں جوہری معاہدے کے دیگر فریقین نے بھی شرکت کی۔امریکا اور ایران سمیت یورپی یونین اور جوہری معاہدے کے دیگر فریقین نے مذاکرات کے پہلے دور کو تعمیری اور مثبت قرار دیا ہے جب کہ مذاکرات میں شامل تمام فریقین نے ایران پر عائد پابندیوں اور امریکا کی جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے ایک ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔اپنے الگ الگ بیانات میں امریکا اور ایران نے کہا کہ انہیں فوری طور پر کسی کامیابی کی توقع نہیں ہے تاہم ابتدائی بات چیت مثبت رہی اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک مثبت انداز میں پیشرفت جاری رکھیں گے۔ایران، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے نمائندوں کے درمیان ویانا شہر کے گرینڈ ہوٹلز میں بات چیت ہوئی۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اجلاس کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ یہ ممالک مشترکہ جامع منصوبے (جے سی پی او اے) کی بحالی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر مئی 2018 میں ترک کردیا تھا۔ویانا میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے عباس آراغچی نے بتایا کہ 'ویانا میں مذاکرات تعمیری تھے، ہماری اگلی ملاقات جمعہ کو ہوگی'۔انہوں نے ویانا مذاکرات کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل امریکا کی جانب سے ایران کو کی جانے والی پیش کش کے حوالے سے کہا کہ 'ہم یورینیم کی 20 فیصد افزودگی روکنے کے بدلے میں ایران کا (جنوبی کوریا میں منجمد) ایک ارب ڈالر کو جاری کرنے سے متعلق کسی بھی معاہدے کو مسترد کرتے ہیں'۔روس کے نمائندے میہکائیل الیانوف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ یہ ملاقات 'کامیاب' رہی۔انہوں نے کہا کہ 'جے سی پی او اے کی بحالی فوری طور پر نہیں ہوگی، اس میں کچھ وقت لگے گا لیکن کتنی دیر تک؟ کوئی نہیں جانتا'۔ان کا کہنا تھا کہ 'مشترکہ کمیشن کے آج کے اجلاس کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عملی کام شروع ہوچکا ہے'۔اسی معاہدے کو بچانے کے لیے ایک امریکی وفد بھی اسی شہر میں تھا تاہم ایران کے لیے خصوصی ایلچی رابرٹ میلے کی سربراہی میں ٹیم نے دوسری عالمی قوتوں کے ساتھ بات چیت میں حصہ نہیں لیا کیونکہ ایران نے کہا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیاں اور صدر جو بائیڈن کے ذریعے نافذ کردہ تمام سخت پابندیاں ختم نہیں ہوجاتی ہیں۔امریکا نے بھی کہا کہ ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان ہونے والی مذاکرات 'تعمیری' رہی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ 'ہم اسے ایک تعمیری اور یقینی طور پر خوش آئند اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں'۔ایرانی سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ای نے کہا کہ ایران، امریکی پابندیوں کے خاتمے کی تصدیق کے بعد یورینیم کی افزودگی اور جدید سینٹری فیوجز کی تعیناتی کو فوری طور پر واپس لے گا تاہم وہ 'جلدی میں نہیں ہے' کیونکہ وہ مقامی پیداوار کے ذریعے پابندیوں کا اثر 'ختم' کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تازہ ترین