تازہ ترین

سرحدوں پر جمی یخ پگھلنے لگی

مخاصمت کی بھٹی سے مفاہمت کے فوارے پھوٹ پڑنے لگے

تاریخ    5 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


رشید پروینؔ، سوپور
چند روز قبل ہی ہند پاک افواج کے درمیان سرحدوں پر جنگ بندی کے اعلان نے دنیا کو نہ صر ف چونکا دیا ہے بلکہ متحیر بھی کردیا ہے اور خصوصاً خطہ جنوبی  ایشیاء کے ممالک کے لئے یہ اچنبھے اور خوشگوار بات رہی ہوگی ۔مرکزی سرکار کاہر کام اور ہر قدم اب تک ناگاہ اور اچانک ہی وقوع پذیر ہوتا رہا ہے اور یہ حالیہ قدم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہی مانا جاسکتا ہے۔دراصل اس سے کام کرنے کا ’’ مودی سٹائل ‘‘ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔اعلان دونوں طرف سے مختصر اور مخصوص کچھ جملوں سے ہوا ہے ،اور آر پار یہ اس لئے حیرت کا باعث بناہوا ہے کہ بظاہر ہندوپاک کے مابین حالیہ دور میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے آثار اور کسی واضح عندیہ کے نشانات کہیں دور دور تک بھی نظر نہیں آرہے تھے ۔ اس لئے اس اعلان کے منصۂ شہود پر آتے ہی سیاسی میدانوں میں کھلبلی حق بجانب قرار دی جاسکتی ہے۔ یہ اعلان اس پس ِ منظر میں بھی حیران کن ہے کہ بی جے پی سرکار کی طاقت کے سر چشمے ہی بابری مسجد ، کشمیر اور پاکستان ہے اور ان تین مدعوں کے ہوتے ہوئے اس سرکار نے وہ کچھ کر دکھایا جو سیاسی دنیا اور خصو صاً بھارتی سیاست میں ناقابل یقین لگتا تھا۔ بابری مسجد کاچشمہ اب ایک طرح سے سوکھ چکا ہے اور مستقبل میں اس سے کوئی سیاسی پانی باہر آنے والا نہیں، یعنی ان ان تلوں میں تیل نہیں ۔اب صرف دو مدعے رہے ،ایک کشمیر اور دوسرا پاکستان ۔ کشمیر کے سیاسی چشمے میں پانی موجود ہو تو ہے لیکن اس پر ایسے باندھ باندھے گئے ہیں جس نے اس پانی کو باہر آنے سے محروم کیا ہے۔تیسرا پاکستان کا چشمہ بہر حال اور ہر حالت میں ابھی موجود ہی ہے اور رہے گا اور ان تینوں مدعوں میں اتنی طاقت اور قوت تھی کہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی ،جو سرکاریں بناتی اور گراتی تھیں، یعنی جو وؤٹ کرتی ہیں، نے اپنے بجھتے چولہوں ، اپنے روز گار کی محرومی ، فاقہ کشی اور علاج معالجے غرض ہر بنیادی ضرورت کو نظر انداز کرکے ان تین مدعوں کی سحر انگیزیوں اور جادوئی ماحول میں نشیلی راتوں کی اختراح کرکے آرام سے ان زلفوں میں پناہ لی۔
ان حالات کے پس ِ منظر میں یہ متحیر کن اعلان اپنے آپ میں ایک معمہ ہے۔ عبدالباسط پاکستان کے سابق سفارت کار نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے سے متعلق یہ بیان دیا کہ یہ معاہدہ فوج کے درمیان رابطے کا شاخسانہ ہے جس کا مطلب بخوبی یہ لیا جاسکتا ہے کہ بیک چینل ڈپلومیسی سرگرم رہی ہے کیونکہ اسطرح کا معاہدہ اس ڈپلومیسی کے بغیر ممکن ہی نہیں اور اس سے یہاں تک پہنچنے میں کافی عرصہ لگا ہوگا۔ تو کیا عبدالباسط بھی اس سے بے خبر اور لاعلم رہے ہیں ؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں رہا ہوگا اور یہ کہ صرف فوجی ادراے تک ہی محدود رکھا گیا تھا ۔باسط نے اس کے مضمرات کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ ہندوستان کے حق میں ہے اور یہ پاکستان کی خود کشی کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے بھارت کا کشمیر نریٹو مظبوط اور مستحکم ہوگا جب کہ پاکستان کا نریٹو کمزور پڑ جائے گا۔ باسط کو کشمیر معاملات پر گہر ی نظر ہے۔ انہیں اس معاملے سے متعلق سپیشلسٹ کے طور بھی جانا جاتا ہے۔بیک چینل ڈپلومیسی اس عصری دور میں کوئی نئی چیز نہیں اور بہت سارے ممالک اس کا سہارا لے کر معاملات کو آگے بڑھاتے اورطے کرتے رہے ہیں۔ یہاں بھارت کے سیاسی لیڈروں کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تب بھی یہ معاہدہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ان کا اوڈھنا بچھوناہی پاکستان سے نفرت اور مخاصمت پر مبنی رہاہے۔ توپھر کیا یہاں یعنی اس طرف بھی یہ کارنامہ فوجی ادارے کے سر جاتا ہے ۔ یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ عبدالباسط نے اپنے خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پہ ضرور کیا ہے لیکن میری نظروں سے کسی باجپائی لیڈر کا ردِ عمل نہیں گذرا ۔کیا یہ سب خاموش ہیں یا سانپ سونگھ گیا ہے ۔ یہاں بھارت کی چین کے ساتھ مخاصمت کا بھی کچھ دنوں پہلے اختتام تک پہنچنا ایک ناممکن سی بات دکھائی دیتی تھی لیکن بھارت سرکار نے باضابط یہ اعلان کیا کہ وہ ایک نافذالعمل نتیجے پر پہنچے ہیں۔اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ معاہدہ کن بنیادوں پر اور کس لے دے پر استوار ہوا ۔اس مخاصمت کے بیچ بھارت کی توجہ بہر حال دو محاذوں پر بٹی ہوئی تھی اور بار بار سرکار کی طرف سے یہ بیانات آتے رہے ہیں کہ چین کے اس اگریسیو عمل میں پاکستان کا دخل بھی ہے اور یہ بات ہندوستان کا میڈیا بڑی زور و شور کے ساتھ آگے بڑھاتا رہا ہے ۔اس لئے الیکٹرانک میڈیا نے جو عوامی تاثرات پیدا کئے تھے، ان میں چین سے زیادہ خطرناک اور دشمن نمبر ایک پاکستان ہی ابھر کر سامنے آتا رہا۔
 چین کے ساتھ اپنے معاہدے کے کچھ ہی دنوں کے بعد پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر جنگ بندی جہاں ایک اہم معاہدہ ہے، وہیں اس کے پیچھے شاید بہت کچھ ہو ،جو ابھی سمجھ سے باہر ہے کیونکہ باسط کا بیان جہاںاس معاملے میں بڑا ہی اہم اور معنی خیز ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا نریٹیو کشمیر پر کمزور پڑ جائے گا۔ کیا یہ بات پاکستانی فوجی ادارے کے سامنے نہیں رہی ہوگی ؟اور دوسری طرف بی جے پی کے بہت سارے محلہ صدور سے لے کر بڑے ایوانوں میں بڑے بڑے ستون جب تک پاکستان مخالف نت نئے بیانات نہیں داغتے کھانا ہی ہضم نہیں کرتے وہ لوگ بھی خاموش ہیں ۔کیوں خاموش ہیں یہ بھی سمجھ سے باہر کی بات ہے ۔اس کا مطلب کہیں یہ تو اخذ نہیں ہوتا کہ آرپار سیاسی آسمانوں کی خاموشیاںایک ہی بادل سے نکل کر سامنے آئی ہیں ؟ اور جس طرح یہ سب ہوا ہے اس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ ’’ کوئی ایسی بات شاید ہے جس کی پردہ داری ہے ‘‘۔
 ادھر سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے لیفٹنٹ جنرل بی ایس راجونے کہا ہے کہ ’’ہم جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لئے بہترین اور سخت کوششیں کریں گے اور کسی بھی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ‘‘۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہاٹ لائن موجود ہے اور اس پر رابطہ برقرا رکھا جائے گا اور یہ بھی امید ظاہر کی کہ پاکستان کے فوجی افسران بھی اس سے کامیاب بنانے کی کوششیں کریں گے ۔