تازہ ترین

راز جب ہمارے عیاں ہوں گے

پرائیویسی لیک کا ڈر تو ہے لیکن کراماً کاتبین کا نہیں!

تاریخ    20 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال احمد پرے
 انسان کا دنیا میں آنا صرف اتفاق ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک خاص مقصد، ہدف اور مشن حیات کارفرما ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو تمام مخلوقات میں سے بہترین تخلیق پر بنا دیا ہے۔ خالق کائنات، احد و صمد، علیم و حلیم، غفار و قہار رب الزوجلال ہماری تمام حرکات و سکنات کا ریکارڈ ایک خاص ضابطے کے تحت رکھ رہا ہے۔حتیٰ کہ دل سے پیدا ہونے والے خیالات کا بھی بخوبی علم رکھتا ہے۔ حقیقی چشموں سے پردہ اٹھتے ہی ہمارے ہاتھوں میں کتاب تھما دی جائے گی جس میں ذرہ بھر کی نیکی اور بدی درج ہوگی۔
موبائل فون میں ڈاٹا کو بطور محفوظ رکھے جانے سے بڑھ کر ہماری ایک ایک حرکات درج ہو رہی ہے۔ جس سے میموری کارڑ سے کئی گنا زیادہ غیر معمولی اسٹوریج کی ایک کتاب 'نامہ اعمال' میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا پر فیس بک، ٹیوٹر وغیرہ جیسے ا کائونٹ میں جس طرح ہماری پسند، شیئر ، سبسکرائب ، اپلوڈ یا کومنٹس وغیرہ کیا ہوا غرض ہر ایک پوسٹ موجود ہوتا ہے۔ اس سے بڑھکر ہمارا رب ہمارے اکاؤنٹ کو ہمارے تمام حرکات و سکنات سے آئے روز محفوظ کر دیتا ہے۔ چہ جائیکہ یہ حرکات احکام خداوندی کے بجا لانے کے لئے کی گئی ہو یا خلاف احکام میں۔ آئے روز ہمارے ہاتھوں و پیروں سے انجام دیے گئے فعل، بولے اور سنے گئے قول ایک خاص اکاؤنٹ کے تحت درج ہو رہے ہیں۔
مزید یہ کہ ہمارے یہاں مینول (Manual) اکاؤنٹ میں حذف (Delete) کرنے کی صورت (Option) موجود ہے لیکن وہاں سب کچھ جوں کا توں درج ہو رہا ہے جن کو اپنی اصل حالت میں ہی سامنے لایا جائے گا۔ وہاں تمام تر انجام دئیے گئے کام درج کئے گئے ہوں گے۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے کہ ’’اس روز انسان کا اگلا پچھلا کیا ہوا جتلا دیا جائے گا‘‘۔ (القیمۃ۔ 13)
اسی طرح دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا گیا کہ’’ ہر شخص یہ جان لے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا‘‘۔ ( الانفطار۔ 5)
اس روز انسان پشیمان ہوگا، شرمندہ ہو جائیگا، زمین کو راز چھپانے کی درخواست کرے گا، پسینہ پسینہ ہوگا، اپنی پریشانیوں سے چھٹکارا نہیں پائے گا، بھاگنے کی کوشش کرے گا، لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا کسی کا حکم نہیں چلے گا، اللہ تعالیٰ کی پناہ کے سوا کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ زمین اپنے اندر کی چھپائی رکھی ایسی تمام خبروں و رازوں کو کھول دے گی جس کی خبر دنیا میں کسی اور شخص کو معلوم نہیں تھی۔ چہ جائیکہ یہ پہاڑی کی گھاٹیوں میں کی گئی ہو یا صحرا و بیابانوں میں، اندھیری راتوں میں یا دن کی تنہائیوں میں، گاڑیوں میں یا دریا کے کنارے، اسکول، کالج و یونیورسٹیوں میں یا سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں، سی سی ٹی وی کی غیر موجودگی میں سے سبھی اچھے برے خبریں کھل کر سامنے آجائے گی-
رشوت جیسی بدعنوانی کے نام پر چائے، تحفہ جات وغیرہ میز کے اوپر یا نیچے سے لیا ہو، آن لائن ٹرانسفر کیا ہو یا بینک کھاتے میں جمع کیا ہو۔ سب کا حساب لیا جائے گا ۔ رب العالمین کا واضح ارشاد ہے کہ " حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ معزز لکھنے والے ( کراما ًکاتبین )۔وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو‘‘۔ الانفطار۔ 10 تا12) تو اس کے بعد کیا کوئی ایسی ایجنسی ہے جو اس سے بڑھ کر معلومات رکھتی ہو۔واللہ ہر گز نہیں۔کاش کہ ہم اس بات کو مانتے اور اس پر یقین محکم رکھتے ہوں۔
