تازہ ترین

یہ کیسے رشتے۔ ۔ ۔ ؟

افسانہ

تاریخ    28 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


وحشی سعید
آج وہ اکہترسال کا ہوگیااور پچھلے ایک سال سے خود کو بہت کمزور اور لاغر محسوس کررہا ہے۔ ایک سال پہلے ایسی بات نہیں تھی۔ وہ نہ کمزورہی تھا اور نہ لاغر۔ ایک ہی سال میں ایساہوگیا ۔ ایک سال پہلے وہ علی الصبح جاگتا تھا اور غسل خانے سے فارغ ہوکر چہل قدمی کے لئے نکل پڑتا اور چہل قدمی کرتے کرتے اپنی کالونی کی پاس والی پارک میں پہنچ جاتا تھا۔ وہاں اُس کو ایک خوبصورت کتا ملتا ۔ وہ کتا اُس کو اپنا دوست بنانا چاہتا تھا لیکن اُس کو کتوں کے ساتھ سخت نفرت تھی، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ کتا سب سے وفادار جانور ہوتا ہے۔ کتوں سے اُس کی نفرت کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں ایک پاگل کتے نے اُسے کاٹا تھا اور اُسے چودہ انجکشن لگانے پڑے تھے ۔ وہ کافی دنوں تک بیمار رہاتھا۔ وہ واقعہ اُسے اب تک یاد ہے۔
 وہ ہر دن پارک کے اردگرد چکر لگاتا تھا اور پھر وہاں پہ لگے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھ جاتا۔کالونی میں چہل قدمی کرنے والے دوسرے لوگ اس کی خیریت وغیرہ پوچھتے تھے ۔ یہ سب ایک سال پہلے کی بات ہے۔پارک میں چہل قدمی کے بعد وہ اپنے فلیٹ میں واپس آتا تھا۔ اُس کی بیوی ڈائننگ ٹیبل سجانے میں مصروف ہوتی تھی۔ آملیٹ، روٹی، چائے سب کچھ ٹیبل پر لگا ہوا ہوتا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بیٹھ جاتا۔پھر دونوں اکٹھے صبح کا ناشتہ کرتے تھے۔ یہ سلسلہ پچھلے بیس سال سے چلاآرہا تھا، جب سے وہ سرکار ی ملازمت سے سبکدوش ہوا تھا۔ اس سے پہلے نوکری کی بھاگ دوڑ کے سبب وہ اتنے آرام سے ناشتہ نہیں کراتا تھا،لیکن اب تو آرام ہی آرام تھا۔ 
نیلما پینسٹھ سال کی ہوگئی تھی ۔اب وہ بوڑھی اور ضعیف دِکھ رہی تھی ۔اُس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا ؛
 ’’پارک میں سوم ناتھ تو نہیں ملا  ۔  ۔  ؟  اپنے کسی آدمی کو بھیجتا، غسل خانے کی ایک پائپ لیک ہوگئی ہے‘‘
اُس نے مزید کہا  :
’’آج کی رات بھی آرام سے نہیں کٹی۔ معدے میں اب پہلے سے زیادہ درد محسوس ہورہا ہے ۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا‘‘
’’نیلما !  ۔  ۔  تم کچھ زیادہ ہی فکر مند ہوگئی ہو ۔ کبھی کبھی گیس کی وجہ سے بھی معدے میں درد ہوتا ہے۔ آج ایم آرآئی کی رپورٹ آرہی ہے۔ کل ڈاکٹر سے ملنے جائیں گے‘‘
نیلما نے کہا  :
’’ٹھیک ہے۔ لاجونتی ابھی تک نہیں آئی۔ میں بہت کمزوری محسوس کررہی ہوں۔ ڈاکٹر کو اس کے بارے میں ضرور بتانا ہوگا‘‘
یہ سب ایک سال پہلے ہوا تھا۔
