مقامی صحافت :ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔ …قسط ششم

منظور انجم

تاریخ    5 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


 کشمیر کے دو قدآور صحافیوں خواجہ ثناء اللہ بٹ اور صوفی غلام محمد کے ساتھ اگر جموں وکشمیر کے کسی صحافی کا ذکر کیا جاسکتا ہے تو وہ وید بسین ہیں۔ خواجہ ثناء اللہ بٹ کو جہاں یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ انہوں نے کشمیر میں صحافت کی تہذیب کو جنم دیا وہیں وید بھسین جی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جموں میں صحافت کی تہذیب پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔تاہم جموں کے مقابلے میں کشمیر میں صحافت کی تہذیب نے تیزی کے ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کیں۔خواجہ صاحب اور صوفی صاحب کے بعد ایک گمنام صحافی مقبول حسین کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا ۔درس و تدریس کا پیشہ چھوڑ کر صحافت کے میدان میں آکر اس نے بہت کم وقت میں اپنی ذہانت اور صلاحیت کا لوہا منوا لیا ۔مختلف اخبارات میں معاون مدیر کے طور پر کام کرتے کرتے انہوں نے میزان نام سے اپنا ہفت روزہ جاری کیا لیکن معیاری اخبار ہونے کے باوجود یہ اخبار عوام کی توجہ حاصل نہیں کرسکا اور چند شماروں کے بعدبند ہوگیا ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مقبول حسین باصلاحیت صحافی اور غضب کا قلمکار ہونے کے ساتھ ساتھ بلا کا بادہ خوار بھی تھا ۔ اس کی شامیں مے کدوں میں گزرتی تھیںاور دن کافی ہائوس میں صرف ہوتا تھا ۔کشمیر کا کافی ہائوس صحافیوں ، شاعروں ، ادیبوں ، سیاست دانوں ، مصوروں اور دانشوروں کا وہ ٹھکانہ تھا جہاں ہر روز حاضری دینا ان کی عادت ہی نہیں بلکہ لت بن چکی تھی ۔یہ خیالات کے آزادانہ اور بے باکانہ تبادلے کا سب سے اہم مرکز تھا ۔یہاں بلا روک ٹوک بڑے بڑوں کی پگڑیاں اچھلتی تھیں۔کسی ٹیبل پر مختلف الخیال لوگ بیٹھ کر بین الاقوامی ، ملکی اور مقامی سیاست پر بحث چھیڑ دیتے تھے تو کسی دوسرے ٹیبل پر ادب اور شاعری کے جدید میلانات پر تکرار ہوتی تھی ۔کسی ٹیبل پر شیر اور بکرا آپس میں گتھم گتھا ہوتے تھے تو کسی پر کمیونسٹ اور مذہب پرست خدا کے وجودپر بات کرتے نظر آتے تھے ۔خیالات کے تبادلے کا یہی مرکز سب سے پہلے بارود کا نشانہ بنا جب اس کے باتھ روم میں ایک دھماکہ ہوا۔یہ عسکریت کی دستک تھی جو دانشوروں کی اسی بیٹھک میں سنائی دی ۔عسکری تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی دانش کا یہ مرکز، جہاں شمیم احمد شمیم کے تیکھے جملے بھی گونجا کرتے تھے اور عبدالغنی لون کے سیاسی افکار بھی، آخر کار بندہوگیا اوراس کے ساتھ ہی مقبول حسین کے دن کا ٹھکانہ بھی ختم ہوا ۔کافی ہائوس کے علاوہ اورین ہوٹل اور کشمیر ویلی بھی سیاست دانوں ، صحافیوں اور دانشوروں کے میل ملاپ کے ٹھکانے تھے لیکن جب بات کرنا بھی جرم ٹھہرا تو ان جگہوں پر ایسے لوگوں کی آمد و رفت بھی ختم ہوئی ۔مقبول حسین جو ایک جیتا جاگتا انسائیکلو پیڈیا تھا اب کہیں کا نہیں رہا ۔نہ مے خانے رہے نہ بیٹھکیں رہیں ۔وہ ٹوٹ کر رہ گیا ۔اس کا اپنا کو ئی دفتر یا اخبار نہیں تھا ۔ پہلے ہمدرد میں اور پھر سرینگر ٹائمز میں معاون مدیر کے طور پر کام کرتا تھا ۔یہ ان دنوں صرف آدھے گھنٹے میں اخبار کا فرنٹ پیج تیار کرتا تھا جب خبر کا ریڈیو کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں تھا ۔کشمیر کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اسے کشمیر کے ہر خاندان کی تاریخ کا بھی صحیح صحیح علم تھا ۔مقبول حسین کے علاوہ نند لال واتل کشمیرکی صحافت کا ایک ستارہ تھا ۔ خدمت ،جو کانگریس کا آفیشل آرگن تھا ،میں اس کے ادارئیے پڑھنے کے لائق ہوا کرتے تھے ۔ پران ناتھ جلالی ، موہن چراغی اور دوسرے کئی پنڈت صحافی تھے جو عسکری تاریخ شروع ہونے کے ساتھ ہی کشمیر سے ہجرت کرگئے ۔
