تازہ ترین

خواب حقیقت

تاریخ    4 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


طارق شبنم
’’کیاواقعی تم سچ بول رہے ہو ؟‘‘
میری بات سن کر خالہ کو یقین نہیں آیا اور اس نے حیران کن لہجے میںپوچھا ۔
’’ہاں خالہ ۔۔۔ جھوٹ کیوں بولوں،میں بالکل سچ کہتا ہوں‘‘ ۔
’’لیکن؟۔۔۔۔۔۔ خیرمیں شام کو آرہی ہوں ،وہیںفرصت سے بات کریں گے‘‘۔
کچھ لمحے حیرت و استعجاب سے مجھے دیکھتے ہوئے خالہ نے کہا۔ 
’’ٹھیک ہے خالہ ،لیکن ضرور آنا‘‘۔
میں نے خالہ سے کہا اور کچھ وقت باغ میںبیٹھ کربچپن کی خوشگوار یادوں کو تازہ کرکے واپس گھر کی طرف چلا گیا ۔دراصل آج چٹھی تھی ، موسم بھی خوشگوار تھا اور میں صبح صبح ہی باغ کی طرف چلا گیا ،خالہ بھی اپنے باغ میں تھی ،میں اس کے پاس گیا اور علیک سلیک کے بعد وہی باتیں بتادیں جو میں کئی دنوں سے اُسے بتانا چاہتا تھا ۔گھر پہنچ کر میں چند ہفتے پہلے پیش آئے واقع کو لے کر گہری سوچوں میں ڈوب گیا ۔ 
اس دن میں دفتر سے جلد ہی واپس آیا اور حسب معمول سیدھے بڑی اماں کے کمرے میں چلاگیا۔وہ بستر پرتکئے سے ٹیک لگائے بشاش انداز میں بیٹھی تھی ۔میںنے بلند آواز میں اسلام علیکم کہا تو مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دینے کے بعد وہ گویا ہوئی ۔
’’آگئے پُتّر ۔۔۔۔۔‘‘۔
’’جی اماں ۔۔۔۔۔۔ آگیا ،اب آپ کی طبعیت کیسی ہے ؟‘‘
’’خدا کا شکر ہے ،اب میں بالکل ٹھیک ہوں ۔تو جلدی سے کپڑے بدل کر آجائو اور چائے پی لے،دیکھ بھوک سے تمہاری آنکھیں مر جھا گئیں ہیں‘‘ ۔
یہ اس کا معمول تھا، اگر میں دعوت یہ کھانا کھا کے بھی گھر آجاتا تو وہ کہتی تھی کہ جلدی سے کچھ کھا پی لے ،بھوک سے تمہاری آنکھیں مرجھا گئیں ہیں اور جب تک اس کی آنکھوں کے سامنے میں کچھ کھا نہ لیتا اس کو قرار نہیں آتا تھا ۔میں کپڑے بدل کر اپنے کمرے سے آیا اور اس کی بغل میں بیٹھ کر چائے پینے لگا ۔اس نے ہاتھ بڑھا کر تکئے کے نیچے سے تین چار اخروٹ نکالے اور روشنی ،جو چائے لے کر آئی تھی ،کو دیتے ہوئے کہا ۔
’’روشنی بٹیا ۔۔۔۔ جلدی سے ان کی گریاں نکال کر لے آئو‘‘۔
وہ ہر روز تکئے کے نیچے یا پیرہن کے جیب میں کچھ نہ کچھ جیسے سیب ،اخروٹ،انار، کیلے وغیرہ چھپا کر رکھتی تھی اور جب میں گھر آتا تھا تو چپکے سے مجھے تھما دیتی تھی ،اب مجھے یادبھی نہیں ہے کہ یہ سلسلہ کب سے چلا آرہا تھا ۔اماں پچھلے دو تین دن سے بیمار تھی لیکن یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ اب بالکل ٹھیک ہو چکی تھی۔ کوئی دس گیارہ سال پہلے اماں اسی سردی کے موسم میں اتنی سخت بیمار ہوئی تھی کہ ہم نے اس کے بچنے کی امید ہی چھوڑ دی تھی ۔اس دوران ایک صبح تیز بارش ہو رہی تھی اور میں اس کے سرہانے بیٹھا تھا ۔دفعتاً اس نے میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوئوں گرنے لگے ۔
’’اماں ۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے ،آپ کیوں رونے لگیں ۔۔۔۔؟‘‘
’’پُتّر ۔۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری فکر کھائی جا رہی ہے ‘‘۔
اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
’’کیوں اماں ؟‘‘
’’اگر مجھے اللہ کا بلاوا آگیا تو تم کیا کرو گے۔۔۔۔۔۔ بارش کی وجہ سے تم کو۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’کیسی باتیں کرتی ہو اماں ۔تم بالکل ٹھیک ہو جائو گی‘‘ ۔       
میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔چند دنوں تک سخت علیل رہنے کے بعد وہ واقعی بالکل ٹھیک ہو گئی اور آج تک کبھی بھی اتنی شدید بیمار نہیں ہوئی ،البتہ سردیوں کے موسم میں کمزوری اور کبھی کبھی معمولی بیمار ہوتی تھی لیکن مجھے ہمیشہ ڈر رہتا تھا کہ کئی اماں اُس دن کی طرح زیادہ علیل نہ ہو جائے لیکن اللہ کی مہربانی سے ایسا کچھ نہیں ہوا اور وہ بالکل صحت مند زندگی جیتی رہی ۔
وہ میری ماں نہیں تھی لیکن میں نے جب سے ہوش سنبھالاتھا تو اپنے آپ کو اسی کی آغوش محبت میں پایا تھا ۔وہ صبح اذان سے پہلے کھڑی ہو جاتی تھی اور دیر رات تک گھر کے کاموں میں اُلجھی رہتی تھی ۔شام کو تھک ہار کر بیٹھ کے مجھے اچھی اچھی نصیحت آموز کہانیاں سنایا کرتی ۔وہ جہاں بھی جاتی تھی جیسے پانی لانے کے لئے چشمے پر ،گائو خانے میں ،باغ، باغیچے یا کھیتوں میں ،کسی دعوت میںیا کسی تعزیت پر میں بھی اس کا دامن پکڑے اس کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا،میں ایک پل کے لئے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ میں سکول جانے کی عمر کو پہنچ گیا ۔میں تو اُسے چھوڑ کر ایک پل کے لئے بھی کہیں جانے کے لئے ہرگز تیار نہیں تھا لیکن اس نے بڑے ہی پیار سے سمجھا بجھا کر مجھے سکول جانے کے لئے راضی کر لیا اور گھر کے نزدیک ہی ایک نجی سکول میں میرا داخلہ کرایا ۔وہ صبح سیب ،اخروٹ ،انار یا کوئی کھانے کی چیز دے کر مجھے خود سکول تک چھوڑتی تھی اور دن میںایک دو بار مجھے دیکھنے ضرور سکول آتی تھی ۔دوپہر کے وقفے کے وقت میں دوڑتے دوڑتے کھانا کھانے کے لئے آتا تھا تو وہ گھر کے باہری دروازے پر میری منتظر ہوتی تھی اور مجھے گود میں اٹھا کر اندر لے جا کر بڑے ہی پیار سے کھانا کھلاتی تھی ۔اس کی ایک عادت بالکل منفرد تھی وہ جب بھی کھانا پروستی تھی جب تک کھانے والا، وہ جو بھی ہوتا ،فارغ نہ ہوتا وہیںرہتی تھی اور کھانے والے سے پیاراور خوش گفتاری سے با ر بار پوچھتی اور کچھ مت چاہئے ،اور چاول لے لو،سالن ہے وغیرہ۔مجھے تو وہ بڑے ہی نرالے انداز میں کھلاتی تھی اور واپس سکول چھوڑتے وقت ایک روپیہ اور کبھی کبھی دو روپے دیتی تھی اور چھٹی کے وقت دروازے پر میرا انتظار کرتی تھی۔ گھر میں کچھ وقت میرے ساتھ گزار کر مجھے ہوم ورک کرنے کیلئے کہتی اور خود بھی کام میں مصروف ہوجاتی یہاں تک کہ میرا داخلہ پہلے مڈ ل سکول پھر ہائی سکول میں ہوگیا اور میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگا لیکن یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہااور اماں کے پیار ،برتائو اور میرے ناز نخروں میں ذرا بھی فرق نہیں آیا ،سوائے اس کے کہ وہ مجھے زندگی کے انمول اسباق، جیسے صحیح اور غلط میں فرق کرنا ،استادوں بزرگوں کا احترام ،اللہ پر بھروسہ اور ہمیشہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا وغیرہ سے روشناس کراتی تھی اور ناپسندیدہ حرکات پر مجھے ٹوکتی بھی تھی لیکن مجھ پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتی تھی ۔
