جموں میںزرعی قوانین کیخلاف ’کسان ریلی‘نکالی گئی | کئی گھنٹوں تک دھرنا،متعدد رہنماگرفتار،بعدمیں رہا کیاگیا

تاریخ    18 جنوری 2021 (00 : 12 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

سید امجد شاہ
جموں // آر ایس پورہ کے کسانوں نے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جس کے نتیجے میں سوچیت گڑھ سے ڈی ڈی سی ممبر سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری عمل میں آئی۔تاہم ، بعد میں انھیں رہا کردیا گیا ۔ممتاز سماجی کارکن آئی ڈ ی کھجوریہ نے کہا "ہم نے آر ایس پورہ کے بانا سنگھ اسٹیڈیم سے جموں کی طرف ایک پْرامن احتجاجی ریلی نکالی تھی جسے شیر کشمیر یونیورسٹی برائے زرعی سائنس کے قریب پولیس فورس نے درمیانی راستے میں روکا " ۔آئی ڈی کھجوریہ نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی ‘‘کسان ریلی’’ تھی جس میں بڑی تعداد میں ٹریکٹر ، چار پہیہ والی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں شامل تھیں۔کھجوریا نے کہا کہ "پولیس نے سڑک کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تھی لیکن احتجاجی ریلی کو روکنے کے لئے پولیس کی کوششوں کے بعد بھی بہت سارے لوگ وہاں سے چلے گئے اور ڈی ڈی سی ممبر ترنجیت سنگھ ٹونی کی سربراہی میں متعدد دیگر یونیورسٹی کے قریب دھرنے پر بیٹھ گئے جہاں سے انہیں پولیس نے حراست میں لیا "۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین کاشت کاروں نے ستواری چوک ، جو جموں۔ٹھانکوٹ شاہراہ کو جوڑتا ہے اور جموں ایئر پورٹ کی طرف جاتا ہے ، کو کئی گھنٹوں تک بلاک کردیا۔ستواری میں کسانوں کے مظاہرے کے بعد انہوں نے بتایا کہ پولیس نے نریندر سنگھ ، جتیندر سنگھ اور دیگر سمیت گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا۔کھجوریہ نے بتایا کہ انہوں نے جموں کی سول انتظامیہ کے توسط سے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک میمورنڈم بھیج دیا۔انہوں نے کہا "میں نے ایک عہدیدار کو میمورنڈم دے دیا ہے تاکہ یہ وزیر اعظم کو بھیجا جاسکے "۔ انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔
 

تازہ ترین