تازہ ترین

طبی ایمر جنسی کا دوسرا مرحلہ!

مہلک کورونا وائرس سے بچائو کیلئے احتیاط لازم

تاریخ    8 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
دنیا کے بیشتر حصوں کی طرح وادی کشمیر میں بھی مہلک کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سلسلے کی جاری دوسری لہرکافی خطرناک ثابت ہورہی ہے ۔ماہرین بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہے کورونا وائرس کو لیکر فکر مند ہیں اور وہ عوام کو احتیاطی تدابیر کی صلاح دے رہے ہیں۔لیکن بعض حقائق کو لیکر لوگوں کے استفسارات جواب طلب ہیں تاکہ پہلے کی طرح ہی ’سازش‘ کی تھیوری عوامی اذہان میں جگہ نہ بنانے پائے۔بارہویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے احتیاطی طور بند کرنا تو ٹھیک ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کا کیا جہاں اور لوڈ میں لوگ ایک دوسرے کے سروں پر سوار رہتے ہیں؟چھوٹی گاڑیوں کو لیجئے تو ایک ساتھ نو دس افراد ایک دوسرے سے چمٹ کر بیسیوں کلو میٹر کا سفر بحث و مباحثوں میں طے کرتے ہوئے سماجی دوری یا ماہرین کی زبان میں بولیں تو ایس او پیز کی ایسی تیسی کرلیتے ہیں۔اور تو اور چہروں پرماسک کی بھی پابندی نہیں! یہ صحیح ہے کہ عوام کو خود ہی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا چاہئے لیکن پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں کے بارے میں حکام فیصلہ لے سکتے ہیں تو پبلک ٹرانسپورٹ کا معاملہ کیوں عوام پر چھوڑا گیا ہے؟اب اگر لوگوں نے خود ہی پبلک ٹرانسپورٹ کولیکر فیصلہ لے لیا تو بھلا سرکاری ملازم، یونیورسٹی اور کالیج کے طالب علم اور یومیہ مزدور وغیرہ سماج کے کل پرزے کس طرح اپنے روز مرہ کے کام پر پہنچ سکتے ہیں؟
حکام کو سیاحت کے فروغ کے نام پر ایس او پیز کی دھجیاں اُڑائے جانے کے بارے میں بھی حساس رہنا پڑے گا۔ اُنہیں گذشتہ برس ماہ مارچ میں چین کے شہر اوہان کی اُن تصاویر اور اُسی برس ماہ ستمبر کے دوران لی گئی تصاویر کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ماہ مارچ میں اوہان کا شہر کسی قبرستان سے کم دکھائی نہیں دے رہا تھا جبکہ ماہ ستمبر میں اُسی شہر کی سڑکوں پر کورونا وائرس کو ہرانے کی خوشی میں کنسرٹ منعقد ہوئے جن میں لاکھوں افراد شامل تھے۔حالانکہ اوہان ہی نہیں پورا چین دنیا بھر کیلئے ایک سبق ہے جہاں سے بظاہر کورونا وائرس کی سرگرمیاں شروع ہوکرپوری دنیا میں پھیل گئیں۔چین نے معلوم نہیں ایسا کیا کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دم بھرنے والا امریکہ بھی وہ نہ کرسکا۔بہر حال جموں کشمیر کے حکام تو چین جیسے اقدامات نہیں کرسکتے ہیں لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ آج کل ایک ملک کے اندر کئے جانے والے اقدامات دوسرے خطے میں عملانے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہئے۔ یہ بات ملکی سطح کے ماہرین کو جان اور مان لینی چاہیے کہ وہ ابھی طبی شعبے کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر ٹیکنا لوجی کے اندر بہت پچھڑے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بے چارے عوام اس دور جدید میں بھی بحرانی صورتحال کے اندر پھنس کر رہ گئے ہیں۔     
قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کے نئے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ ملک میں بھی کورونا کیسوں میں بھاری اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ برس کے اوائل ، جب سے کورونا نے بھارت میں سر نکالا، ابھی تک کاسب سے زیادہ ایک لاکھ سے زائد یومیہ کیس ظاہر ہونے کا ریکارڈ بنا ہے۔حکام کہتے ہیں کہ لوگ حفاظتی اقدامات پرسنجیدگی کے ساتھ عمل نہیں کرتے ہیں اور بازاروںاور دیگر پروگراموں میں وہ بلا خوف ماسک اور سماجی دوری کے بغیر گھومتے پھرتے نظرآتے ہیں۔عوامی حلقوں کی بھی اپنی شکایات ہیں ،لیکن ظاہر ہے کہ شکایات اور جوابی شکایات سے یہ معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ اس کیلئے عوام اور حکام، دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا، بصورت دیگر ہمارے یہاں بھی مہاراشٹرا جیسی صورتحال پیدا ہوگی اور خدا نخواستہ اگر ایسا ہوا تو پھر شکایات کا بھی موقع نہیں ملے گا! 