میں نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی تو اس کے بارے میں ایک چیز میں نے ہمیشہ محسوس کی کہ وہ ہمیشہ سادہ زندگی گزارنا پسند کرتی تھی  ۔اس کے پاس جو کچھ بھی ہوتا تھا وہ اسی پر مطمئن اور خوش رہتی تھی اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتی تھی ۔وہ کبھی بھی اپنے شریک حیات سے اپنے لئے کسی بھی چیز کی فرمائش نہیں کرتی تھی اور نہ کبھی اس کی کسی بات کو ٹالتی تھی ۔اسے اللہ نے بیٹیوں سے نواز کربیٹے کی نعمت سے محروم رکھا تھالیکن میں نے اس کی زبان پر کبھی حرف شکایت نہیں دیکھا۔ میں نے پوری زندگی اس کو بغیر پیرہن کے نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی اس کے سر سے چادر کو کبھی گرتے دیکھا ہے ۔اس کا ہاتھ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ،وہ کبھی کسی سائیل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی تھی ،وہ ہمیشہ دوسروں کو دیتی تھی لیکن کبھی کسی سے کچھ مانگتی نہیں تھی ۔
’’پُتّر ۔۔۔۔۔۔ تجھے بھوک لگی ہوگی‘‘ ۔
میں اماں کے پاس بیٹھے اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ دفعتاً اس کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی ۔
’’ہاں اماں ۔۔۔۔۔۔ کھانا کھانے کا وقت ہوگیا ‘‘۔
میں نے کہا تو اس نے روشنی کو آواز دی ۔
’’روشنی ۔۔۔اے روشنی ۔۔۔ ذرا جلدی سے کھانا لائو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’آئی اماں جی ۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔ 
کچھ لمحوں بعد ہی روشنی کھانا لے کر آگئی ۔
’’اماں جی ۔۔۔۔۔۔ آپ بھی کھانا کھائیں‘‘ ۔
روشنی نے پانی اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔
’’نہ بٹیا ۔۔۔۔۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے‘‘ ۔
’’اماں ۔۔۔۔۔۔ آپ نے مرغے کا سوپ بنانے کو کہا تھا ،میں نے بالکل تمہاری پسند کا بنایا ہے‘‘ ۔
’’اچھا میں بعد میں سوپ  کے ساتھ روٹی کھائوں گی‘‘۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور روشنی کو دعائیں دینے لگی ۔
کھانا کھانے کے بعد میں دیر تک اس کے ساتھ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ موبائیل پر نیٹ بھی چلاتا رہا۔ ماں اور خالہ،جو بہت دنوں بعد ملی تھیں، بھی ایک طرف بیٹھ کر باتوں میں مصروف تھیں ۔
’’چل پُتّر اب سو جا ۔۔۔۔۔۔ تمہیں نیند آرہی ہے‘‘ ۔
’’اماں ۔۔۔۔۔۔ پہلے آپ کچھ کھائیں‘‘۔
’’ہاں ۔۔۔۔۔۔ کھائوں گی‘‘ ۔
اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو میں نے روشنی کو آواز دی جو سوپ اور روٹی لے کر آگئی ۔اماں نے تھوڑے سے سوپ کے ساتھ روٹی کا ایک ٹکڑا کھایا اور میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی ۔
’’اب خوش ہو پُتّر۔۔۔۔۔۔ جا اب سو جائو‘‘ ۔
میں سونے کے لئے اٹھا تو وہ مجھے دعائیں دینے لگی جس دوران نہ جانے اس کی آنکھیں کیوں نم ہو گئیں ۔میں اس بات پر بہت مسرور تھا کہ اماں کی طبعیت ٹھیک ہوگئی لیکن ساتھ ہی اس بات کی فکر بھی ہورہی تھی کہ اماں بہت کمزور ہوگئی ہے ۔کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ کل ہی ڈاکٹر سے اماں کی کمزوری کے بارے میں بات کروں گاتاکہ اس کی کمزوری کا علاج ہو سکے اور وہ آرام سے چل پھر سکے ،کیوں کہ اماں کی آرزو رہی تھی اور وہ اللہ سے ہمیشہ یہ دعا بھی مانگتی تھی ۔
’’میرے مولا ۔۔۔۔۔۔مرتے دم تک ہوش وحواس ،آنکھوں کی روشنی اور جسم کی تند رستی بر قرار رکھنا ،چلنے پھرنے سے کبھی معذور نہیں کرنااور موت کی سختی سے بچانا‘‘ ۔
اماں کے بارے میں سوچتے سوچتے ہی میں نہ جانے کب نیند کی میٹھی آغوش میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
