وادی شدید سردی سے ٹھٹھرنے لگی،درجہ حرارت منفی 7.8

۔2012کے بعد سرینگر میں رواں سال کی سرد ترین رات درج

تاریخ    14 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید

   ٹھنڈ کا8 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ، جھیل ڈل سمیت دیگر آبی زخائر منجمد، پانی کے نل بھی جم گئے

 
سرینگر// شہر میں گذشتہ شب سردی کا 8 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔منگل اور بدھ کی درمیانی شب شہر سرینگر میںکم سے کم درجہ حرارت منفی 7.8ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ، اس سے قبل ایسی ٹھنڈ 8برس قبل پائی گئی تھی جب سال2012میں جنوری کے مہینے میں کم سے کم درجہ حرات منفی 7.8ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ وادی ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں شہر ویہات میں لوگ ٹھٹھر رہے ہیںاور صبح اور شام لوگوں کا گھروں سے نکلنا محال ہو گیا ہے ۔ سردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وادی بھر میں متواتر خشک موسم رہنے سے رات کا کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے چلا گیا ہے اور ٹھنڈ کے نتیجے میں نل لگاتارجم گئے ہیں جبکہ جھیل ڈل سمیت دیگر آبی زخائر بھی منجمد ہورہے ہیں۔گذشتہ شب سردی میں اس قدر شدت سے ڈل جھیل کی تہہ مکمل طور پر جم گئی تھی اور لوگ اس پر کھڑے رہے۔ابھی تک جھیل ڈل کی  بہت اوپری تہہ ہی جم جاتی تھی جو دن میں پگل جایا کرتی تھی لیکن بدھ کو ایسا نہیں تھا۔ بہت موٹی تہہ جم جانے سے لوگ بہ آسانی اس پر کھڑا رہ سکتے تھے اور ایسا ہی ہوا۔صبح کے وقت سڑکوں  اور گلی کوچوں میں موجود برف اس قدسر جم گیا تھا کہ یہ پتھر سے بھی زیادہ سخٹ بن گیا تھا۔ گیارہ بجے تک بہت ہی کم گاڑیاں سڑکوں پر بہت کم رفتار سے چلیں لیکن بعد میں دھوپ کھلنے سے سڑکوں پر لگا کورا پگلنے لگا۔محکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے ہی اس کا امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ امسال وادی میں سردی کے ایام بہت کٹھن ہونگے اور درجہ حرارت میں ریکارڈ کمی واقع ہوگی۔ نہ صرف مکمل طور پر شدید سردی کی لپیٹ میں ہے بلکہ امسال پورا جنوبی بھارت بھی پچھلے 30سال میں ریکارڈ سردی کی لہر جاری ہے۔معلوم رہے کہ اس وقت کشمیر وادی میں40روز پر محیط چلہ کلان کے ایام چل رہے ہیںاور اس میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے ۔محکمہ موسمیات کے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ جنوری کے مہینے میں سب سے زیادہ منفی درجہ حرارت جو 7ڈگری سے اوپر رہا وہ 1986میں ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ 1991میں اس سے بھی زیادہ قریب منفی 12ڈگری رہا تھا۔1986 میں درجہ حرارت منفی 9،1987 میںمنفی 8 ڈگری،1991 میںمنفی 11.8،1995 میںمنفی 8.3،2012   میںمنفی 7.8 اور اب2021   میںمنفی 7.8 ریکارڈ کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ جنوری میںمنفی 6ڈگری  درجہ حرارت 24جنوری 2020میں منفی 6.1،10جنوری 2018میں منفی 6.3، 14جنوری 2017میں منفی 6.8 اور14جنوری 2012کو منفی 7.8ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا وادی بھر میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات کم سے کم درجہ حرارت میں شدیدگراوٹ دیکھنے کو ملی ہے ۔جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 9.3، پہلگام میں منفی11.7،کوکرناگ میں منفی9.9 ،اونتی پورہ میں منفی 10.0، اننت ناگ میں منفی 9.3،شوپیا ن منفی 12.7 ، پلوامہ منفی 8.7 اور کولگام میں منفی 10ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔وسطی ضلع سرینگر میں منفی 7.8 اور بڈگام میں منفی 8.8ڈگری سلسیش درج کیا گیا۔شمالی کشمیر کے کپوارہ میں منفی5.6 ،بانڈی پورہ میںمنفی 5.5 اور گلمرگ میں منفی 10.0ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔درجہ حرارت میں شدید گراوٹ آنے کے نتیجے میں آبی ذخائر بشمول شہرہ آفاق جھیل ڈل منجمد پائے گئے اور نل اور پانی کی ٹینکیوں میں بھی پانی جم گیا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ امسال چلہ کلان کے ابتدائی ایام کے دوران ہی سال گزشتہ کے برعکس سردیوں میں کافی اضافہ درج ہورہا ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پانی کے نل متواتر طور جم رہے ہیں اور شدید سردی اس قدر پائی جا رہی ہے کہ گاڑیوں کے شیشوں بھی کورا لگ جاتا ہے ۔اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 20جنوری تک وادی میں موسم خشک رہے گا اور اس دوران را ت کے کم سے کم درجہ حرارت میں گراواٹ آنی متوقع ہے۔
 

تازہ ترین