تازہ ترین

حرمتِ سود… لغوی اور شرعی بحث

دینیات

تاریخ    4 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


عمران بن رشید
بینک (Bank)کے ساتھ تجارت:۔عصرحاضر میں چونکہ ہر تجارتی عمل بالواسطہ طورپریا بلاواسطہ طور پربینک سے منسلک ہے۔اور بینک کی بنیاد سود پر رکھی گئی ہے۔لہٰذا اس امر کی وضاحت ضروری ہوجاتی ہے کہ آیا بینک سے قرضہ اُٹھاکر تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟اس ضمن میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ بینک تجارت کی خاطر عوام کو قرضے پر رقومات فراہم تو کرتا ہے لیکن سود کی شرح کا تعین بھی کرلیا جاتاہے۔اور شریعت کے نزدیک قرض پر دی گئی رقم پر سود کی شرح عائد کرنا قطعًا جائز نہیں ہے۔۹؎۔بلکہ علماء اور فقہاکے نزدیک جو قرض نفع لائے وہ سود ہے۱۰؎۔البتہ قرض دیتے اور لیتے وقت اگر سود کی شرط نہ لگائی گئی ہواور مقروض قرضہ ادا کرتے وقت بخوشی کچھ رقم یا کوئی چیز اضافی طور پر دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ’’یہ واضح رہے کہ سود صرف اُس اضافے کا نام ہے جس کی وصولی کی قرض دیتے وقت شرط لگائی جائے۔اوراگرشرط نہ لگائی گئی ہواور مقروض قرض کی ادائیگی کے وقت خود اپنی مرضی سے کوئی چیز اضافی طور ہردے دے تو یہ سود  نہیں بلکہ قعض کی ادائیگی کا اچھاطریقہ ہے جس کی اسلام نے ترغیب دلائی ہے۔جیسا کہ ایک روایت میںہے کہ نبی ؐ نے کسی آدمی سے ایک اونٹ بطورِ قرض لیااور جب اسے لوٹانے کا وقت آیا تو اتنی عمر کا تو نہیں البتہ اس سے بڑی عمر کا اونٹ موجود تھا تو آپؐ نے وہی دے دیا اور فرمایا کہ تم میں بہترین لوف وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں سے اچھے ہیں‘‘(تجارت کی کتاب؍عمران ایوب لاہوری۔101)
 بینک قرضہ فراہم کرتے وقت ہی مقروض پر سود کی شرط عائد کرتا ہے‘لہذا اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔لیکن افسوس کہ کچھ لوگوں نے اسے ہر ممکن جائز ٹھرانے کی کوشش کی ہے۔مثال کے طور پر ہندوستان کیاایک مشہور علمی شخصیت رقمطراز ہے’’موجودہ زمانہ میں تمام اقتصادی سرگرمیوں کا تعلق بینک سے ہوگیا ہے جوسود کے اصول پر کا م کرتا ہے،مسلمان سود کوحرام سمجھنے کی وجہ سے بینک سے معاملہ نہیں کرتے۔ا س کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی تمام بڑی بڑی اقتصادی سرگرمیوں سے مسلمان بالکل الگ ہوگئے ہیں۔(چند سطور کے بعد)اس معاملے میں ‘میں کوئی حتمی رائے دینے کی پوزیشن میںنہیںہوں۔یہ مسلہ ایساہے جس کو علماء کی شوریٰ میں اجتماعی فیصلہ سے طے کیا جانا چاہیئے۔تاہم میں یہ کہنے کی جرات کروں گاکہ اس معاملہ میں کچھ لوگوں کی یہ تجویز قابلِ غور ہے کہ بینک کا انٹرسٹ کمرشل انٹرسٹ ہوتا ہے اور ہم کو کمرشل انٹرسٹ اور حاجاتی سود(usury) میںفرق کرنا چاہئے۔حاجاتی سود یک طرفہ نفع اندوزی پر مبنی ہے اور اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ۔لیکن کمرشل انٹرسٹ نفع میں شرکت کے اصول پر مبنی ہے۔اس اعتبار سے وہ ایک حد تک مضاربت کے اسلامی اصول سے مشابہت رکھتا ہے۔فرق یہ ہے کہ مضاربت میں نفع اور نقصان دونوں میں شرکت ہوتی ہے اور بینک میں صرف نفع میں شرکت۔‘‘(فکرِاسلامی۔88۔89)یہ محض الفاظ کی سحر انگیزی ہے اور کچھ نہیں ۔ موصوف نے بڑے فنکارانہ طریقے سے بینک کے سود کو جایز ٹھرانے کی ایک ناکام کوشش کی ہے۔