عسکری تحریک کے دوران جہاںمقامی اخبارات اور صحافیوں پر بے بسی اور بے چارگی کا دور آگیا وہیں پر نئے اخبارات اور نئے صحافی بھی پیدا ہوتے رہے ۔اور پھر ایک دور ایسا بھی آیا جب اخبارات فروخت کرنے والوں اورکمپیوٹر آپریٹروں کے علاوہ کئی ایسے لوگ بھی اخبارات کے مالک بن گئے جن کا صحافت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں تھا ۔جنگجو تنظیموں نے سب سے پہلے صحافت کے پیشے میں دراندازی کا آغاز کیا ۔انہوں نے بالائے زمین کارکنوں کو صحافتی اداروں میں داخل کرکے یا انہیں اخبار جاری کرنے کی ترغیب دیکر ان کے لئے کام کرنے کے آسان اور موثر طریقے ڈھونڈ نکالے کیونکہ ایک صحافی کرفیو اورکریک ڈائون میں بھی کہیں بھی اپنا کارڈ دکھا کر آجاسکتا تھا ۔اس کی دیکھا دیکھی پولیس اور فوج نے بھی اپنے مخبروں کو یہ پیشہ اختیار کرنے کیلئے ان کی مدد کی ۔اس طرح سے یہ پیشہ بھی متحارب قوتوں کی مقابلہ آرائی کا اکھاڑہ بن گیا ۔اس طرح سے صحافیوں اور اخبارات کی مشروم گروتھ پیدا ہوئی ۔محکمہ انفارمیشن کے اُس وقت کے حکام نے اس مشروم گروتھ کو بڑھاوا دینے میں مدد کی ۔ جو بھی اخبار کااجازت نامہ حاصل کرتاتھاچند روز کے اندر ہی اس کا اخبار سرکاری اشتہارات کے حصول کا حقدار بن جاتا تھا ۔اس کے لئے جو ضابطے اور قاعدے مقرر تھے سب بالائے طاق رکھ دئیے جاتے تھے ۔کئی سرکاری ملازمین نے بھی مختلف ناموں پر اخبارات جاری کردئیے جو آج بھی چل رہے ہیں ۔بدنام زمانہ اخوانی جاوید شاہ نے بھی ایک اخبارجاری کیا ۔جب منتخب سرکاروں کا دور آیا تو وہ ایڈیٹر جو اتھل پتھل کے دور میں اس پیشے میں شامل ہوئے تھے، ان کی چمچہ گری کرکے ان سے محکمہ انفارمیشن کے حکام کو فون کراتے تھے کہ وہ ان کے اخبارکو زیادہ سے زیادہ اشتہارات مہیا کریں ۔کئی لوگوں نے شرمناک حربے بھی استعمال کئے جنہیں تحریر بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔بہت سے لوگوں نے اس مقدس پیشے کو ایک کاروبار بنایا ۔ ایک ہی فرد مختلف ناموں سے کئی کئی اخبارات نکال کر سرکاری اشتہارات کا زیادہ سے زیادہ کوٹا حاصل کیا کرتا تھا۔آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔کچھ لوگ سرکاری افسروں کو بلیک میل کرکے ان سے لاکھوں روپے بھی بٹورا کرتے تھے ۔ اس طرح سے اُس ایڈیٹر کی عزت بھی خاک میں مل گئی جسے دیکھ کر کبھی لوگ احترام سے کھڑے ہوجایاکرتے تھے ۔
 اس پورے دور کا صرف ایک مثبت پہلوہے اور وہ یہ ہے کہ کئی نئے قلمکار پیدا ہوئے جنہیں گریٹر کشمیر نے پلیٹ فارم مہیا کیااور انہوں نے اس کی وساطت سے نام پیدا کیا ۔نقصان یہ ہوا کہ اردو صحافت کا معیار گرتے گرتے کثافت کی پستیوں میں ڈوب گیا ۔ایک اخبار کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا جس کا نام میں اس لئے نہیں لوں گا کہ میں بھی اس کا مدیر رہا تھا۔اس کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ اس سے اس سرزمین کے باشندوں کی ذہنیت اور فطرت بھی بے نقاب ہوتی ہے جو آج بڑے بڑے اخبارات کے نقاد بنے ہوئے ہیں ۔اس اخبار کی ملکیت جب ایک نااہل بچے کے ہاتھوں میں منتقل ہوئی تو اس نے معمول بنایا کہ ہر شمارے میں ایک خبر ضرور ہونی چاہئے جس میں کسی فرضی معاشقے کا ذکر ہو ۔کوئی فحش بات ہو یا کوئی فحش فوٹو ہو ۔اس کے ساتھ ساتھ اخبار میں تقریباً روزانہ ایک فرضی خبر شائع ہوتی تھی کہ فلاں جگہ تربوزے ، یا انڈے یا کسی درخت کے پتے پر اللہ کا نام لکھا ہوا پایا گیا ۔