دوشیزہ ٔ ابر

سفر نامہ کینیڈا

تاریخ    4 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ترنم ریاض
سڑکوں سے دور آگے کو آبادیاں بھی تھیں ۔مگرچونکہ باشندے کم تھے اس لیے گھر دور دور نظر آتے اور باغیچوں کے گرد جنگلہ بندی بھی نہیں تھی۔ ہندوستان میں بھی ایک وقت کے چین کی طرح آبادی بڑھنے سے نقصان ہوا ہے۔گھر بنانے کے لیے زمین نہیں۔ گاڑی ٹھہرانے کے لیے جگہ نہیں ۔اور صورت حال مزید تکلیف دہ ہوتی جا رہی ہے۔ درخت کاٹ کر عمارتیں بنائی جارہی ہیں اور موسم خفا ہو تا جا رہا ہے۔
  ساڑھے پانچ بجے نیا گر آبشاروں کو چھوڑ کر روانہ ہوئے۔ آسمان نیلاہٹ لیے ہوئے تھا۔ طویل بالائی پُل کے کناروں پر دُور رنگ برنگی عمارتیں نظر آتی تھیں۔ رات کا کھانا ٹورنٹو میں ’تندوری فلیم‘ ڈھابے میں تھا۔ بوفے کی طرح کے کھانے تھے مگر ذائقہ ویسا نہیں تھا جیسی امید نام سے کی جا سکتی تھی۔ خوشبوئیں گو کہ اپنی اپنی سی معلوم ہوتی تھیں۔بھارتی سفارت خانے سے کسی سفار ت کار کو ہم لوگوں کے ساتھ کھانے میں شامل ہونا تھا مگر وہ تشریف لانے سے قاصر رہے ۔ ہوٹیل کے ملازم کچھ سنہرے سے بھی تھے ۔کچھ سانولے سلونے بھی تھے جو مسکرا رہے تھے۔ بعض اپنے ہی بھارتی وفد کے سامنے احساس کمتری کو چھپانے کے لئے برتری کے اظہار پر کوشاں سے تھے۔ پردیس میں اس طرح کی ملازمتوں میںدوسرے درجے کے شہری عموماََ تیسرے درجے کی زندگی گزارتے ملتے ہیں ۔ریستوراں ڈھاباکہلاتا تھا مگریہ  ڈھابا ، ڈھابا سا بھی نہ تھا۔
اگلے روز کے پروگرام میں ایک بے حد حسین نظارہ بھی شامل تھا ، ہزارجزائر کی سیر ۔ یہ جزیرے کینیڈا اور امریکہ کی سرحد کے درمیان سینٹ لارینس (Saint Lawrence)میں اور کینیڈا میں جھیل اونتاریو(Ontario)کی شمال مشرقی حصے میں بہتی ندی پر واقع ہیں۔ ان کی تعداد اد ہزار سے زیادہ ہے ،یعنی اٹھارہ سو سے کچھ اوپر ۔یہ جزیرے تقریبا پچاس میل کومحیط ہیں۔ کینیڈا میں ’اونتاریو ‘ صوبے میں اور امریکہ میں نیو یارک ریاست میں ہیں۔ان میں کچھ چھوٹے اور کچھ ذرا بڑے جزیرے ہیں ۔چھوٹے بھی اتنے بڑے ضرور ہیں کہ ایک عمارت کے ساتھ باغ لگایا گیا ہو،ہریالی ہو اورمتعدد درخت بھی پائے جاتے ہوں۔
ہمارا قافلہ ایک دو منز لہ کشتی میں روانہ ہوا جس کی سیلنگ میںغرقاب ہونے سے بچنے کے لیے زرد رنگ جیکٹس اور ٹیُوبس تھیں۔فرش پر کرسیاں تھیںاور کشادہ دریچوں سے چاروں جانب گہرے نیلے پانی کا نظارہ ہوتا تھا۔ ہوا بہت سرد تھی لیکن پھر بھی کچھ لوگ شیشوں سے باہرسامنے کشتی کی نوک میں کھڑے فلمیں بنا رہے تھے۔گوکہ ٹھنڈی ہو اسے ان کے ہاتھ سُن اور چہرے سرخ ہو رہے تھے ۔
 سفر کے شروع میںندی کے آگے کچھ فاصلے کے بعد پانی میں زمین کے ایک ٹکڑے پرخوبصورت سی عمارت نظر آئی۔درختوں کی موجودگی جزیرے کے زندہ زندہ سا ہونے کی دلالت معلوم ہوئی۔اونچی فصیل کے پتھر بھی حسین تھے۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے ایسے ہی سحرانگیز حسن سے آنکھیں متحیر ہوتی رہیں۔ گہرے نیلے آسمان کے نیچے ، وسیع و عریض  فیروزی مائل پیلے فرش پر 'کھلوناگھر' ایسے سجے جزیرے، طلسمی دنیا کی کہانی کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔جب جب کشتی کسی جزیرے کے قریب سے گزرتی تو فنِ تعمیر کے ایک نئے حسین معجزے سے نظریںدوچار ہوتی۔ اتنی ہریالی ، اتنا شفاف پانی اوراتنی حسین عمارتیںکہ نگاہیں خیرہ ہوتی رہیں ۔جزائر پررہائشی ہوٹل اور پانی سے وابستہ تفریح کا سامان بھی تھا۔  
