اسلام کا اخلاقی نظام اور ہماری ذمہ داریاں

دین مبین

تاریخ    15 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


عبید احمد آخون
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف یعنی بہتر کا درجہ روزِ اول سے ہی دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً پیغمبر علیہ سلام بھی بھیجے تاکہ انسان اللہ کی نافرمانی کا مرتکب نہ ہو ۔جب انسان کو کوئی عہدہ یا ذمہ داری دی جاتی ہے تو اس کے اصول بھی وضع کئے جاتے ہیں تاکہ وہ انسان سب ذمہ داریوں پر کھرا اُترے۔ اسی طرح اشرف المخلوقات کی صف میں شامل ہونے کیلئے اخلاقی نظام پر چلنے والوں کو ہی تعریف کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے۔سچائی، انصاف، پاسِ عہد اور امانت کو ہمیشہ سے انسانی اخلاقیات میں تعریف کا مستحق سمجھا گیا ہے اور جھوٹ، ظلم ،بد عہدی اور خیانت کوہمیشہ نا پسند کیا گیا ہے۔ خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا۔ انسان ہمیشہ سے اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لئے اپنے آپ کو اُن لوگوں میں شامل کرتا ہے جن میں اُسے وقارو عزت ملے یا یوں کہئے کہ جہاں احساس کمتری کا شکار ہونے کا خطرہ لاحق ہو، وہاں انسان جانا پسند نہیں کرتا۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور کے ساتھ تخلیق کیا اور عقل و شعور پر گامزن رہنا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ اخلاق کی پاسداری میں ثابت قدم رہنے والوں کی جمعیت کے ساتھ شانہ بشانہ امت ِ مسلمہ اور مذہب اسلام کی پیروی کر رہے ہی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسانی اخلاقیات دراصل وہ عالمگیر حقیقتیں ہیں جن کو سب انسان جانتے ہیں اور ہمیشہ سے جانتے چلے آرہے ہیں۔ نیکی اور بدی کوئی پوشیدہ چیز نہیں بلکہ شعور آدمی کی فطرت میں ہے۔ قرآن اس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے :نفس ِ انسان کو خْدا نے بھلائی اور بْرائی کی واقفیت الہامی طور پر عطا کر رکھی ہیں۔
’’اخلاقی نظام پر مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ اگر اخلاق کی بھلائی اور بْرائی جانی پہچانی چیزیں ہیں اور دنیا ہمیشہ بعض صِفات کے نیک اور بعض کے بد ہونے پر متفق رہی ہے تو پھر دنیامیں مختلف اخلاقی نظام کیسا ہے۔ اسلام کا جواب یہ ہے کہ اس کائنات کا مالک خدا ہے اور اسی کی اطاعت پر یہ سارا نظام چل رہا ہے۔اْم الکتاب وہ کتاب ہے جس سے ہمیں ہر زمانے میں اخلاقی ہدایت ملتی ہے اور صاحب ِ قرآن کے مسنون طریقے ہمیں زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ اسلام اپنا ایک تصور کائنات ،اپنا معیار خیروشر، اپنا ماخذِ علم وِ اخلاق، اپنی قوتِ نافذہ، اپنی قوتِ محرکہ الگ رکھتا ہے اور ان ہی کے ذریعے اخلاقیات کے مواد اپنی قدر دل کے مطابق ترتیب دے کر انسان کو زندگی کے تمام شعبوں میں جاری کرتا ہے‘‘۔
اعلیٰ اخلاق
 کچھ عرصہ قبل حسب معمول میں صبح سویرے کام پر جارہا تھا کہ ایک سِکوٹی اور ایک تویرا گاڑی میں تصادم ہوا ۔کوئی مالی و جانی نقصان نہ ہوا۔ سکوٹی پر تین نوجوان سوار تھے۔ سکوٹی سے گرتے ہی تینوں نوجوانوں نے جب ہوش سنبھالا تو تویرا گاڑی کے ڈرائیور پر یہ تینوں نوجوان اس طرح حملہ آور ہوئے کہ اگر ڈرائیور دانش مندی نہ دکھاتے تو پھر اللہ ہی حافظ تھا۔ ڈرائیور نے تینوں نوجوانوں کو یہ کہہ کر چپ کروایا کہ میری ہی غلطی تھی یا میری ہی غلطی ہے۔ نوجوانوں نے جب یہ اعترافِ غلطی کے بول سنے تو ان کی جوانی کا جوش ایک ہی لمحہ میں منہدم ہوا ،اور تیزی سے جو ان کی سانسیں چل رہی تھیں، ایک دم تھم گئیںاور وہ اپنی مٹھیوں کو زور سے دانتوں سمیت مضبوطی سے دبا کے اپنی شرارت کی بڑھاس نکال رہے تھے یا یوں کہئے کہ غصہ پی رہے تھے۔
یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ معمولی بات پر بگڑ جاتا ہے چاہے شعوری ہو یا غیر شعوری۔ اگر آپ خود سے یہ جانتے ہیں کہ آپ اکثر لا شعوری میں جیتے ہیں، آپ جوش کے وقت ہوش نہیں رکھ پاتے اور بعد ازاں اپنی عقل پر ہی ماتم کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پیشگی طور ہمیشہ اس کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ اپنے اندر مثبت فکر والے انسان کو جگا کر رکھیں تاکہ وہ منفی فکر کے اوپر غالب رہ کر منفیت کو مثبت میں تبدیل کرے۔ نتیجہ مذکورہ بالایہ ہے کہ مثبت سوچ کے تحت معافی مانگ کر ابتدائی مرحلہ میں ہی رفع دفع کردیا۔ شریعت اسلامی میں اس کو پست اخلاق کے مقابلہ میں برتر یا اعلیٰ اخلاق کہتے ہیں اور اسے حْسن ِ اخلاق سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ حْسن ِ اخلاق کی تکمیل کروں۔ ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ تین چیزیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعلیٰ اخلاق سے ہیں۔ جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔ جو تم کو دینے سے مرحوم رکھے تم اس کو دو۔اور جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔ اختصار سے اگر سمجھا جائے تو مطلب یہ ہے کہ آپ دوسرے کو اپنے مقابلہ میں دوسرا فریق مت سمجھیں بلکہ یہ سمجھیںکہ وہ بھی میری ہی طرح ایک انسان ہے، آپ کے حسن اخلاق سے اس کے اندرون سے بھی آپ جیسا اخلاقی انسان جاگے گا۔ اعلیٰ اخلاق وہ ہے جس میں آدمی فریق ثانی کے رویہ سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرتا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کے اخلاق بغیر لفظی تکرار کے مثبت والے ہوں نہ کہ منفی سوچ کے تحت جوابی اخلاق۔
مثبت اخلاق کی نشو نما میں ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ یہ ذمہ داریاں اجتماعی بھی ہیں اور انفرادی بھی۔ انفرادی ذمہ داریاں سب سے پہلے والدین کی ہوتی ہیں جسے اولین دانشگاہ بھی کہتے ہیں۔ بچے جو کچھ اپنے والدین سے بلوغیت کی عْمر تک سیکھتے ہیں، وہ ان کے اخلاق میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کو مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم کے نور سے بھی آراستہ کرنا چاہیے تاکہ وہ اخلاقی شعور کے ساتھ آگے بڑھ کر  اولاد صالحین کی صفوں میں شامل ہوسکیں۔ اجتماعی ذمہ داری میں ہمیں ایسے سماج کی ضرورت ہے جہاں بے حیائی، بے شرمی، ظلم و جبر، قتل ، خونِ ناحق، رشوت خوری ،غرض غلط کاموں سے پاک ماحول کی بنیاد ڈالنا لازم وملزوم ہے کیونکہ ماحول کا اثر اخلاق پر بھی پڑتا ہے۔ مولانا رومیؒ کا فارسی میں ایک قول بہت مشہور ہے۔
صحبت ِ صالح ترا صالح کند
صحبت ِ طالح ترا طالح کند
یعنی نیک انسانوں کی صحبت میں انسان نیکی سیکھتا ہے اور برے لوگوں کی صحبت میں انسان بْرائی سیکھتا ہے ۔اسلئے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہے کہ ہم ایسے سماج کا انتخاب کریں یا ایسا سماج اپنے آنے والی نسلوں کو فراہم کریں جو اعلیٰ اخلاق کی قدروں کا آئینہ ہو۔ اس کی مثال ہمیں صحابہ سے ملتی ہے جن پر آپ ؐ نے کم وبیش ساڑھے تیرہ سال تک محنت کی اور جب وہ ایمان اور اخلاق میں پختہ ہوگئے تو اْنہوں نے دین ِ اسلام کی سرفرازی میں جو کردار ادا کیا ،وہ قابل ِ دید ہے۔
 قرآنِ مجید میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں۔’’اور اْن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھلا بیٹھے ۔پھر اللہ نے اْن کی جانوں کو ہی اْن سے بھلا دیا (کہ وہ اپنی جانوں کے لئے ہی کچھ بھلائی آگے بھیج دیتے‘‘ ۔(الحشر19)
خدا کو بھول جانے کا نتیجہ نسیانِ ذات ہے۔ یہ نسیانِ ذات تقاضا ہائے حیوانیہ کا نسیان ہے نہیں؟ یہ تقاضا ہائے جسمانیہ کا نسیان ہے نہیں؟ تو نسیان سے یہاں مراد کیا ہے؟ فرمایا : تقاضا ہائے روحانیہ، حقیقت ِ باطنیہ اور اخلاقیہ کا نسیان ہے۔ مفہوم مخالف عرفان ذات ہوا۔ عرفان ذات، تشکیل ذات ہے، تشکیل ذات تعمیر اخلاق ہے۔
قر آن کریم میں ارشاد ہے۔ ’’اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘۔(آل عمران ، 3 : 164)
