تازہ ترین

خضر مغربی ؔ

ایک ہمہ جہت شخصیت

تاریخ    20 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


جی ایم میر ندیم
علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید دین اسلام میں جس بلیغ و دل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی۔ تعلیم و تربیت، درس و تدریس تو گویا اس دین برحق کا جزولاینفک ہے۔ کلام پاک کے تقریبا اٹھتّرہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم نے رحمت العالمین ؐ کے قلبِ مبارک پر نازل فرمایا، وہ اِقراء ہے یعنی پڑھ۔گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس بات کی طرف سرکار دوعالم ؐ کے ذریعے نوعِ بشر کو توجہ دلائی گئی، وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا۔ حضورؐ کے اعلان نبوت کے وقت جزیرۂ عرب کی کیا حالت تھی… ؟
کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔
استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ اْستاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہرومحبت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اْستاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گم راہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔معاشرے میں جہاں ماں باپ کا کردار بچے کے لئے اہم ہے، وہاں استاد کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ ماں باپ بچوں کو لَفظ بہ لفظ سکھاتے ہیں، ان کی اچھی طرح سے نشوونما کرتے ہیں، ان کو اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں مگر استاد وہ عظیم رہنما ہے جو آدمی کو انسان بنا دیتا ہے، آدمی کو حیوانیت کے چْنگل سے نکال کر انسانیت کے گْر سے آشنا کرواتا ہے۔ استاد آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ معاشرہ میں لوگوں کے ساتھ کیسے رشتے قائم رکھنے چاہئیں۔ استاد، ایک معمولی سے آدمی کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔  استاد مینار نور ہے جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے جو ہمیں بلندی پر پہنچادیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔
دیکھا نہ کوئی کوہ کن فرہاد کے بغیرآتا نہیں ہے کوئی فن استاد کے بغیراستاد کو والدین کے بعد سب سے زیادہ محترم حیثیت حاصل ہے، بادشاہ ہوں یا سلطنتوں کے شہنشاہ، خلیفہ ہوں یا ولی اللہ سبھی اپنے استاد کے آگے ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کرتے نظر آئیں گے۔ 
چوں کہ بات اساتذہ کرام کی ہو رہی ہے ۔ یہاں مجھے اپنے کئی اساتذہ کرام کی اُن کو ششوں کی یاد آرہی جن کی بدولت آج میں کسی حد تک تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتا ہوں ۔ اُن کی سکھائی گئی ہر بات یاد آرہی ہے چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی ۔
ان اساتذہ کرام میں ایک نام محترم المقام مرحوم خضر مغربی جن کا اصلی نام جناب غلام محی الدین خان تھا کا اس گرامی گراں قدر شخصیات میں شامل ہے۔ اگر چہ میری بنیادی تعلیم و تربیت بٹہ مالو علاقے کے ایک نجی اسکول ’’ مدرسہ تعلیم الاسلام‘‘ میں ہوئی ہے ، جس کے سربراہ مرحوم غلام نبی صاحب ہوا کرتے تھے اور جنہیں آج بھی ’’ بو￿ڈ نبہ￿ صا￿ب‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ وہ سکول پر ائمری سطح کا تھا ۔ بہر حال پرائمری سطح کی تعلیم حاصل کر کے میرا داخلہ گورنمنٹ ہائی سکول بٹہ مالو ستھرا شاہی میں کیا گیا ، جہاں اُس وقت کے ہیڈ ماسٹر صاحب خضر مغربی تھے۔