موصوف نے بینک کے سود کو اسلامی مضاربت کے قائمِ مقام رکھا ہے جبکہ سود اور اسلامی مضاربت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اسلامی مضاربت میں سود کی شرح کا تعین نہیں کیا جاتاجبکہ بینک کے لین دین میں سود کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔بینک سود کی شرط عائد کرکے جو رقم بطورِ قرض عطاکرتا ہے مقروض اس رقم کو کہیں پر بھی صرف کرسکتا ہے اس میں حلال اور حرام کی کوئی قید نہیں ‘وہ چاہے تو اس رقم سے شراب کی تجارت بھی کرسکتا ہے‘باقی نشہ آور اشیاء ( جیسے سگریٹ)کی خریدوفروخت بھی کرسکتا ہے اور چاہے تو بے حیائی کوفروغ دینے والی تجارت بھی کرسکتاہے‘جیسے موسیقی کے آلات کی خرید و فروخت وغیرہ۔لیکن اسلامی مضاربت کا اصول اس کے برعکس ہے۔یہاں رقم فراہم کرنے والے فریق کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ عامل کوحرام اشیاء کی تجارت کرنے سے روکے۔جیسا کی حضرت حکیم بن حزام ؓ مضاربت پر رقم دیتے وقت شرط عائد کرتے تھے کہ میرے مال سے حیوانوں کی تجارت نہیں کی جائے گی۱۱؎۔بینک کے ملازم کو یہ حق حاصل نہیں۔مختصر یہ کہ سود کسی بھی طرح جائز قرار نہیں پاسکتاکیوں کہ اس کی حرمت نصِ قرآنی سے ثابت ہے۔اور بینک کا کمرشل انٹرسٹ یعنی تجارتی سود اس سے مستثنٰی نہیں۔اس ضمن میں مولانا مشتاق احمد کریمی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں’’جوقرض تجارت وصنعت اور کاروباری اغراض سے لیا جاتا ہے اس پر سود کو جائز قرار دینے کے معاشی نقصانات کیا ہیں ذرا ٹھنڈے دل سے پڑھیں۔صاحبِ سرمایہ لوگ اپنا سرمایہ شریک اور حصہ دار کی حیثیت سے کاروبارمیں لگانے کے بجائے دائن کی حیثیت سے بصورتِ قرض دیتے ہیں اور اس پر ایک مقررہ شرح کے مطابق اپنا سود وصول کرتے رہتے ہیں۔انہیں معاشی پیداوار کو فروغ دینے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ‘کیوں کہ اس کا نفع تو بہرحال مقرر ہے۔اور اگر کاروبار میں نقصان ہورہاہو تب بھی انہیں کوئی فکر دامن گیر نہیں ہوتی‘کیوںکہ ان کے لئے نفع کی گیارنٹی ہے۔(کیابینک کاسود حلال ہے؟؍صفحہ نمبر۔40)
ربّ اور رسول کا اعلانِ جنگ:۔سود کی حرمت سے متعلق حکم آنے کے بعد بھی جو لوگ سودسے باز نہیں آتے اُن کے خلاف اللہ اوراُس کے رسول ؐ کا اعلانِ جنگ ہے۔مولانا اکبر شاہ نجیب آبادیؒ نے لکھاہے کہ آنحضرتؐ نے عرب کے یہودونصارٰی کی سود خوری دیکھ کر مسلمانوں کواُن کی ہمسائیگی اختیار کرنے سے منع فرمایا تھا ‘بلکہ اسی وجہ سے آپؐ نے اُن کو ملکِ عرب سے باہر کردینے کی وصیت کی تھی۱۲؎ ۔ اللہ تعلی فرماتا ہے’’اے لوگو!جو ایمان لائے ہواللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جوباقی رہ گیا ہے اُسے چھوڑدو‘اگرتم مومن ہو۔پھر اگرتم نے ایسانہ کیاتو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔اور اگر توبہ کر لو تو تمہارے لئے  تمیارے اصل مال ہیں نہ تم ظلم کرو نہ تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔‘‘ سود کوظلم سے تعبیر کیا گیا ہے۔جس کے خلاف اللہ تعلی برِسر جنگ ہے۔’’ لَاْتَظْلِمُوْنَ وَلَاتُظْلَمُوْن‘‘سودخور‘ لوگوں سے سود وصول کرکے اُن پر ظلم کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی آخرت برباد کرکے اپنے نفس پر ظلم کرتاہے۔مولانادائود رازؒرقمطراز ہیں’’سودخوروں کو تنبیہ کی گئی کہ وہ یا تو اس سے باز آجائیں ورنہ خدا اور رسولؐ کے ساتھ لڑائی کے لئے تیار