حکام کو چاہئے کہ وہ کورونا مخالف ویکسین پر لوگوں کا اعتماد بڑھائیں کیونکہ ماہرین اس بات کو لیکر فکر مند ہیں کہ ابھی یہاں صرف ایک فیصد آبادی نے ہی کورونا مخالف ٹیکہ لگایا ہے۔ عوام کا اعتماد اس وقت محض باتوں سے نہیں بڑھایاجاسکتا ہے۔ اس کیلئے ماہرین اور حکام کو ٹھوس حقائق لیکر سامنے آنا ہوگا جن سے یہ بات ثابت ہوسکے کہ ٹیکہ لگانے والے کس حد تک کورونا وائرس سے بچ رہے ہیں اور یہ کہ کورونا مخالف ٹیکے سے اُن کی صحت پر منفی اثر ات مرتب نہیں ہورہے ہیں۔ کورونا ٹیسٹنگ کے بارے میں بھی حکام کو ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے وائرس سے متاثرہ افراد کے ذریعے سماج کو کم سے کم متاثر ہونے میں مدد مل سکے۔مزید بر آںحکام کو فوری طور پر کورونا مریضوں کیلئے الگ طبی مراکز قائم کرنے چاہیں تاکہ باقی ماندہ عام مریضوں کا علاج و معالجہ اسپتالوں کے اندر متاثر نہ ہو اور گذشتہ برس کی طرح ہی دیگر امراض میں مبتلاء لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ نہ بن جائے۔  
وزیر اعظم نریندر مودی کے گذشتہ ہفتے کے بیان سے اس بات کا عندیہ مل رہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کی تازہ لہر کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہے کیونکہ خود وزیر اعظم کورونا کی دوسری لہر کی شدت کو لیکر فکر مند ہیں۔انہوںنے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے حکمرانوں  کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقدہ میٹنگ میں کہا’’ہمیں کورونا کی اس ابھرتی ہوئی سیکنڈ پیک کو فوراً روکنا ہوگا۔ اس غرض سے ہمیں فوراً فیصلہ کن اقدام کرنا ہوگا‘‘۔وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا ’’ اب لاپروائی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ٹیسٹ، ٹریک اور ٹریٹ کے سلسلے میں ہمیں مزید سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے‘‘۔
 اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے (یونیسف) نے بھی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لئے ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں کیونکہ دوسری لہر کے دوران دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔یونیسف سے وابستہ ماہرین کے مطابق کورونا کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے یہاں تک کہ اُن علاقوں تک بھی پہنچ چکی ہے جو پہلی لہر کے دوران وائرس سے بچ گئے تھے جس کی وجہ سے ہسپتالوں اور طبی مراکز پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ بے شک حکام کو عوام سے تعاون درکار ہے۔ عوام کی طرف سے چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے انسانی زندگیوں کو بچا یا جا سکتا ہے۔ماہرین پہلے ہی سختی سے مشورہ دے چکے ہیں کہ ’’ماسک پہنیں،دوسروں سے 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں، ہاتھ دھوتے رہیں، اور بڑے اجتماعات سے اجتناب کریں‘‘۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان مشوروں پر سختی سے عمل کیا جائےs تو لوگوں کی خوشیاں کسی کے لئے پریشانی یا دکھ کا باعث نہیں بنیں گی۔
گذشتہ برس کے اوائل سے پوری دنیا کے اندر کورونا وائرس نے جو تباہی مچارکھی ہے اس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی تازہ لہر عالمی سطح کی طبی ایمر جنسی کا نیا مرحلہ ہے۔اس سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح کے ہی اقدامات کی ضرورت ہے، لیکن ہر خطے کے لوگ اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہیں۔ لوگوں کو یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ خود ان کی اور ان کے اپنے اپنوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں۔ہم اپنی اور اپنے قریبی لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کو لیکر کس قدر سنجیدہ ہیں ؟اس بات کا اندازہ کورونا وائرس سے بچنے کیلئے ہمارے احتیاطی تدابیر کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
 

تازہ ترین