دوشیزہ ٔ ابر ۔۔۔۔ …قسط دوم

سفرنامہ کینیڈا

تاریخ    3 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ترنم ریاض
کینیڈا کے قدرتی حسن سے ہمیں اپنی وادی کے قدرتی حسن سے مشابہت نظر آنا فطری تھا۔  خزاں کی آمدآمد تھی۔ باغوں کے اندر قطاروں میں لگے، چناروں سے مشابہ، (Maple) درخت اور آڑی چھتیں، جاتی ہوئی خزاں میں رنگ بدلتے ہوئے پتے اور زردی مائل سی ہری گھاس تھی۔ چالیس پچاس برس اُدھر، کشمیر میں مٹی کی چھتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ ان کے اندر بھوج پتر بچھائے جاتے تاکہ پانی نہ رسے۔ ان پر پھول بوئے جاتے تھے جن میں زیادہ تر گل لالہ ہوتا، سرخ رنگ لالہ اور کبھی زرد بھی۔ دیہات میں کہیں کہیں دھان کی خشک گھاس کو اب بھی چھتوں میں استعمال کیا جاتا ۔گاہے گاہے گھاس بدلی جاتی۔چمکیلی سنہری گھاس پر سے برف کے تودے پھسل پھسل کر زمین پر آگرتے ہیں ۔ کمروں میں کہیں نمی ر سنے کا کوئی ایسا خدشہ بھی نہیں ہوتا اور یہ ٹین کی چھتوں کی ہی طرح محفوظ معلوم ہوتی ہیں ۔کس قدر آسان اور صحت مند طریقہ تھا۔ فطرت کا اس میں کوئی نقصان نہیں تھا۔ ملیں اور فیکٹریاں کرۂّ ارض کا جان لیوا استحصال کئے جا رہی ہیں ۔ کئی طرح کے زہر بوئے جارہے ہیں زمین کے سینے میں جو طوفان بن بن کر اٹھتے ہیں ۔ دھاتوں کو ڈھال کر چھتوں کا سامان کیا جاتا ہے اور دھواں زندگی کے تمام ہو جانے کا سامان کرتا نظر آتا ہے۔ 
خیر بات قدرتی مناظر کی ہو رہی تھی۔ہم نے، اطراف باغوں میں گلہری دیکھی تھی ۔ لیکن جسامت نسبتاً زیادہ اور رنگ سیاہ تھا۔انہیں وہاں لوگ ہریالی برباد کرنے کے پاداش میں بلاک کر دیتے ہیں۔ جانور دشمن حضرتِ انسان نے چھَرے والی بندوقیں رکھ رکھی ہیں، ملائم سرمئی پوستین پر سرخ دھبے ڈالنے کے لیے۔
 دن بھر کا پروگرام اونٹاریو صوبے کی راجدھانی ٹورنٹو اور آبشارِ نیاگرا کی سیر تھا۔وطنِ عزیزمیں وادی کے جنوب مغرب میں کولگام ضلعے کی پہاڑیوں سے بہنے والے آب شار کا حسن میرے ذہن میں محفوظ تھا۔ اس سے بڑھ کر حسین کوئی آبشار کیسے ہو سکتا ہے۔ اور نیاگرا فالز، آبشارِ  اہربل سے زیادہ حسین نہیں تھے مگر حجم میں کہیں بڑے تھے۔ ہمارے لئے کوئی شے اگرروح کی توانائی کا کام کرتی ہے، تو وہ پرندوں کی صدا ہے۔ اور اس کے علاوہ بہتے، تھرکتے، برستے پانی کا مدھم یا اونچاشورر لبھاونالگتا ہے۔ جیسے یُوس مرگ کے، رخ بدل بدل کر بہتے شرمیلے جھرنے، جیسے پہلگام میںدریائے لِدُر کے کنارے پانی کی روانی کا شور، جو ہنستے مسکراتے بچپن کی یادوں میں ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔ نیاگرا آبشار و ںکا حسن بھی بے مثال قسم کا ہے۔ طویل سے رقبے سے پھسل پھسل کر کئی کئی آبشار ندی میں گرتے ہیں۔ گرتے ہوئے سفید جھاگ ایسی پانی کی چادریں نیچے پہنچتے ہی ہلکا ہرا رنگ لپیٹ لیتی ہیں۔ دور دور تک صرف چاررنگ نظر آتے  ہیں۔ آسمانی رنگ، درختوں کا گہرا اور پانی کا ہلکا ہرا رنگ، آبشاروں کا سفید اور مرغِ دریائی، یعنیSeagull کا سفید رنگ ۔ یہ مخلوق اتنی اجلی، ایسی معصوم اور آشنا فطرت ہے کہ کچھ گھنٹوں کی عارضی شناسائی میں، ہم جیسی عاشق الطیور شخصیت کے لیے نہایت آسانی سے سکون اور مسرت کا سامان کرسکتی ہے۔  ہمارے ہاتھ سے چار پرندوں نے ڈبل روٹی کے ٹکڑے قبول کئے ۔ ایسے میںہمارے ہاتھوں کونرم ونازک پروں کا لمس بھی عطا کر گئے۔ مرغ ِدریائی کا منقار  بطخ کی چونچ سے مشابہ ہے مگر چوڑائی نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ عام طور پر سمندروں اور بڑے دریاؤں کے اطراف بہ آسانی ملتے ہیں۔ان کی ٹانگیں بگلے کی طرح بہت لمبی نہیں ہوتیں۔ انہیں تو پانی میں بس ڈبکی لگا نا ہوتی ہے جبکہ لا ا بالی سے بگلے کناروں کے قریب ندیوں میں ٹہلا بھی کرتے ہیں۔
 بارہ ہزار سال پرانے نیاگرا آبشار کی سیر میں کشتی کی سیر بھی شامل تھی۔ کشتی کا نام، ’Maid of the Mist‘  یعنی دھند کی دوشیزہ ، گویا 'دوشیزۂ ابر ' تھا۔دومنزلہ کشتی انجن پر چلتی تھی۔ سیاح لائف جیکٹس پہنے سردی سے کانپتے ،ٹپکتی بوندوں میں آبشاروں سے اڑنے والے چھینٹوں کے قریب پہنچتے چیختے چلاتے اور ہنستے نظر آتے۔ 
گرتے آبشاروں، اطراف کے جنگل کی گھنی ہریالی اور مرغانِ دریائی کے مساکن کے بارے میں اطلاعات، کشتی میں نسب ریکارڈِڈ آواز کے ساتھ رفتار کی لے برابر رکھتا ہوا کشتی بان، خوب گرم کپڑوں میں ملبوس تھا۔ آبشار امریکہ میں دریائے نیاگرا سے وابستہ ہیں اور یہ دریا  امریکہ اور کینیڈا دونوں میں بہتا ہے۔ دریاکے اُس پار امریکہ والی طرف کی عمارتیں نظر آتی تھیں ۔یہ امریکہ کا تیسرا بڑا بجلی پیدا کرنے والا نیاگرا پاور پروجیکٹ تھا۔
 ہمیںاپنے وطن کشمیر کی وادیاں اور مرغزار یاد آجاتے جو صدیوں سے غیروں کی حکومتوں اور لالچ کے مارے لوگوں کے عتاب کا شکاررہتاآیا ہے۔چناروں سے سجے نکھرے ہوئے باغات، بارشوں سے دھلے درخت، اور شام کو شاخوں کے اندر اڑتے پھرتے طیور۔ فرق صرف اتنا تھا کی میری وادی کو صدیوں سے کسی نے سنوارا تھا نہ نکھارا تھا۔ بادشاہت کے بعدیہ وادی ، کسی لاوارث اورنابالغ دولت مندکی طرح رہی جس کا  راجے ، مہاراجے اور سیاستیں مسلسل استحصال کرتی رہیں۔دوپہر کا کھانا وہاں ایک ہندوستانی ریستوراں، 'دلی دربار'  میں تھا۔ جہاں زیادہ پکوان شمالی ہند سے ہی تھے لیکن وڈا پائو،ڈھوکلا اور مصالحہ دوسہ قسم کی چیزیں بھی تھیں۔ 