دفعتاً میں نے اماں کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو میں جٹ سے کمرے سے نکل گیا ،اماں واش روم کی طرف جارہی تھی ۔
’’اماں ۔۔۔۔۔ کہاں جارہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’پُتّر ۔۔۔۔۔۔ وضو بنانے جارہی ہوں ‘‘۔
’’اچھا ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
میں نے کہا اور اماں کے کمرے میں داخل ہوگیا اور اس کی بیٹی یعنی خالہ ،جو اس رات اتفاق سے ہمارے گھرآئی تھی اور اماں کے پاس ہی سوئی تھی ،سے پوچھا ۔ 
’’خالہ ۔۔۔۔۔ اماں ٹھیک ہے نا ؟‘‘
’’ہاں ۔۔۔۔۔۔ بالکل ٹھیک ہے ،رات کو ایک دوبار اٹھی ،خود ہی پانی پیا اور سوگئی‘‘۔
’’اچھا ۔۔۔۔۔‘‘۔
 میں نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کہا ۔ تھوڑی دیر بعد اماں واش روم سے واپس آگئی اور بستر پہ تکئے سے ٹیک لگا کر بیٹھی، اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں نظر آرہیں تھیں‘‘۔
’’اماں کیا بات ہے ،آپ ٹھیک تو ہو نا؟‘‘ 
’’پتر ۔۔۔۔۔۔ میرا دل تیز تیز دھڑک رہا ہے ،شاید ۔۔۔۔‘‘۔ 
’’کچھ نہیں ہوگا اماں ۔۔۔۔۔۔ آپ ٹھیک ہو‘‘۔
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’نہیں پُتر ،میرا آخری وقت آگیا ،اب کیا کروں؟‘‘
’’ماں ۔۔۔۔۔ تم کلمہ پڑھو‘‘۔ 
خالہ نے اسے کہا۔
’’ٹھیک ہے بیٹی ،تم میرا تکیہ اس طرف پھیرو‘‘۔ 
اماں نے تھکے سے لہجے میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس طرف آخری وقت پر انسان کا تکیہ رکھا جاتا ہے ۔
’’اماں ۔۔۔۔۔۔ اب میں کیا کروں؟ ‘‘
جب میں سمجھ گیا کہ اماں ہمیں چھوڑ کر جانے والی ہے تو میں نے روتے ہوئے کہا ۔
’’روتے نہیں پُتّر ۔۔۔۔۔۔میں تمہیں کہتی تھی نا کہ دنیا ایک نا پائیدار چیز ہے۔۔۔میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گیں‘‘۔
اماں نے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکان بکھیرتے ہوئے نخیف سے لہجے میں کہااور آنکھیں بند کرکے تکئے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ،چند لمحوں تک اس کی زبان ہلتی رہی پھر وہ بستر پر لیٹ گئی اسی لمحہ اس کے سرہانے بیٹھی خالہ نے نم آنکھوں سے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے پھرتی سے چادر کھینچ کر اس کے چہرے پر ڈال دی۔۔۔۔
’’اٹھو ۔۔۔۔۔۔ جلدی اٹھو‘‘۔ 
میری بیوی روشنی نے مجھے جھنجھنوڑتے ہوئے کہا تو میںہڑ بڑاتے ہوئے خوابوں کی دنیا سے باہر آگیا ۔
’’کیوں،کیا بات ہے؟‘‘
’’ اماں ۔۔۔۔۔۔ اماں ۔۔۔۔۔‘‘۔ 
روشنی نے روتے ہوئے کہا ۔
میری سمجھ میں کچھ نہیں آیالیکن درد کی ایک تیز ٹیس میرے پورے وجود میں دوڑ گئی اورمیں انتہائی عجلت میں اماں کے کمرے میں پہنچا تو اماں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میٹھی نیند سو چکی تھی۔ ماں،جس نے اپنی ساری زندگی بڑی اماںجو اس کی ماں تھی ، پر نچھاور کردی تھی ،سخت صدمے میں تھی اور خالہ نم آنکھوں سے اسے دلاسہ دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔
آ ج جب میں نے خالہ کو اپنا خواب سنایا تو اس کو یقین نہیں آیا۔ شام کو خالہ آئی ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد میرے پوچھنے پراس نے بتایا۔۔۔۔۔۔
’’کیا بتائوں،صبح تم نے جوکہا۔۔۔۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ خواب ہے یا حقیقت؟‘‘   
٭٭٭
رابطہ؛ اجس بانڈی پورہ (193502 )کشمیر 
اس میل؛tariqs709@gmail.com
موبائل نمبر؛9906526432
 

تازہ ترین