جعلی کال سنٹروں کا بہت بڑا نیٹ ورک بے نقاب

کثیر ملکی کمپنیوں کے نام پر روقوم بٹورنے والے 23 افراد گرفتار، مزید گرفتاریاں متوقع

تاریخ    14 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ارشاد احمد
سرینگر // سائبر پولیس کشمیر نے جعلی کال سنٹرس چلانے والے ایک منظم گروہ کو بے نقاب کر کے23 افراد کو گرفتار کیا۔گرفتار شدہ افراد نے ای کامرس کمپنیوں کے ایگزیکٹو کے طور پرفراڈ کرکے لوگوں کو جعل سازی کا نشانہ بنایا۔سائبر پولیس اسٹیشن کشمیر زون سرینگر کو قابل اعتماد ذرائع کے ذریعہ اطلاع ملی تھی کہ وادی کشمیر میں کچھ جعلی کال سنٹر چل رہے ہیں اور فوری  طور پرمعاملے کی تفتیش کی گئی ۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ کچھ افراد خود کو کثیر ملکی کمپنیوں کے جعلی ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتے ہوئے کئی معصوم لوگوں کو ان کے سافٹ ویئر کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے تکنیکی معاونت اور ان کے حل کرنے  کے دوران ان سے خطیر رقومات اینٹھ لیتے ہیں۔ جعلی سنٹر چلانے والے افراد کی کمپیوٹر اسکرین پر نقلی فون کالز کرکے ساتھ میں ای میل اور پاپ آپس بھیج کر اور اس کے عوض ان سے رقم وصول کرتے تھے،وہ ان متاثرہ افراد کے غیر قانونی مالی امداد کے لئے الیکٹرانک دستخطوں کا بھی استعمال کرتے تھے۔ یہ جعلی کال سنٹرز زیادہ تر بین الاقوامی شہریوں کو کال کرتے تھے اور غیر قانونی طور پر ان کے مالی اور بینک تفصیلات طلب کرتے تاکہ ان سے پیسہ وصول کیا جاسکے۔مزید تفتیش کے دوران ، یہ منظر عام پر آیا کہ سری نگر سٹی میں جعلی کال سنٹرز کا ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے ، جہاں ملازمین کی ایک اچھی تعداد چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے۔ ان جعلی کال سنٹرز کی نشاندہی سیکیور ٹیک رنگریٹھ سرینگر ، وائی ایس ایس مائیکرو ٹیکنالوجیز رنگریٹھ اور ورٹیکس ٹکنالوجی ، کرفلی محلہ سری نگر کی حیثیت سے ہوئی ۔ سائبر پولیس کشمیر نے تیزی سے کام کرتے ہوئے ضلعی پولیس سری نگر کے اشتراک سے متعدد ٹیمیں تشکیل دیں اور سرینگر کے رنگریٹھ ، کرفلی محلہ حبہ کدل اور نٹی پورہ علاقوں میں متعدد چھاپے مارے۔ ان چھاپوں کے دوران ان غیر قانونی جعلی کال سنٹرز کو چلانے میں ملوث 23 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔اس سلسلے میں سائبر پولیس اسٹیشن میں قانون کے متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 02/2021 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ جعلی کال سنٹرز ہندوستان میں ایک مکمل کاروبار بن چکے ہیں۔ یہ گھوٹالے کرنے والے زیادہ تر لوگوں کو ٹیکنیکل سپورٹ ایگزیکٹو ، انشورنس ایجنٹوں ، قانون نافذ کرنے والے افسران ، بینک عہدیداروں ، آن لائن شاپنگ سائٹس وغیرہ کی حیثیت سے بیرون ممالک میں مقیم لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اعلیٰ تنخواہ پیکیجوں کی وجہ سے نوجوان طلباء ایسے کال سنٹرز کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
 

تازہ ترین