کہیں لمبی قطاریں کہیں جم کر پولنگ تو کہیںسست رفتاری

وادی میں ووٹ ڈالنے کیلئے روایتی گہما گہمی پھر لوٹ آئی

تاریخ    2 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
 سرینگر//ضلع ترقیاتی کونسل الیکشن اور پنچایتی و بلدیاتی اداروں کے ضمنی انتخابات کا دوسرا مرحلہ سخت ترین سیکورٹی کے بیچ اختتام پذیر ہوا۔ انتخابی مراکز پر رائے دہندگان کا ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ دوسرے مرحلے میںسرد موسم کے بیچ  وادی کے 10اضلاع میںرائے دہندگان نے صبح7 بجے سے دوپہر2بجے تک اپنی رائے دہی کا حق ادا کیا۔اس مرحلے میں وادی کے25حلقوں سمیت مجموعی طور پر43حلقوں میں ووٹ ڈالے گے۔ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات میں مجموعی طور پر321امیدوار میدان میں تھے،جن میں وادی میں196اور جموں میں125امیدوار شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کیلئے کل ملا کر2142 پولنگ اسٹیشن تھے جن می سے 1305 کشمیر اور 837 جموں میںتھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرحلے میں قریب7لاکھ90ہزار رائے دہندگان ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔وسطی ضلع سرینگر کے کھنموہ دوئم اور سوئم ،سرینگر اول ،دوئم اور سوئم ،قمرواری اول اور دوئم ،بڈگام کے کھاگ اور بیروہ ، گاندربل میں کنگن بی اور کنگن سی کی نشستوں کے علاوہ کنگن اے ، ضلع بارہمولہ میں کنز ر اور زینہ گیر میں انتخابات ہوئے ۔ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں رامحال اور چوکی بل ، ٹنگڈار،بانڈی پورہ کے گنستان ، اور نوگام میں بھی امیدوار میدان میں اترے تھے۔ جنوبی کشمیر کے شوپیاں کے رام نگری ،کانجی اولر،کولگام کے پومبئی اور منزگام حلقہ ، اننت ناگ  کے شانگس جبکہ پلوامہ کے شادی مرگ اور ترال میں بھی امیدوار اپنی قسمت آزامائی کر رہے ہیں۔ منگل کی صبح سے انتخابات کے حوالے سے پولنگ مراکز پر رائے دہند گان کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں ،جو شدید ٹھنڈ کے باوجود پولنگ مراکز پر رائے دہی کا استعمال کرنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ووٹنگ کا آغاز اگر چہ سست رہا تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوا۔ پہاڑی علاقوں میں قائم انتخابی مراکز میں لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ تاہم پلوامہ ضلع میں پولنگ مراکز رقریباً سنسان نظر آئے۔شمالی کشمیر میں کہیں جم کر تو کہیں سست رفتاری سے ووٹ ڈالے گئے۔ جنوبی کشمیر میں لوگو ں نے کم دلچسپی دکھائی ۔حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کا دوسرا مرحلہ پرامن طور پر مکمل ہوا اور کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ وادی میں یہ انتخابات دفعہ370کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ منعقد ہو رہے ہیں۔ کشمیر میں ہر ایک پولنگ بوتھ کو حساس زمرے میں رکھا گیا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کشمیر میں پولنگ بوتھوں پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا جاتا ہے۔ کروناکے پیش نظر رائے دہندگان کی پولنگ مراکز پر تھرمل جانچ بھی کی گئی جبکہ پولنگ عملے نے بھی وبا ء سے محفوظ رہنے کے لئے خاص فیس ماسک ،شیلڈ اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا ۔شوپیان کے منگی پورہ گائوں میں کانجی اولر سے جب پولنگ سٹاف واپس آرہا تھا تو اس پر پتھرائو کیا گیا لین پولیس و فورسز نے شلنگ کر کے مظاہرین کو بھگا دیا۔
 

 کپوارہ میں بیاہی گئی مظفر آباد کی خاتون

مخصوص نشست پر انتخابات میں کود پڑی

اشرف چراغ 
 
کپوارہ//ضلع ترقیاتی کونسل انتخاب میں حصہ لینے والی مظفر آبادکی سومیہ صدف نے اپنے علاقے کی ترقی کا بیڑہ اٹھایا ہے۔پنچایتی و بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار کشمیر میں بیاہی گئی سرحد پار کی کوئی خاتون اپنی قسمت آزمائی کررہی ہے۔ثومیہ صدف درگمولہ کی خواتین کی مخصوص نشست کیلئے  بطور آزاد امیدوار چنائو لڑرہی ہے۔یہاں تیسرے مرحلے میں7دسمبر کو پولنگ ہوگی۔اس نشست پر11خواتین چنائو میں حصہ لے رہی ہیں۔ثومیہ صدف ،جو مظفر آباد سے تعلق رکھتی ہیں، کی شادی باتر گام کپوارہ کے عبد المجید بٹ سے 2002میں ہوئی ۔ عبد المجید بٹ 90کی دہائی میں اُس پار چلا گیا تھا اور وہا ں صدف سے شادی رچائی، جس کے بعد ان کے 4بچے ہوئے۔ ثومیہ صدف نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ وہ2010میں با ز آ باد کاری پالیسی کے تحت نیپال سے کشمیر واپس آگئے ۔ان کا کہنا ہے کہ کئی سال تک انہیں اپنو ں کی یاد ستانے لگی، لیکن بے روز گاری کی وجہ سے اس نے اپنے شوہر کو پولٹری فارم قائم کرنے میں مدد کی جبکہ ان کے پاس ایک ڈائری فارم بھی ہے جس کے ذریعے وہ اپنا روز گار کماتے ہیں ۔ثومیہ کا کہنا ہے کہ انہو ں نے مظفر آباد میں گریجویشن کی اور یہا ں آکر مولانا آ زاد یونیورسٹی کے ذریعے پو سٹ گریجویشن کی ۔ثومیہ نے کہا کہ چنائو میں حصہ لینا میرا اکیلا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس میں خواتین کی آارا بھی شامل تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا اصلی مقصد خواتین کی ترجمانی کرنا ہے تاکہ ان میں خود اعتمادی  پیدا ہو ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرا پیغام ان بہنو ں کو ہے ،جو مظفر آ باد سے شادی کر کے یہا ں آگئی ہیں کہ وہ خود اپنے پیرو ں پر کھڑی ہو جائیں اور میں چاہتی ہو ں کہ ہم ملکر بے روز گاری پر قابو پائیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمیں باز آ باد کاری پالیسی کے تحت یہا ں لایا گیالیکن ہماری باز آ باد کاری کے لئے جو وعدے کئے گئے انہیں پورا نہیں کیا گیا  ۔انہو ں نے تمام خواتین سے اپیل کی کہ وہ مثبت سوچ لیکر آگے آئیں اور مجھے اپنا ووٹ دیکر کامیاب بنائیں ۔
 

