کپوارہ میں بیاہی گئی مظفر آ باد کی خواتین کا احتجاج

’ہمیں شہریت دی جائے یا واپس سر حد کے اُس پار بھیجا جائے ‘

تاریخ    5 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشرف چراغ

باز آ باد کاری کی پالیسی نے یہا ں قید کر دیا 

کپوارہ//کپوارہ میں بیاہی گئی مظفر آ باد کی خواتین نے کپوارہ میں سرکار کی دو غلی پالیسی کے خلاف احتجاج کیا ۔انہو ں نے کہا ’ یا ہمیں یہاں کی شہر یت دی جائے یا ہمیں مظفر آباد واپس بھیج دیا جائے ۔ثومیہ صدف کی طرف سے ضلع ترقیاتی کونسل الیکشن میں حصہ لینے کے بعد کپوارہ میں بیاہی گئی دوسری خواتین نے کپوارہ میں اس بات کو لیکر احتجاج کیا کہ ثومیہ صدف کو ہمارے مقابلہ میں سرکار کیوں مہربان ہے اور وہ پاکستان بھی آ سانی سے آتی جاتی ہے اور اب الیکشن میں بھی آ سانی سے حصہ لے رہ ہی ہے ۔احتجاج میں شامل خواتین کا کہنا ہے کہ’ وہ2010میں بازآ باد کاری پالیسی کے تحت شوہرو ں کے ساتھ کشمیر آ ئیںاور اُس وقت کی سر کار نے ہمیں وعدہ کیا تھا کہ آپ کو باز آ باد کاری پالیسی کے تحت یہا ں پر زندگی کی ہر سہولیات میسر ہو گی لیکن سرکار کے وعدے وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ سراب ثابت ہوئے اور ہم یہا ں پر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ‘۔احتجاجی خواتین نے الزام عائد کیا کہ وہ تمام سہولیات سے محروم ہیں اور قیدہوکررہ گئیں ہیں‘۔احتجاجی خواتین نے کہا انہیں بھی ثومیہ صدف کی طرح سفری دستا ویزات اور شہریت فراہم کرنے میںسرکار اپنا کلیدی  رول ادا کریں ۔احتجاجی خواتین نے کہا کہ وہ سرکار کی اس دو غلی پالیسی سے حیران ہیں کہ ثومیہ صدف کو یہا ں کی شہریت بھی دی گئی لیکن ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ’یہا ں آکر ہمیں اپنو ں کی یاد تو آتی ہے لیکن خوشی یا غم میں ہمیں شریک ہونے کی اجازت تک نہیں دی جاتی جس کے نتیجے میں اب تک کئی پاکستانی خواتین پاگل ہو گئی ہیں‘ ۔انہوںنے کہا کہ یہا ں آکر ہم طرح طرح کی مشکلات سے دو چار ہیں جبکہ یہا ں کی شہریت نہ دینے کی وجہ سے ہماری کوئی شناخت ہی نہیں ہے‘ ۔احتجاجی خواتین نے کہاکہ سفری دستا ویزات کی عدم دستیا بی کی وجہ سے وہ گزشتہ10سال سے پاکستان میں اپنے گھرو ں کو نہیں جاسکے جس کے نتیجے میں وہ وہا ں تڑپ رہے ہیں اور ہم یہا ں تڑپ رہی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ’ ہم چوری چھپے یہا ں نہیں آئی ہیں بلکہ ہمیں با ز آ باد کاری پالیسی کے تحت بلا یا گیا ہے اور اب ہمیں ہر سہولیات میسر رکھنا یہاں کی سرکار کی ذمہ داری ہے ۔
 

تازہ ترین