صنف ِنازک…!

اظہار خیال

تاریخ    14 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ابوبکر
بھیا سچ پوچھیں تو میری سمجھ شریف پرآج تک یہ بات نہیں بیٹھ سکی ہے کہ ’’صنف ِنازک‘‘ درحقیقت ہے کیا!
اچھا جی میرے ساتھ ہوتا یہ ہے کہ بعض دفعہ ہزارسمجھنے کے باوجود جب مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا ہے تو مزیدالجھنے کے بجائے اسے سمجھنا ہی ترک کردیتا ہوں۔ یاآپ ہی معاملہ ’پھر کبھی‘ پر موقوف ہوجاتا ہے۔
بارہااس مسئلہ (صنف نازک) کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی،تاہم بات جب بنتی ہوئی نظر نہیںآئی توسمجھنا ترک کردیا، یا کبھی آپ ہی ’پھرکبھی‘ پرموقوف ہویا۔آج یوں ہی تنہا اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ چلیں جی اس مسئلے پراس بارسنجیدگی کے ساتھ قلمی زورآزمائی کیون نہ کرلی جائے۔
عام طورپرہمارے معاشرے میں’’صنف نازک‘‘عورتوں کوکہا جاتا ہے۔ یہ ایک مخصوص ’اصطلاح‘ ہے،جس کا اطلاق انسان کے اس روپ پرہوتا ہے جسے عرف عام میں ’’عورت،یا بنت ِ حوا‘‘ کہا جاتا ہے۔علمی حلقہ ہو یا غیرعلمی،کم و بیش سبھی حلقوں میں یہی اصطلاح رائج ہے۔کچھ جگہوں پر صنف نازک کے معاً بعد ’’صنف اُناث'‘‘بھی لکھا دیکھاہے۔
کافی کوششیں کی،کافی جتن کیا یہ جاننے کی سمت میں کہ کس ماہر بزرگوارنے اول اول عورت کو ’’صنف ِ نازک‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا۔اچھا جی اس ضمن میں ہم نے اپنے حلقے کی خواتین سے بھی مدد طلب کی کہ اس طرف سے کچھ کمک مل جائے اور معاملہ مجھ پرکھل جائے۔لیکن جواب کی صورت میں ان خواتین کے چہرۂ انورپرسوائے حیرت کے کچھ نظرنہیں آیا۔ باوجود کوششوں کے میری تحقیق کا لبِ لباب اب تک صِفرہی رہا ہے۔ ہمارے یہاں(خطۂ اودھ) کے بعض دیہی علاقوں میں کہا جاتا ہے:’’دوڑ بھاگ میں کمی نہ ہو،کام چاہے ہویا نہ ہو‘‘۔
کہاوت سو فیصد مجھ سے صادق آرہی تھی۔جناب عالی ہم نے اپنی طرف سے کوئی کور کسر نہیں اٹھا رکھی، لیکن خدا جانے کمی کہاں رہ گئی۔۔۔۔!
چلیں جی تھوڑی دیرکے لیے میں بھی عورت کو بحیثیت’صنف ِنازک‘ تسلیم کرلیتا ہوں۔اب جب عورت کو صنفِ نازک مان کر خواتین کو دیکھتا ہوں تو مجھے کہیں بھی کسی بھی طور پرعورت نازک صنف دکھائی نہیں دیتی ہے۔اچھا جی میں صاف کرتا چلوں کہ میری اس بات سے ذرا بھی گمان نہ کیا جائے کہ میں عورتوں کا خیرخواہ نہیں ہوںیامیں انہیں سخت پتھرجان ثابت کرنے پر آمادہ ہوں۔
بھئی منشا یہ ہے کہ مجھے ان کی طرف سے ایسا کوئی معاملہ نظرنہیں آتا ہے جس سے میں یہ طے کرلوں کہ’ عورت صنف ِ نازک ہے‘ یا اس کو ’نازک صنف‘ کہا جائے۔میں ان خواتین پر نظر ڈالتا ہوں جو میرے عملی،ادبی اور یار دوستی جیسے حلقوں میں شامل ہیں، تو جناب وہ بھی کہیں سے مجھے نازک صنف نہیں لگتی ہیں۔میں اقرار کرتا چلوں کہ میں نے انہیں ہرطرح سے دیکھا پرکھا،لیکن کہیں سے ان میںنازک صنف والی بات نظر نہیں آئی۔وہ ہر وہ کام کرتی ہوئی نظر آئیں جو آدم کا بیٹا کرتا ہے۔علمی وعقلی معاملات میں بھی انہیں طاق پایا۔بعض تو مجھ سے کہیں زیادہ چا ق وچوبند نظر آئیں ۔
اب اگرمیں ان خواتین کی بات کروں جو میرے اہل خانہ سے تعلق رکھتی ہیں تو وہاں بھی مجھے صنف ِ نازک کوئی نظرنہیں آیا۔والدہ معظمہ ہوں کہ ہمشیرہ محترمہ،پھوپھی جان ہوں کہ خالہ جان،بچیاں ہوں کہ بھتیجیاں،بھابیاں ہوں کہ کوئی دوسری عزیزدارکم و بیش مجھے سب ہی مضبوط اورقوی نظرآئیں۔والدہ معظمہ اور ہم شیرہ محترمہ کی بات کروں یہ لوگ تو آج بھی ہم لوگوں سے زیادہ قوی ہیں ۔
اچھا جی دوران خیال ایک دفعہ تو مجھے ایسا بھی لگا کہ ہوسکتا ہے جن بزرگوار نے عورتوں کو صنفِ نازک کہا ہے، نہ ہوان کے گھرکی خواتین حضرات نازک صنف کے پیمانے پراترتی ہوں،جس خاطر بزرگوار موصوف نے ایسی اصطلاح گڑھی ہو۔۔۔۔۔
ابھی میں یہ سوچ ہی رہا ہوں کہ ذہن میں یہ خیال کوندا کہ بھئی اگر ان کے گھرکی معززخواتین نازک صنف تھیں تواس کا اطلاق آخرتمام عورتوں پرکیوں کرکیا گیا…بھئی گھر کا معاملہ تھا گھر ہی میں نمٹ لیا جاتا۔اورحق کی بات تو یہ ہے کہ اگر خاتون خانہ نازک صنف تھیں تو ان کو اس سے ابارنے کی کوشش کی جاتی کہ وہ بھی عام شمار میں آتیں۔خیر واللہ اعلم!