شانگس میں کانگریس کو گپکار اتحاد کی حمایت!

خالد گل
 
شانگس//اننت ناگ ضلع کے شانگس علاقے میں منگل کو ووٹ ڈالے گئے ۔یہاں گپکار اتحاد نے کانگریس کو سپورٹ کیا ہے جو الائنس کا حصہ نہیں ہے۔ دونوں جماعتوں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کو یہاں خاصی حمایت حاصل ہے۔ سال 2014میں کوٹھہار شانگس سے کانگریس کے گلزار احمد وانی کامیاب ہوئے اور ان علاقوں میں شانگس ، چھتر گل اور اچھہ بل بلاک شامل ہے۔ یہ سیٹ اب خواتین کیلئے مخصوص رکھی گئی ہے اور یہاں میدان میں آئی خواتین میں وانی کی بیٹی شباحت گلزار ( کانگریس) سبرینہ مشتاق، سلما لطیف ، مبینہ بیگم اور روزی جان شامل ہے۔وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہم نے پی ائے جی ڈی کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے اور وہ ہمیں ان بلاکوں میںمدد دیں اور اسلئے ہاتھ کو ووٹ دینے کا مطلب الائنس کو ووٹ دینا ہے۔بی جے پی کی سخت مخالف کے بعد کانگریس نے کہا تھا کہ انکی پارٹی الائنس کا حصہ نہیں ہے۔ وانی کا تاہم کہنا ہے کہ قومی مفادات ،صوبائی مفادات سے مختلف ہوتے ہیں۔ وانی کی بیٹی نے کہا کہ وہ کانگریس کے علاوہ الائنس کی بھی نمائندگی کررہی ہے۔ اس سے قبل جموں و کشمیر پردیس کانگریس کمیٹی کے سربراہ جی ائے میر نے کہا  تھاکہ وہ گپکار الائنس کا حصہ نہیں ہے لیکن انہوں نے اس بات کی تصدیق کی  کہ مقامی سطح پر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کیساتھ سمجھوتہ ہے۔ پہلگام میں پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران کوئی بھی اُمید وار کھڑا نہیں کیا گیا تھا ۔ شانگس میں پی ائے جی ڈی کا اُمید وار بی جے پی کے خلاف کھڑا ہے جبکہ وہاں مزید 4آزاد اُمید وار بھی میدان میں ہے۔ براری آنگن اور چھتر گل کے علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے تاہم شانگس کے گردونواح میں آنے والے دیہات میں شانگس، نوگام، کٹھہار اور اترسو میں ووٹنگ کم رہی۔ شانگ بلاک میں 50ہزار ووٹرز موجود ہیں۔ 
 
 

 نوبیاہتا جوڑا اور کھٹوعہ میں دلہا بھی پہنچا

کپوارہ اور سرنکوٹ میںعمر رسیدہ بھی آئے

نیوز ڈیسک
 
جموں //ضلع ترقیاتی کونسل اور پنچایتی ضمنی چنائو کیلئے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے بیچ جموں کے اْدھمپور میں ایک تازہ شادی شدہ جوڑا شادی کے لباس میں ہی پولنگ بوتھ پر پہنچا اور ووٹ ڈالا۔جبکہ کھٹوعہ میں دلہا باراتیوں کے ہمراہ پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کیلئے آیا ۔ اس دوران سرنکوٹ میں 135سالہ شہری جبکہ کپوارہ میں سردی کے باوجود 105 سالہ بزرگ نے پولنگ بوتھ پر پہنچ کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔جہاں اْدھمپور کے پنچھاری علاقے میں ایک نو بہاتاجوڑا شادی کے لباس میں ہی ووٹ ڈالنے کیلئے آیا وہیں کھٹوعہ کے منڈی علاقہ میں سہل بدوال نامی نوجوان نے دلہے کے لباس میں باراتیوں کے ساتھ پولنگ اسٹیشن پر پہنچ کر ووٹ ڈالا ۔ الیکشن کمشنر کے کے شرما نے اپنے ٹویٹر پر اس کی تصویر شیئر کرکے لکھا ’’ ساحل اپنے شادی کے دن ووٹ ڈالنے کیلئے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ گیا ‘‘ ْ۔ اس کے علاوہ  سرنکوٹ کے دور افتادہ گاؤں ہلجارہ میں 135 سالہ شخص نے ووٹ ڈالا ۔
 

تازہ ترین