 وہ واپس اپنے فلیٹ میں پہنچ گیا۔ آج بھی فلیٹ میں سب کچھ ویسے ہی تھا۔ہر ایک چیز اپنی اپنی جگہ پر تھی۔ ٹیبل اپنی جگہ پر تھا، کرسیاں بھی اپنی جگہ پر تھیں۔ کتابیں سلیقے سے ریک میں رکھی گئی تھیں۔ٹی وی بھی اپنی جگہ پر تھا۔ فلیٹ کی اندورنی سجاوٹ بھی پہلے ہی جیسے تھی۔ نیلما نے جس انداز سے چیزوں کو رکھا تھا، سب کچھ ویسے ہی تھا۔اب کچن کی صفائی مطلوب تھی۔لاجونتی کے آنے کی دیر تھی تاکہ وہ کچن صاف کرے اور کھانا پکاکر فرج میں رکھے۔
کمل نے ایک کپڑا ہاتھ میں لیا اور نیلما کی کرسی جو کہ پہلے ہی سے صاف تھی،اُسے مزید صاف کرنے لگا۔یہی ایک کام وہ خود کرتا تھا۔یہ کام کرنے کے بعد وہ رام اور سیتا کی مورتی کے سامنے کھڑا ہوتا تھا۔ اگربتی اور دیا جلاتا تھا۔ دونوں ہاتھ جوڑ کراور آنکھیں بند کرکے پوجا کرتا تھا۔ 
لاجونتی آگئی۔ اُس نے کمل سے کہا  :
’’بابوجی! آپ ٹھیک ہیں  ۔  ۔  ؟‘‘
’’ہاں میں ٹھیک ہوں۔ ایک چائے کا کپ دے دو‘‘
لاجونتی بولی  :
’’بابو جی! ڈاکٹرصاحب کے پاس چیک اَپ کے لئے جائیے‘‘
کمل نے لاجونتی کی طرف دیکھا اور بڑی نرم آواز میں کہا  :
’’جائوں گا‘‘
سواسال پہلے کی بات تھی،منگل کا دن تھا اور دن کے دوبجے تھے۔کمل کا موبائل بج اُٹھا۔ فون ڈاکٹر موہن کا تھا۔وہ کمل سے کہہ رہے تھے ؛
’’کمل ! آپ کو دن کے چار بجے مجھ سے ملناہے، اکیلے آئیے گا۔نیلما بھابی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘
 منگل کا دن تھا اور سہ پہر کے چار بجنے والے تھے ۔کمل کو محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کوئی بھیانک زلزلہ آنے والا ہے ۔ اُسے لگ رہا تھاجیسے زمین گھوم رہی ہے ۔ اُس کو اپنا یقین ڈگمگاتا ہوا لگ رہا تھا ۔ان ہی حالات میں ڈاکڑ موہن  کمل سے نہایت ہی مایوسی کے ساتھ مخاطب ہوا؛
’’کمل !  ۔  ۔  نیلما بھابی کے معدے میں کینسر ہے‘‘
کمل نے چیخ کر کہا  :
’’Oh No  ڈاکٹر  ۔  ۔  !‘‘
اُس نے مزید کہا  :
’’ڈاکٹر صاحب!  کیا کوئی اُمید ہے  ۔  ۔  ؟‘‘
ڈاکٹر موہن بولے  :
’’کینسر ایڈوانس اسٹیج میں ہے۔ صرف تین چار مہینے کی فرصت ہے‘‘
کمل بڑی افسردہ حالت میں فلیٹ پہنچا۔ نیلما نے پانی کا گلاس اُس کے سامنے رکھا۔کمل نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا  :
’’ڈاکٹر نے کہا ، سب کچھ ٹھیک ہے۔ ہاں کچھ دوائیاں لکھ دی ہیں‘‘
تین مہینے پہلے اُن دونوں نے اپنے بیٹے اکھلیش کے ساتھ فون پر بات کی تھی۔کمل نے اپنے آپ سے کہا  :
’’اکھلیش کو سب کچھ بتانا پڑے گا‘‘
 اُس نے دیر رات گئے پریشانی کی حالت میں شکاگو امریکہ فون ملایا۔
اکھلیش نے فون اُٹھایا  :
’’ارے بابوجی! میں آپ کو فون کرنے ہی والا تھا۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے۔ میں نے ڈائلیسس سینٹر کھولا ہے۔ انڈین کمیونٹی کے بہت سے لوگ آئے تھے۔ ہمارے علاقے کا مئیر بھی آیا تھا  ۔  ۔  ۔  ‘‘
 اکھلیش بولے جارہا تھا۔ پھر اچانک اکھلیش رُک گیا اور بولنے لگا   :