اس آیت مبارکہ میں تزکیہ کو مقدم اور تعلیم کتاب کو موخر رکھا گیا ہے۔ اس سے اخلاق و تزکیہ کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جو تعلیم، تزکیہ کے بغیر ہو وہ شجر بے ثمر کی طرح ہے۔ وہ سعی لاحاصل کی طرح ہے۔ وہ کاوش بے نتیجہ کی طرح ہے۔ صرف حرف شناسی کردار سازی نہیں۔ علم کا خْمار سر پر رکھ کر بھی انسان بدتمیز زمانہ ہی رہتا ہے۔ کتابوں کو دیمک کی طرح چاٹ کے بھی بدخلق ِ دھر ہی رہتا ہے۔ جو علم، تغیر اخلاق و تطہیر کردار کا باعث نہیں ،وہ ذہنی عیاشی تو ضرور ہے لیکن نتیجہ خیزی نہیں۔ قرآنی موضوعات میں مرکزی موضوع تعلیم الاخلاق ہے۔ کثیر آیات مقدسہ کا موضوع تشکیل کردار اور تجسیم اخلاق ہے۔
یوں تو اْم الکتاب میں6236 آیات مقدسہ ایجابی اقدار ( values  Positive) یا منفی اقدار ( Values  Negative) سے متعلق ہیں مگر ہر دو صورتوں میں حاصل ِ تعلیم اخلاق ہے۔ ’’اخلاق الانبیاء والصالحین‘‘ موضوعات قرآنیہ میں اہم ترین موضوع ہے۔
مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود
گر بخود محکم نہ بودن چہ سود
’’حیوان کی طرح کھانے سونے میں کیا فائدہ گر تو محکم و مضبوط نہیں تو تیرے وجود کا کیا فائدہ؟‘‘
یہ محکم بودن (مضبوط و مستحکم ہونا) کیا ہے؟ محکم اخلاق عالیہ ہونا، مستحکم اخلاق عظیم ہونا ہے تب ہی زندگی با مقصد ہے ، با معنی ہے ، با مراد ہے۔علامہ اقبال فرماتے ہیں  ؎
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے دو کف جو!!!
تصور علم، تصور اخلاق کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ علم جو صرف شکم پری کے لئے ہو، بلند معیار زندگی کے لئے نہ ہو، یعنی علم برائے معاش ہو، وہ زہرہلاہل ہے، وہ سم قاتل ہے۔ آپ جس علم کے داعی ہیں، وہ انسان ساز، اخلاق ساز، کردار ساز ہونا چاہئے۔
نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز
قرآن حکیم نے اسی کو فرمایا ہے :’’عام لوگوں سے (بھی نرمی اور خوش خْلقی کے ساتھ) نیکی کی بات کہنا‘‘۔(البقرہ 83)۔لوگوں سے احسن طرز تعلم اختیار کرو۔ ’’للناس‘‘ نے اس کے دائرہ کو کائنات پر پھیلادیا۔ اپنے بیگانے کے فرق مٹادیئے۔ آپ ؐ نے فرمایا " لایدخل الجنۃ الجواظ" جنت میں سخت کلام، درشت بیان داخل نہ ہوگا اور دوسری جگہ آپ ؐنے فرمایا تحرم النار علیہ علی کل ہین لین یعنی نرم گفتگو کرنے والے پر دوزخ کی آگ حرام کردی گئی۔
اسلام کا اخلاقی نظام ہمیں تفریق( discrimination) سے پاک نظام فراہم کرتا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا "لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاسود علی احمر ولا لاحمر علی اسود کلکم بنو آدم وآدم من تراب "کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی، کسی کالے کو گورے پر کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں۔ سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے۔آپ ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور اپنے اہل وعیال کے لیے نرم خو ہو۔ خلق السلام الحیاء ’’ اخلاق عالیہ اسلام میں حیا ہے‘‘۔ان الحیاء والایمان قرنا جمیعا ’’ ایمان اور حیاء باہم متصل پیوست ہیں‘‘۔
 لیکن آج کا دور قدر مسمار دور ہے۔ اخلاق مسمار دور ہے۔ حیاء کو جھجکنے کا نام دیتے، ہم ذرا نہیں جھجکتے، شرم کا نام ہم کسی شرم کے بغیر لیتے ہیں۔تبدیلی اخلاق کا یہ دور سیاہ ہے۔ آج علوم جدیدہ کا اثر طبیعت حیا کے پردے چاک کررہا ہے۔آپ ؐ نے فرمایا " وَخَالِقِ ا لنَاسَ بِخْلْقٍ حَسَنٍ" اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ سے پیش آئو(ترمذی 1897) اخلاق انسان کا بہترین زیور ہے اس زیور کی حفاظت کر کے دین ِ حق کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کریں۔
پتہ۔ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
فون نمبر۔ 9205000010
ای میل۔akhoon.aubaid@gmail.com
 
 

تازہ ترین