جہاں تک میرا خیال ہے کہ میرے استاد محترم کو صرف میں نہیں جانتا ہوں یا صرف اُن کے شاگرد واقف نہیں بلکہ ادب سے وابستہ اعلیٰ پایۂ کے ادیب حضرات ، وادی کے کہنہ مشق شعرأ حضرات کے علاوہ وادی کی صحافتی برادری بھی اُن سے پوری طرح واقف ہیں کیوں کہ وہ عہد جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ استاد ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ہنس مکھ، پُر اخلاق ، نظم و ضبط کے علمبردار سخن ور شاعر بھی تھے۔ وہ گاتے بھی تھے، ہنساتے بھی تھے اورجب طلبہ کو اُن کی شرارتوں کی وجہ سے اُنہیں سبق سکھانا ہوتا تھا تو ایک خاص چھڑی کا استعمال کرتے تھے جس کا نام اُنہوں نے کمانڈر رکھا تھا ۔ اُس کو کا ن سے لگا کر جیسے پوچھا کرتے تھے کہ اس لڑکے کو کتنی سزا دیتی ہے ۔ وہ چھڑی جیسے اُنہیں باقاعدہ طور پر مذکرہ لڑکے کی سزا تجویز کرتی تھی ۔
مغربی صاحب مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تمدنی پروگرام ، کھیل کود ، ورزش او ربچوں کے لئے مقابلہ جاتی پروگراموں میں حصہ لینے کا بھی اہتمام کرتے تھے ۔ایک سکول بینڈ بھی اُن کے زمانے میں ہوا کرتا تھا جس میں دیگر موسیقی کے سازو سامان کے ساتھ ساتھ بانسری بجانے کا بھی اِنتظام تھا۔ جب تک میں سکول کا طالب علم رہا۔ بانسری بجانے کی تربیت دے کر مجھے سکول بینڈ میں شامل کیا تھا۔ویسے مجھے بڑے ڈرم کے علاوہ سائیڈ ڈرم بجانا بھی پسند تھا لیکن بانسری بجانا میری مستقل ذمہ داری تھی۔
سکول کا نظم و نسق اُن کے زمانے میں جتنا عمدہ تھا، اُتنا کبھی بھی کسی بھی زمانے میں نہیں رہا۔ کیوں کہ وہ بچوں کو شفقت کے ساتھ پڑھانے کے علاوہ سکول کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرواتے تھے اور ہر ایک activity میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے تھے جن سے بچوں کی شخصیت نکھارنے او ران کی تندرستی یقینی بنانے میں مدد ملتی تھی۔
استاد ہونے کے علاوہ مغربی صاحب طنز و مزاح کے عمدہ شاعر بھی تھی ۔ ان کا کلام آج بھی لوگوں میں مقبول ہے ۔ ان طنز اُس وقت کے حاکموں کی کارکردگی کے علاوہ سماج کے غیر ذمہ دار لوگوں ، چاپلوس اَفراد ، خود غرض عناصر او رنوجوانوں کی بے راہ روی پر نظر آتا ہے ۔ خوردنی اشیاء میں ملاوٹ میں ملوث اَفراد ، ناجائز منافع خواروں ، رشوت خوروں و دیگر سماج دشمن عناصر کو اُنہوں نے اپنی شاعری میں اچھا سبق سکھایا ہے ۔غرض یہ کہ سماج میں پھیلے بدعات ، غلط رسوم و رواج اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی اُن کے برداشت کے باہر بات تھی۔
جہاں تک اُن کی مزاحیہ شاعر ی کا تعلق ہے وہاں بھی اُن کی شاعری سن کر سامعین محظوظ ہونے کے علاوہ کچھ نہ کچھ سبق حاصل کرتے تھے۔مغربی صاحب نے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لئے ایک ہفتہ روزہ اخبار بھی جاری کیا، جس کا نام ’’ گلِ خندان‘‘ رکھا۔ اُس اخبار کو اُنہوں نے زندگی کے اختتام تک شائع کیا۔ 
مختصراً مغربی صاحب نے پوری زندگی بہترین استاد ہونے کے علاوہ اعلیٰ سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنے خاندان ، ریاست و ملک کا نام روشن کیا او رآخر کار 30؍ نومبر 1999 ء کواس دارِ فانی سے لبیک کہہ گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَo
اُن کے انتقال کے بعد جب بھی کہیں طنز و مزاح کی محفل منعقد ہوئی، شعرأ حضرات نے اُنہیں بہترین الفاظ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے بعد اپنی محفل کا آغاز کیا ۔ اسی طرح صحافتی برادری بھی صحافت کے میدان میں مرحوم کی کاوشوں کے لئے سراہنا کرتے ہیں اورصحافت کے ذریعے لوگوں کے مسائل اُبھارنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کے مغربی صاحب کے طریقۂ کار کی ستائش کرتے ہیں۔

تازہ ترین