رب العالمین کا احتسابی کمیشن ( Commission  Accountability) اتنا صاف شفاف ہوگا کہ ذرہ برابر کسی سے ناانصافی نہیں ہوگی۔کسی کی برائی کسی دوسرے کے سر نہیں ڈالی جائے گی۔ہر نفس اپنا حساب و کتاب دیکھتے ہی مطمئن ہو جائے گا۔انسان سینہ کوبی کرتے ہوئے اپنے چہرہ کو مارے گا، بے ہوشی کی حالت اور دیوانگی کے عالم میں ناخن چباتے چباتے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو بھی کاٹ ڈالے گا۔سب سے زیادہ حیران کن ماحول اس وقت ہوگا جب زمین اپنی گود میں چھپائی ہوئی تمام خبریں باہر پھینک کر سامنے رکھ دے گی۔وہ عالم کیسا ہوگا ؟ ہماری حالت اس وقت کیا ہوگی ؟ بے یارو مددگار اپنا چہرہ چھپانے کے قابل بھی نہیں ہوگا۔ شرمندگی کی حد مت پوچھو ! اپنی ہی جان پہنچان، احباب و اقارب، رفیق و حریف کے سامنے اپنی تذلیل کون برداشت کر پائے گا۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ’’ اس روز زمین اپنی سب ( اچھی بری ) خبریں بیان کرنے لگے گی‘‘۔ (الزلزال۔4)
جس شخص نے روئے زمین پر جیسا بھی عمل کیا ہوگا چاہیے بھلا یا برا، بطور شہادت عنداللہ کے زمین سب عیاں و بیان کر دے گی۔ منکرین قیامت اور دیگر یہود و نصاریٰ کے طرز پر نئے سال کا جشن منانے کے لیے سیاحتی مقامات پر رنگ رلیوں میں مست ہونے والوں کو اس روز بڑی حیرانی ہوگی۔ اس حالت کو دیکھ کر انسان کہے گا کہ یہ خلاف متعاد و گمان زلزلہ و اخراج اثقال کیسے ہونے لگا۔ اب ان واقعات کو دیکھ کر تعجب سے حیرت زدہ ہو جائے گا ۔ جس پر سے اس کا یقین نہ تھا وہ سب کچھ ہو کر رہے گا لیکن یہ انسان بے بس و بے یارو مددگار ہو کر حیرانی کے عالم میں ہوگا۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ’’اور اس حالت کو دیکھ کر آدمی کہے گا کہ اس کو کیا ہوا‘‘۔(الزلزال۔3)
اس سے بھی بڑھ کر انسان کے دل میں جو خیالات، ارادے، مقاصد چھپے ہوئے تھے اور جن نیتوں کے ساتھ اس نے یہ سارے اعمال کیے تھے وہ بھی نکال کر اس کے سامنے پیش کیے جائیںگے ۔ہر ایک شخص سے اب تنہا اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے اعمال کی جواب دہی ہو گی۔ ہر متنفس کو اپنے کئے کرائے کی باز پرس ہوگی ۔خاندان، رتبہ، رشتے، دوست، مال و دولت اور ڈگریاں کوئی کام نہیں دے پائیں گے۔صریح اور ناقابل انکار ثبوت سامنے آجانے کے بعد انسان دم بخود رہ جائیگا اور اس کے معذرت میں اس سے کچھ کہنے کا موقع بھی باقی نہ رہے گا۔
 واٹس ایپ کے وجود میں آنے سے Statusلگانے کا ٹرینڈ چلا۔ انڈرائیڈ موبائل فون استعمال کرنے والے آئے روز اپنے اسٹیٹس تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ یہ نا آشنائی نہ ہوتی تو، میں اور آپ کبھی بھی اسٹیٹس پر بیہودہ تصاویر، فحش ویڈیوز، ناچنے گانے والے اور دیگر بیہودگی جیسے پوسٹ نہ لگاتے۔ اور جب ہم اپنے اسٹیٹس پر بیہودگی کے ویڈیوز لگاتے ہیں تو اصل میں ہم اپنی اوقات اور حیثیت کو متعارف کروا رہے ہوتے ہیں۔
چند روز پہلے واٹس ایپ نے اپنا ڈیٹا فیس بک کو مہیا رکھنے کا اعلان کیا کیا تو ہر طرف سے لوگ پریشان اور فکر مند نظر آنے لگے، ہا ہا کار مچ گئی لیکن اس بات سے نا واقف نظر آرہے ہیں کہ سائبردنیا میں ہمارا پہلے قدم رکھتے ہی ہمارے نشانات ضرور موجود رہتے ہیں۔ دوسری جانب قرآن کریم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے انسانیت کو قبل از وقت آگاہ کر کے رکھ دیاہے اور یہی بات آئے روز ائمہ مساجد ہمارے سامنے کہتے ہوئے تھکتے نہیں کہ ایک دن آئے گا جب ہماری زندگی کا مکمل ڈیٹا سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا اور اس کا حساب و کتاب ہوگا لیکن اس کے باوجود بھی ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔اللہ رب العالمین کی ریکارڈنگ کا ذرا بھی خوف نہیں آتا۔ افسوس کہ ہم لوگوں نے کبھی اس سلسلے میں سوچا اور نہ ہی فکر مند ہوئے۔
لہٰذا ہمیں قبل از وقت شرمندگی اٹھانے سے بچنا چاہئے نہیں تو ہمارے سارے راز سب کے سامنے کھول کر رکھ دیے جائے گے ۔ہمارا حال بے حال ہوگا اور کوئی خبر گیری کرنے والا بھی نہیں ہوگا۔
پتہ۔ہاری پاری گام، ترال کشمیر
رابطہ۔9858109109