صنف ِنازک یعنی نازک صنف۔اس کو مزید کھولیں تو کہا جا سکتا ہے ’نازک جنس‘ مراد’ نازک انسان‘۔اب جب اس معنی کو مدنظررکھ کر معاملے کی نوعیت پرغورکرتا ہوں توابوبکرمیاں، نقطہ یہ نکلتا ہے کہ نازک چیزیں تو ناپائیدار ہوتی ہیں۔جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکارجاتی ہیں۔ان پرکسی طرح کا دباؤ یا کسی قسم کا بارنہیں رکھا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ بات سمجھ میں آنے والی تھی اور ذہن نے قبول بھی کر لیا۔لیکن یہ بات سمجھ سے پرے تھی کہ’’ عورت کو صنف نازک بھلا کیوں کرکہا گیا ‘‘
یار عورت تو بڑے سے بڑا باراٹھا لیتی ہے۔بڑی سے بڑی مشکلات ہنستے مسکراتے سہہ لیتی ہے۔مشکل حالات میں خود پرقابو رکھتی ہے اوراپنی آل اولاد کو بھی سہارا مہیا کرتی ہے۔ہم نے مرغیوں کو اکثر دیکھا ہے کہ جب کمبخت چیلیں میدان میں چگ رہے ان کے بچوں پر جھپٹے مارتی تھیں ،تو وہ بڑی پھرتی سے خود کو بچاتی اور اپنے بچوں کوبھی  اپنے پروں میں چھپا لیتی تھیں ۔
بات بے محل نہیں ہے اس لیے کہتا چلتا ہوں کہ ہماری محترم خاتون دوست،باتوں باتوں میں اکثرکہہ جاتی ہیں:’’ابوبکر عورت اپنی آئی (انا) پرآجائے تو ہمالیہ پربت سے ٹکراکراسے پاش پاش کردے‘‘۔
ایمان سے حقیقت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ دل کے دورے عام طورسے عورتوں پر نہیں پڑتے ہیں۔دنیا میں حرکت قلب بند ہونے سے مرنے والوں میں عورتوں کی تعداد کم ہے۔تو بھلا بتائیے حضور،عورت صنف ِنازک کہاں سے ہوئی…مثال سے تو معاملہ برعکس ہوجاتا ہے۔معاف کیجئے گا صنفِ نازک عورت نہیں کوئی اورجا ٹھہرتا ہے!
واقعہ دراصل یہ ہے کہ عورت ازل سے ہی بلندہمت اورعزم و حوصلے والی رہی ہے۔کمبخت ہم نے ہی اس کی ان خوبیوں پرکبھی کان نہیں دھرا۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کا فی ہے کہ عموما چھپکلیوں یا کاکروچوں سے ڈر جانے والی یہ عورت جب تخلیقِ انسانی کی ذمہ داری اٹھاتی ہے تو ماں بننے جیسے مشکل تر اور پُر آزامئشی مرحلے سے بھی خِراماں خِراماں گذرجاتی ہے۔اس کے علاوہ دوڑبھاگ، اُچھل کود، اسٹنٹس، تلواربازی،نیزہ بازی، گھوڑسواری، تیراکی، پہاڑوں پر چڑھنا،جہازرانی،اسپیس میں جانا،سیاست کرنا،درس و تدریس کے فرائض انجام دینا،عدالتی نظام چلانا، پلاننگ میں حصہ لینا، گھر سے لیکرملک اورعالمی سطح پر پالیسیاں بنانا وغیرہ وغیرہ۔غرض عورت آج ہر میدان میں اپنی خدمات بخوبی انجام دی رہی ہے۔میاں یہ عورت کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ ان سب کے باوجود شوہرِنامدار کے پیروں کی مالش بھی کردیتی ہے اورگھر اور بال بچوں کی دیکھ ریکھ بھی کرتی ہے۔بھلا بتائیے صنفِ ناک ہوتی تو وہ یہ سب بھلا کر پاتی!!