ظاہر ہے کہ یہ جزیرے بھی صدیوں سے آباد تھے۔ پانی  کے راستے تجارت کشتیوںجہازوں کے ذریعے فروغ پاتی رہی ۔ صرف لوگوں کی نسلیںاور رنگ بدلتے رہے۔ گورے صاحب نے یہاں بھی اپنے شاطر قدم جمالیے ۔ جو وہاں کے اصل باشندے تھے، ان کا ظاہر ہے وہی حال ہوا ہوگا جو امریکہ کے ریڈ انڈین باشندوں کا ہوا تھا۔کسی بسے بسائے ملک میں جبراََ گھس کر قتل و غارت گری کے بعد قابض ہوجانا حریص و طامع افراد کی غالباً جینیاتی شناخت ہے۔ اس میں تعجب کی بات کہاںہے۔کینیڈا  میں ابھی بھی  اصل باشندوں(aborigin) کی بیٹیاں کبھی نہ ملنے کے لیے غائب ہو جاتی ہیں اور حسب توقع انسانی حقوق کے حامی کچھ نہیں کرپاتے ۔ ان لوگوں کو غلام بنا کر رکھنا جو قتل ہونے سے کسی طرح بچ گئے ہوں اور اپنی ہی سرزمین پر جانوروں کی طرح رہنے پر مجبور کرنا ایسے فاتحین کی خاصیت ہے۔بابائے قومِِ امریکہ ہائے متحدہ جنابِ کولمبس صاحب، امریکہ کے اصل باشندوں پر اپنی اور اپنے ساتھیوں کی تلواروں کی دھارکا جائزہ کچھ یوں لیا کرتے تھے کہ دیکھیں ایک وار سے قطار میں کھڑے کروائے گئے کتنے بدنصیب زمین پر گرتے ہیں۔ دس گیارہ برس کی بچیوں کو دنیا بھر میں فروخت کر نے کا بیو پار، بابائے قوم ِفرنگ نے ہی شروع کیا تھا۔  
بہرحال حسین منظر کے پس منظر میں ابھرتے ڈوبتے خیالات سے ملک کے انڈمان نکوبار جزائر یاد آئے جن کی تعمیر میںان گنت مجاہدینِ آزادی ٔ ہندنے اپنی جانیںگنوائیں تھیں۔ سانپ بچھو اور خونخوار جانوروںسے بھرے کالے پانی کی جیلوں کیلئے عمارتیں تعمیر کیں اور دلدلوں میں گرگر کر جانیں دیں کہ گورے صاحب کی یہی منشا تھی۔ انڈیمان نیکوبار میںسمندر کی سیر کے دوران بعض بے حدحسین جزائر ملتے ہیں جہاں سمندر کا پانی آینے سا شفاف اورتہہ میں مختلف الاقسام معدنیات کے سبب آسمانی، ہرا، اورلاجوردی نظر آیا کرتا ہے۔  
 اے رووشنیء طبع تو بر من بلا شدی! 
کہ قدرت نے ضرورت سے زیادہ حساس ذہن عطاکرکے مستقل اداسیاں ہمارامقدر کر دی ہیں۔ رہ رہ کے کیا کیا نہ اذیت ناک خیالات سانسیں دوبھر کئے رکھتے ہیں ہماری۔ہماری قوم جہان بھر میںزیر عتاب ہے اور یہ بھی خونِ سفید اوربے رنگ چہروں کے طامع طینت عمل کا نتیجہ ہے۔
بات سفرکی ہو رہی تھی ۔اس سے اگلے روز آٹوا (Ottawa) کیلئے روانگی تھی۔  
 رن وے کے دوسری طرف AIC  Canada   کے ایک بالکل چھوٹے سے جہاز کو ایک موٹر گاڑی زنجیر سے باندھ کر کھینچے لیے جا رہی تھی۔ موسم سہاونا سا تھا۔جہاز روانہ ہونے لگا تو چھت پر ٹھہری اوس کی نازک بوندیں ایک ساتھ مل کر کھڑکی کے بے رنگ پلاسٹک پر سے تھرتھراتی ہوئی ننھی ننھی ندیاں بن کر بہہ نکلیں، بس لمحے بھر کو۔ ستر سے کچھ اوپر سِن کے فضائی میزبان صاحب کا ہنس مکھ سا دکھائی دینے والا انداز اس کے چاقوچوبند ہونے کے باوجود مصنوعی اور ناگوار سا معلوم ہوتا تھا۔
 (سفر نامہ کینیڈا جاری ہے ۔اگلی اور آخری قسط انشاء اللہ کل یعنی سنیچروار کے شمارہ میں شائع کی جائے گی)
برقی رابطہ۔tarannumriyaz@gmail.com
 

تازہ ترین