ہوجائیں۔گویا سود خوری سے باز نہ آنے والے مسلمان اللہ اور اس کے رسول سے بر سر جنگ ہیں۔ان کو اپنے انجام سے ڈرنا چائیے۔‘‘(شرح صحیح البخاری؍جلد6۔111)
 سود اصل میں سرمایہ داری(Feudalism/Capitalism)کی پیدا وار ہے۔جس میں دولت سماج کے ایک مخصوص طبقہ میں مقید رہتی ہے۔اور عوام النّاس کے ساتھ انتہا درجے کا ظلم کیا جاتا ہے۔بقول علامہ اقبالؒ ؎
 رعنائی ِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں 
 گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا‘لاکھوں کے لئے مرگِ مفاجات
یہ علم، یہ حکمت ، یہ تدبُر،یہ حکومت
 پیتے ہیں  لہو دیتے ہیں تعلیم ِ مساوات
 بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
 کیا کم ہے فرنگی مدنیت کے فتوحات
رجوع الیٰ اللہ:۔ چونکہ ہر ذی روح اور غیر ذی روح کواللہ کی طرف لوٹ کرجانا ہے(بقرہ۔156)۔لہٰذاانسان کو چاہئے کہ ہر وقت اور ہر گھڑی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔اور حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العبادمیں بھی احکامِ الٰہی کا خیال رکھے۔اور اُس دن سے بھی ڈرتا رہے جس دن اسے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’اور اگر کوئی تنگ دست ہو تو آسانی(فراخی)تک مہلت دینا لازم ہے اور یہ بات کہ صدقہ کردو تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔اور اس دن سے ڈرو جس دن تم لوٹادئے جائو گے اللہ کی طرف‘پھر ہرشخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایااور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘ قُرآن میں کئی مقامات پر سود کے مدِمقابل صدقات(انفاق فی سبیل اللہ) کاذکر آیا ہے۔جیسا کہ مذکورہ آیت میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ تنگ دست ہوں اور آپ سے کوئی رقم ادھار لیں اُن سے سود وصول کرنے کے بجائے انہیں فراخی میسر آنے تک مہلت دو یاصدقہ کی نیت سے اُن کا پورا قرضہ ہی بخش دویہ ایک بہتر عمل ہے۔چنانچہ سورہ روم میں ارشاد ہوا ہے’’اور جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں(شامل ہوکر)بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑ ھتا  ۔اور جو کچھ صدقہ زکٰوۃ تم دیتے ہو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کے ہاں اپنے مال کو بڑھا نے والے ہیں‘‘
 بہر حال سود ایک ظلمِ عظیم اور گناہِ کبیرہ ہے ۔اللہ کے رسول ؐ کا ارشاد ہے کہ سود کا گناہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے سے بھی ستر گنا بڑاہے۱۳؎ ۔چنانچہ رسول اللہ ؐ نے سود کھانے والے پر‘سود دینے والے پر‘سود لکھنے والے اور سودپر گواہ بننے والے سب پر لعنت بھیجی ہے‘بلکہ ان سب کو گناہ میں برابر ٹھرایاہے۔
حوالہ جات؛۔۱؎ مصباح اللغات،۲؎ تجارت کی کتاب عمران ایوب لاھوری،۳؎  ایضًا،۴؎  دعوت القرآن جلداول صفحہ۔ 377،۵؎شرح صحیح البخاری (دائود رازؒ)جلد6 صفحہ۔112،۶؎ تجارت کی کتاب عمران ایوب لاھوری،۷؎ تفسیر ابن کثیر،۸؎ صحیح الترغیب (حسن لغیرہٖ)،۹؎تجارت کی کتاب عمران ایوب لاھوری صفحہ ۔101،۱۰؎ کیا بینک کا سودحلال ہے؟ صفحہ ۔28،۱۱؎  تجارت کی کتاب صفحہ ۔126 ، ۱۲ ؎ تاریخ اسلام جلداول صفحہ۔318،۱۳؎  ابنِ ماجہ ۔ 2274
(نوٹ۔ اس مضمون کی پہلی قسط 20نومبر کو جمعہ ایڈیشن میں شائع ہوچکی تھی)
رابطہ ۔سیرجاگیرسوپور،کشمیر
فون نمبر۔8825090545