’’بابوجی !  ۔  ۔  آپ نے کیسے فون کیا ؟ اماں کیسی ہیں ؟  ۔  ۔  ذرا اُنہیں فون دیجئے‘‘
کمل نے اپنی آواز میں ضبط لاتے ہوئے کہا  :
’’بیٹا!  ۔  ۔  تمہاری ماں سوگئی۔ میں صبح اُس کو خوشخبری دوں گا۔ بہو اور بچے کیسے ہیں؟‘‘
اکھلیش نے اپنے باپ کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا:
’’بابوجی! اماں اور آپ شکاگو آئیے۔ وہاں کیا رکھا ہے؟‘‘
کمل نے کہا  :
’’بیٹا ! تمہاری اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ہے‘‘
اکھلیش نے جواب دیا  :
’’آپ آجائیے۔ یہاں اماں کا اچھے سے اچھے اسپتال میں علاج کرائیں گے‘‘
 کمل کچھ کہہ نہ پایا۔وہ صرف اتنا بول سکا  :
’’اکھلیش تمہاری زندگی کا اہم دن ہے۔ کل بات کریں گے‘‘
فون ڈراپ ہوگیا یا ہینگ ہوگیا یا کاٹا گیا۔
آج کمل زندگی کے دشوار کن حالات سے گزر رہا تھا۔ اچانک وہ اکھلیش کے بچپن میں چلا گیا۔اکھلیش اُن کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بچپن میں شرارتی تھا، لیکن پڑھنے لکھنے میں قابل تھا۔ہمیشہ اپنی کلاس میں اوّل آتا تھا۔ اُسے میڈیکل کے مضامین سے خاصا لگائو تھا۔ اس وجہ سے اُس نے بارہویں جماعت میں نوے فیصد نمبرات لے کر شاندار کامیابی حاصل کی۔وہ ڈاکٹری کے انٹرنس ٹیسٹ میں بڑی آسانی سے کامیاب ہوا۔
 پانچ سال کے بعد اُس نے ایم بی بی ایس کا امتحان امتیازی نمبرات کے ساتھ پاس کیا۔اُسے شکاگو یونیورسٹی سے ایک خط موصول ہوا ،جس میں اُسے وہاںایم ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے دعوت دی گئی تھی ۔اُس جیسے قابل طلباء کے لئے یونیورسٹی کی طرف سے وظیفہ بھی مقرر تھا۔ پھر بھی وہاں جانے اور رہنے کے لئے بہت پیسوں کی ضرورت تھی۔ 
کمل نے اپنا سنگل بیڈروم والا فلیٹ بینک کے پاس گروی رکھا۔اُس کی ماں نے اپنے سارے سونے کے زیورات بیچ دیئے اور اس طرح اکھلیش شکاگو پہنچ گیا۔ 
شکاگو اکھلیش کو راس آگیا۔وہ وہاں کی زندگی اور کلچر میں گھل مل گیا۔ایم ایس کی پڑھائی کا آخری سال تھا۔ایک دن اُس نے اپنی ماں کو فون کیا  :
’’اماں!  ۔  ۔  مجھے ہندوستانی فیملی کی ایک خوبصورت لڑکی ملی‘‘
نیلما نے پوچھا  :
’’ٹھیک ہے۔ شادی کرنے کا ارادہ کب ہے  ۔  ۔  ؟‘‘
اکھلیش نے جواب دیا  :
’’شادی ہوگئی  ۔  ۔  !  میں شادی کی ویڈیو بھیج رہا ہوں۔ بابوجی کو بھی دکھانا‘‘
 اُس دن کمل اور نیلما کا دل ٹوٹ گیا ۔اکھلیش کے ماں باپ ہر دوسرے دن اُس کو فون کیا کرتے تھے۔ اُس دن سے دونوں کئی کئی دنوں بعداُسے فون کرتے تھے اور آہستہ آہستہ فون پر ملاقاتوں کا سلسلہ کافی کم ہوگیا۔
نیلما کو جب معلوم ہوا کہ اُس کے زندگی کے دن اب گنتی کے رہ گئے ہیں۔ آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ اُس نے کمل سے سوال کیا  :
’’کیا اکھلیش آئے گا  ۔  ۔؟‘‘
کمل نے جواب دیا  :
’’اکھلیش نے ڈائلیسس سینٹر کھولا ہے۔ وہ اب کافی مصروف رہتا ہے‘‘
