کووڈ-19 کی تالابندی کے سبب ہوا بازی کا شعبہ 17 سال پیچھے چلا گیا

تاریخ    18 جنوری 2021 (56 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی// کووڈ-19 کی تالابندی کے تحت پروازوں پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے گزشتہ سال ہوائی مسافروں کی تعداد میں  60 فیصد تک غیر معمولی گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی اور یہ تعداد گھٹ کر 2003 کی سطح پر چلی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے ماتحت ادارہ  انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) نے گزشتہ ہفتے  'کووڈ-19 کے اقتصادی اثرات کا تجزیہ' کی رپورٹ جاری کی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020 میں ہوائی مسافروں کی تعداد میں  60 فیصد کی غیر ڈرامائی گراوٹ درج وئی تھی، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔ پچھلے سال 1.8 ارب افراد نے ہوائی سفر کیا جبکہ 2019 میں یہ تعداد 4.5 ارب تھی۔ اس طرح ہوائی مسافروں کی تعداد 2003 کے بعد سے کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ آئی سی اے اونے کہا ہے کہ مسافروں کی تعداد میں کمی ہونے سے ایئر لائن کمپنیوں کو 0 370 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔  جبکہ  ہوائی اڈے کے آپریٹروں کو  115 ارب ڈالر کیخسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہوائی نیویگیشن خدمات فراہم کرنے والی ایجنسیوں کو 13 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس عالمی وبا سے بین الاقوامی خدمات گھریلو ہوا بازی کی خدمات کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ گھریلو راستوں پر مسافروں کی آمدورفت میں 50 فیصد اور بین الاقوامی راستوں پر 74 فیصد کمی  ہوئی ہے۔ اگر آپ ہندوستان کے اعدادوشمار کو دیکھیں تو عالمی اوسط کے مقابلے یہاں ہوائی مسافروں کی تعداد میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے اعدادوشمار کے مطابق پچھلے سال 6 کروڑ 30لاکھ 11 ہزار مسافروں نے گھریلو راستوں پر سفر کیا، جو سال 2019 کے مقابلے میں 56.29 فیصد کم ہے۔ یو این آئی
 
 

تازہ ترین