اس طرح سے آوارہ ذہنیت کے لوگوں اور پست درجے کی عقیدت رکھنے والوں نے اس اخبار کو ہاتھوں ہاتھ لینا شروع کردیا ۔ یہاں تک کہ یہ اخبار سب سے بڑا کثیر الاشاعت اخبار بن گیا ۔اس اخبار کو سرکار کی بھی سرپرستی حاصل تھی اور علیحدگی پسند قیادت جس کا ان دنوں طوطی بولا کرتا تھا بھی اس کے حامی تھے کیونکہ ان کی تصویر اس اخبار کے صفحہ اول پر نمایاں ہوا کرتی تھی ۔اس اخبار نے کئی پاک دامن بیٹیوں کو رسواء کیا اور واہ واہ بٹور لی ۔پھر جب یہ آگ اس کے اپنے مددگاروں کے دامن تک پہنچی تو اسے ملیامیٹ کردیا گیا ۔اس اخبار کا تذکرہ کرتے ہوئے مجھے شمیم احمد شمیم کا ایک جملہ یاد آرہا ہے جو اس نے اس وقت کہا تھا جب اس کا روزنامہ آئینہ عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کرسکا اور کسی نے اس سے پوچھا کہ روزنامہ آئینہ کیوں عوام میں پسند نہیں کیا گیا تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ ’’ کشمیر کے اخبار بین میٹرک فیل ہیں اور میٹرک فیل ایڈیٹر کی بات ہی ان کی سمجھ میں آتی ہے ۔ لاء گریجویٹ کی بات ان کے سر کے اوپر سے چلی جاتی ہے اس لئے وہ اس کا اخبار نہیں پڑھ سکتے ۔
’’ کشمیر عظمیٰ‘‘ نے اس بات کو غلط ثابت کیا کیونکہ اعلیٰ صحافتی معیار کے ساتھ جب یہ اخبار جاری ہوا تو عوام نے اس کو پسند کیا ۔ اگر کہا جائے کہ اس وقت تک عوام کا معیار بدل چکا تھا تویہ بھی درست نہیں ہوگا کیونکہ آج بھی ایسے اخبارات کے قارئین کا حلقہ وسیع ہے جن میں پڑھنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا ہے ۔غالباًقارئین کا ایک الگ حلقہ تھا جو ایک معیاری اخبار کی تلاش میں تھا اور اسے ’’ کشمیر عظمیٰ‘‘ کی صورت میں یہ اخبار مل گیا ۔ عام اخبار بین کا آج بھی کوئی معیار نہیں ۔ ہاکر اسے جو بھی اخبار دیتا ہے وہ اسے لیکر پڑھتا ہے اور ہاکرکو بہت سے اخبار ایسے ملتے ہیں جن کو بیچنے میں اس کا منافع کئی گنا زیادہ ہوتا ہے، اس لئے وہ یہی اخبار فروخت کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے ہیں ۔
بہرحال یہ ایک الگ اور طویل کہانی ہے ۔ہمارا موضوع جو اخوانی دور تک پہنچا تھا اب کافی طویل ہوگیا ہے ۔اخوانی دور کا خاتمہ بھی اسی ڈرامائی انداز میں ہوا جس ڈرامائی انداز میں اس کا آغاز ہوا تھا ۔اس کے بعد عسکریت کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔اکثر عسکری تنظیمیں رفتہ رفتہ منظر سے غائب ہوگئیں ۔صرف حزب المجاہدین مقامی عسکری قوت کے طورپر قائم اور مستحکم رہی جس کے ساتھ لشکر طیبہ اور جیش محمد بھی طاقتور تنظیموں کے طور پر ابھریں ۔اس سے تنظیمی رقابتوں کادور تو ختم ہوا لیکن غزوۃ الہند کے نام سے ایک تنظیم کا وجود ایک الگ حیثیت سے سامنے آیا ۔داعش کے عروج نے کشمیر کے ایک حلقے میں بھی اپنے اثرات مرتب کئے تھے، اس لئے اکثر مظاہروں اور احتجاجوں کے دوران داعش کے جھنڈے لہرائے جاتے تھے ۔یہ ایک نیا نظریاتی ٹکرائو تھا جو رفتہ رفتہ جڑیں پکڑ رہا تھا۔لیکن اس سے پہلے کہ مقامی میڈیا اس کشمکش میں الجھ جاتا، جموں و کشمیر کے سیاسی حالات میں نئی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ۔ ان نئی تبدیلیوں کے ساتھ سوشل میڈیا نے ایک نئے ماحول کو جنم دیا ۔افواہوں ، بے بنیاد خبروں اور پروپیگنڈے کے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی ایک دوڑ شروع ہوگئی جس نے سب سے پہلے اخلاقی اور صحافتی قدروں پر کاری ضرب لگادی ۔مقامی میڈیا کی کردار کشی کا سلسلہ یہاں سے شروع ہو ا، اور اس کے نتیجے میںمقامی تاریخ ، ثقافت، سیاست اور قدروں کے اس محافظ اور امین پر آخری ضرب لگادی گئی ۔

تازہ ترین