نیلما غم ناک آواز میں بولی  :
’’ماں تو ماں ہوتی ہے  ۔  ۔  !‘‘
کمل نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا  :
’’میںرات کے دس بجے اکھلیش کو فون لگائوں گا‘‘
اُس رات جب کمل نے اکھلیش کو فون ملایاتو اُس نے بہت دیر کے بعد فون اُٹھایا۔
’’بابوجی نمسکار!۔ میں نے اور پریتما نے اپنے جان پہچان والوں اور دوستوں کو ڈائلیسس سینٹرکھولنے کی خوشی میںایک دعوت رکھی ہے۔ اماں کو میرا نمسکار کہنا‘‘
یہ کہہ کر اُس نے فون رکھ لیا۔
اُس دن کے بعد کمل نے اکھلیش کو کبھی فون نہیں کیا اور نہ ہی نیلما نے اکھلیش کے ساتھ بات کرنے کی ضد کی۔
وہ رات بہت لمبی تھی۔ اُس رات کی صبح کا سورج بادلوں میں چھپ گیا تھا۔ نیلما چلی گئی۔اب نیلما کو گئے ہوئے ایک سال ہوگیا تھا۔ لاجونتی گھر کی صفائی کرتی تھی۔کھانا تیار کرکے اپنے گھر کو چلی جاتی تھی اور کمل حسب معمول اپنے کمزور جسم کو کھینچتے ہوئے کالونی کے پارک میں چلا جاتا تھا۔ کچھ دیر کے لئے وہاں سیمنٹ کے بینچ پر بیٹھتا تھا۔ وہ سفید رنگ کا خوبصورت کتا اُس کے سامنے بیٹھتا تھا۔ کمل کے دل میں کتوں کے لئے جو نفرت تھی، اب وہ ہمدردی میں بدل گئی تھی ۔اب وہ ہر دن اپنے ہاتھ میں  بسکٹ لاتا تھا اور اس خوبصورت کتے کو کھلا دیتا تھا۔ کتا اُس کے پائوں اور ٹانگوں کو چاٹتا تھا۔اب وہ کتا اُس کا دوست بن گیا تھا۔یہ روز کا معمول تھا۔ لیکن اچانک وہ کتا غائب ہوگیا۔ اُس نے پارک کے چوکیدار سے پوچھا  :
’’وہ کتا کہاں گیا  ۔  ۔  ؟‘‘
چوکی دار بولا  :
’’کتا پارک میں آنے والوں کو تنگ کرتا تھا۔ میونسپلٹی والوں نے اُس کو ڈاگ یارڈ میں جمع کر دیا ہے‘‘
 کمل چوکیدار پر برس بڑا۔
چوکیدار بھی واپس بولا  :
’’آپ مجھ پر کیوں برس رہے ہیں ۔ کتے کے ساتھ اگر اتنی محبت ہے تو آپ ڈاگ یارڈ جاکر اُس کو لے آئیے اور اپنے گھر میں رکھئے  ۔  ۔  !‘‘
کمل نے اُسی وقت گاڑی لی اور ڈاگ یارڈ چلاگیا۔ وہاں کے انچارج سے بولا۔
’’آپ نے ہماری کالونی سے ایک کتا اُٹھایا ہے۔ وہ آپ مجھے دے دیجئے۔ میں اُسے پالنا چاہتا ہوں‘‘
انچارج کچھ دیر کے لئے کمل کو تکتے رہ گیا۔ پھر سرد آواز میں بولا۔  
’’سر وہ کتا کل رات دیر تک روتا رہا اور پھر اچانک زور زور سے بھونکنے لگا۔ صبح ہوتے ہوتے سوگیا اور ہمیشہ    کے لئے سوگیا‘‘
کمل نے اپنے آپ سے کہا  :
’’کتا بھی چلا گیا‘‘
کتے کی موت کے دوسرے دن شہر بھر میں موسلادھار بارش ہورہی تھی۔ لاجونتی فلیٹ دیر سے پہنچی۔ جب اُس نے فلیٹ کے تالے میں چابی لگائی اور دروازہ کھولاتو ٹی وی آن تھا۔ کمل ٹی وی کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اُس کا چہرہ پرسکون تھا۔ لاجوتی چیخ پڑی۔ 
’’بابو جی  ۔  ۔  ۔  !‘‘
کمل خاموش ہوگیا تھا ۔وہ اپنے واحد دوست کے بچھڑنے کا غم برداشت نہ کر سکا۔
 
���
موبائل نمبر؛9419012800
 

تازہ ترین