آگے انہوں نے اس معاہدے سے متعلق امید ظاہر کی کہ اس سے جنگوؤں کی کشمیر آمد رک جائے گی اور اسطرح سے ہم دراندازی سے محفوظ ہوجائیں گے ۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سرنگوں کے ذریعے ہتھیار اور جنگووؤں کو روکا جائے گا ۔ان سب باتوں سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ بات چیت تفصیل کے ساتھ اور ہر پہلو کو مدِ نظر رکھ کی گئی ہے اور دونوں ممالک کی طرف سے بیک ڈور چینل میں موجود نمائندوں نے ایک اچھا خاصا لائحہ عمل بھی ترتیب دیا ہے جس پر آر پار کی افواج نے ہری جھنڈی دکھائی ہے اور دونوں   ممالک اتفاق کرتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس سے یہاں تک پہنچانے میں کافی وقت لگا ہوگا ۔
اب یہ بھی یہاں سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا اس طرف بھی سرکار کا اس میں کوئی حصہ نہیں بلکہ صرف یہ دونوں اطراف کی افواج کا ہی کارنامہ ہے ؟ بہر حال جو بھی ہو،72 سالہ کشمیر ،بھارت اور پاکستان کی تاریخ میں بہت سارے بڑے بڑے معاہدات بھی ہوئے ہیں جن میں تاشقند ، شملہ جیسے معا ہدات بھی شامل ہیں اور سرحدوں پر اس طرح کے بھی بہت سا رے معاہدات موجود ہیں لیکن ہر بار ایک چھوٹی سی مدت کے بعد یہ معاہدات فضا میں تحلیل ہوجاتے ہیں کیونکہ دونوں اطراف کے انتخابات کسی نہ کسی طرح کشمیر کے جذباتی اشو سے جڑے ہیں اور موجودہ سرکار نے تو اس اشو کو کنیا کماری تک انتخابی مدعے کے طور پر پیش کرکے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے تھے۔
بہرحال آرپار سرحدوں پر مکین لوگوں نے اس معاہدے کو خوش آئنداور خوشگوار کہا ہے کیونکہ ہر صورت میں ان سرحدات پر گولہ باری سے یہی لوگ نشانہ بنتے ہیں اور ان کے جان و مال کا زیاں روز مرہ کی بات ہوچکی تھی ۔انہوں نے یقینی طور پر اطمینان اور راحت کی سانس لی ہوگی اور اس کے ساتھ ہی آر پار امن اور شانتی کی خواہش رکھنے والوں نے بھی اس معاہدے کو سراہا ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود اس معاہدے کی عمر کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ بنیادی طور پر ’ کشمیر ‘ کا ناسور اپنی جگہ پر موجود ہے جس کو ایڈریس کئے بغیر شاید اس بر صغیر میں امن کا دیرپا خواب نہیں دیکھا جاسکتا ۔ 
یہاں اس سرکار اور پارلیمنٹ کی رو سے اب یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہوچکا ہے اور لوگوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ جوں کی توں پوزیشن قیامت تک موجود رہے گی۔ نہ بھارت اُس پار کے کشمیر کو جنگ سے حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان ہی کبھی اس حصے کی ایک انچ زمین پر قابض ہوسکتا ہے ۔ ان دونوں ممالک کی سوچ میں اصل فریق یعنی جموں وکشمیرکے عوام کی سوچ و فکر کے سائے کہیں بھی کسی طرح نظر نہیں آتے ۔یہ شاید دونوں ممالک کی سوچ و فکر کے لحاظ سے بھی درست ہو لیکن ان سب باتوں کے باوجود یہ ’’ناسور ‘‘ ایسا نہیں کہ ایسی تھراپیوں سے روبہ صحت ہوسکے یا بر صغیر ہند و پاک جس بارود کے ڈھیر پر موجود ہے،اس سے ڈیفوذڈ سمجھا جاسکے ۔کیا ہی اچھا اور بہتر ہوتا کہ دونوں ممالک اسی طرح اس مسلے کے حل کو انجام تک پہنچانے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اس خطے کو امن و چین کی سوغات دیتے ۔اس لئے بہتر ہے کہ اس معاہدہ کو آگے بڑھاکر اصل معاملات کے حل کی جانب آگے بڑھا جائے تاکہ سرحدوں کا سکوت دائمی ثابت ہونے کے علاوہ یہ سکون مین لینڈ میں بھی قائم ہوسکے۔
 

تازہ ترین