ہم نے مغربی ممالک کو جب بھی دیکھا موسم کی مماثلت سے ہمیں اپنا عزیز از جان وطن یاد آتا رہا ۔ مغرب میں نظام ِ حکومت عمومی طور پر سب کے لئے یکساں رہتا ہے اور عوام کی املاک لوٹی نہیں جاتی۔ عوام کی جانب سے بھی لاپرواہی نہیںہوتی کہ قوانین سخت ہوتے ہیں اور منصوبہ بند طریقے سے بنائے ہوتے ہیں۔ بہت اوپر کی سطح پر کئی طرح کی مافیا قسم کی بدعنوانیاں سرگرم ہوا کرتی ہیں ۔ اور اکثر ہر ملک میں ہی ایسا ہوا کرتا ہے۔ سادہ لوح عوام ، اس کابے خبر شکار ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی رعایتیں بھولی جنتا کو بیوقوف بنانے کے لئے بہت ہوا کرتی ہیں ۔ مگر اس پر بحث اور تدارک کا خیال خواب کی طرح ہے ، جس کاسدھار کرنے کے لئے تھیریاں وجود میں آئیںبھی اور ناکام بھی ہوئیں۔ کبھی اندرونی غلطیوں کے سبب اور کبھی باہری سازشوں کی وجہ سے۔ تھیریاں وجود میںآتی رہیں گی، اس وقت تک جب تک کہ متوازن ذہن انسان جنم لیتے رہیں گے اور ناکام بھی ہوتی رہیں گی جب تک  یہ تعداد غیر متوازن اذہان کی نسبت زیادہ نہ ہوجائے ۔ 
کینڈا میںسڑکوں پر گاڑیاں کشتی کی طرح گویا پھسلتی چلتی تھیں۔ وہاں سڑک بنانے اور اسے توڑنے کے لئے سرکار اپنے چہیتوں کو ٹھیکہ نہیں دیتی ہوگی ، جبھی! جن دنوں ہمارے میاں حضور،  پروفیسر ریاض پنجابی کشمیر کی دانشگاہ کے وائس چانسلر تھے، ہم نے وی سی لاج (VC Lodge) کے باہر نگین کے علاقے سے حضرت بل کی طرف جاتی سڑک کو کبھی درست حالت میں نہیں پایا۔اس میں گہرے گہرے گڈھے رہتے تھے۔ گاڑی ایک طرف سے نکالنے میں ڈرائیور کے چہرے کی الجھن کے تاثرات پیچھے دیکھنے والے آئینے میں ہم کو صاف نظر آ جاتے۔ ان دیو ہیکل گڈھوں میں کبھی کبھی کوئی مصیبت زدہ گاڑی بھی گری ہوئی نظر آتی۔ کام کئی کئی دن رکا رہتا۔کبھی سیاسی حالات کے اچانک زیادہ بگڑنے کے سبب اور کبھی لوگوں کی ضرورتوں کے تئیں غیر سنجیدہ افراد کے ہاتھوں میں آئی طاقت کی وجہ سے ، یا کبھی خدا معلوم کیوں ۔  
اور رہی باغوں کی بات ، تو وطن عزیز کے کتنے ہی سرکاری باغ، میدان اور ٹیلے ہیں جو نامعلوم نوجوانوں کی قبروںکو سمیٹے ہوئے سوگوار رہا کرتے ہیں۔اوراطراف میںایستادہ اداس درختوں پر پرندے نوحہ خواں سے معلوم ہوتے ہیں۔ 
 (سفر نامہ کینیڈا جاری ہے ۔اگلی قسط انشاء اللہ کل یعنی جمعہ کے شمارہ میں شائع کی جائے گی)
برقی رابطہ۔tarannumriyaz@gmail.com
 

تازہ ترین