اب اسی ضمن میں ایک دل چسپ تحقیق بھی پڑھ جائیے:
''مجھے یہ سوچ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ عورت کو صنف نازک کہا اور سمجھا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا مغالطہ ہے جس میں مشرق اور مغرب دونوں ہی مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت جسمانی، معاشی اور معاشرتی کسی لحاظ سے بھی صنف نازک کہلانے کی مستحق نہیں ہے۔ ہر شخص اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے کہ نازک چیز جلد ٹوٹ جاتی ہے اور پائیدار شے دیر سے فنا پذیر ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرد اور عورت میں کون زیادہ لمبی عمر پاتا ہے۔ لمبے چوڑے اعداد و شمار کے چکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں آپ صرف انگلینڈ کی مثال لیں جہاں مرد کی اوسط عمر بہتر سال جبکہ عورت کی اوسط عمر 82 سال ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی عورتیں مردوں سے کہیں لمبی عمر پاتی ہیں۔ ا ب بتائیے صنف نازک عورت ہوئی یا مرد؟
آئیے اب اس مسئلے کا معاشرتی اور نفسیاتی پہلوئوں سے جائزہ لیں۔ ہر مرد اپنی زندگی کے ابتدائی بیس سال ماں کی ڈکٹیٹر شپ میں گزارتا ہے۔ یہ کرو، وہ نہ کرو، یہاں جائو، وہاں نہ جائو، فلاں کو ملو، فلاں کو مت ملو وغیرہ وغیرہ۔ اگر بیٹا ماں کے کسی حکم کو ماننے سے انکار کردے تو نہ صرف اس کا جیب خرچ بند ہوجاتا ہے بلکہ اس پر ناخلف اور نافرمان ہونے کی تہمت بھی لگ جاتی ہے۔ اگر بیٹا ماں کے رویئے کیخلاف باپ کے پاس احتجاج کرتا ہے تو باپ (اگر ماں سامنے نہ ہو) اُسے گلے سے لگا کر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نم آلود آنکھوں سے کہتا ہے ’’صبر کرو بیٹا صبر، میری طرف دیکھو، میں تیس سال سے اِس چکی میں پس رہا ہوں۔ لیکن کبھی اُف نہیں کی۔ تم تو نوجوان ہو، تمہاری قوت ِ برداشت مجھ جیسے بوڑھے سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے‘‘ اور اگر ایسے میں ماں پاس بپھری بیٹھی ہو تو باپ صرف یہ جملہ کہنے پر اکتفا کرتا ہے ’’تمہاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے بیٹے۔‘‘
’’شادی سے پہلے مرد کے بارے میں تمام فیصلے ماں کرتی ہے۔ حتیٰ کہ بیٹے کیلئے بیوی کا انتخاب بھی ماں ہی کرتی ہے۔ شادی کے بعد زیادہ تر اختیارات بیوی کو منتقل ہوجاتے ہیں اور ماں کے پاس محض شور مچانے اور گھر میں دنگا فساد کرنے کا اختیار رہ جاتا ہے۔ اب ایک طرف ماں ہوتی ہے تو دوسری طرف بیوی اور بیچارہ مرد ان دو پاٹوںکے درمیان پستا رہتا ہے۔ وہ کبھی ماں کے پائوں پڑتا ہے اور کبھی بیوی کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے لیکن دونوں خواتین اپنی اپنی جگہ چٹان کی طرح قائم رہتی ہیں اور مرد کو شٹل کاک کی طرح ایک دوسرے کی طرف پھینکتی رہتی ہیں۔ اس قسط وار ڈرامے میں باپ کی حیثیت محض ایک خاموش تماشائی کی ہوتی ہے۔‘‘
’’مرد کی مظلومیت کا سلسلہ یہیں پر بس نہیں ہوجاتا بلکہ بیٹی یا بیٹیاں جوان ہوکر باپ کیخلاف ماں کے اختیارات میں شریک ہوجاتی ہیں۔اگر بیٹے ہوں تو وہ خود ماں کے خوف سے سارا دن باہر گزارتے ہیں۔ یہ ہے مرد کی زندگی کا ہلکا سا خاکہ جو میں نے آپ کے سامنے پیش کردیا۔ مندرجہ بالا حقائق کی بناء پر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ صنف نازک عورت نہیں بلکہ مرد ہے۔اس مقالے کی اشاعت کے بعد عورتیں جس طرح مجھے تختہ مشق بنائیں گی اس سے بھی یہی ثابت ہوگا کہ صنف نازک کہلانے کا مستحق صرف مرد ہے۔‘‘
رابطہ۔Abubakr.awadh@gmail.com
9560877701
���������������
 

تازہ ترین