تازہ ترین

پی ڈی پی پر پابندی لگانے کی کوششیں: محبوبہ مفتی | الیکشن کشمیر حل کا متبادل نہیں

دفعہ 370 منسوخی سے اگر معاملات حل ہوگئے تو 9لاکھ سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی کیوں؟

تاریخ    30 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   
(عکاسی: امان فاروق)

بلال فرقانی
سرینگر//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں انتخابات سے مسئلہ کشمیر کی ہیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھاجپا کی مرکزی سرکار انہیں گرفتار کر کے پی ڈی پی پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دفعہ370 منسوخ کرنے سے تمام معاملات حل ہو گئے ہیں تو وادی میں ابھی بھی 9 لاکھ فوج کیوں تعینات ہے۔

مسئلہ کشمیر

انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاتا،یہ معاملہ موجود رہیگا جس طرح رہتا آیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ جب تک دفعہ 370کی بحالی نہیں ہوتی یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔وزراء آئیں گے جائیں گے،محض انتخابات کرانا مسئلے کا حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے، اگر ہم چین کیساتھ بات کرسکتے ہیں، جس نے ہماری اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے تو پاکستان کیساتھ کیوں نہیں؟۔کیا یہ صرف اسلئے کہ وہ ایک مسلم ملک ہے کیونکہ اب سب کچھ قرفہ وراریت پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی بڑی شرح سے مسئلہ کشمیر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،بلکہ ماضی میں بھی یہاں انتخابات ہوئے،کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

پی ڈی پی پر پابندی

اتوار کو اپنی سرکاری رہائش گاہ واقع فیر ویو گپکار میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا ’’ وہ(مرکزی سرکار) مجھ تک پہنچنا چاہتی ہے، اور اس کوشش میں ہے کہ پی ڈی پی پر پابندی لگائی جائے،کیونکہ میں آواز اٹھا رہی ہوں‘‘۔مجھے کہا جارہاہے کہ میری رہائی کے بعد دفعہ 370کو ہٹانے کی بار بار بات ہورہی ہے، اس میں ، میں کہا کہہ سکتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا مخالفین کو زیر عتاب لا کر ایک ایسا ماحول بنانا چاہتی ہے کہ’’ جہاں جمہوریت کیلئے کوئی جگہ نہ رہے‘‘۔ان کا کہنا تھا بی جے پی’’مسلمانوں کو بطور پاکستانی ، سکھ کو خالصانیوں ، سماجی رضا کاروں کو دہی نکلسوادیوں اورطلباء کو گروہوں اور غداروں کی حیثیت سے پیش کر رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا’’ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر ہر کوئی اس ملک میں دہشت گرد ہے تو پھر ہندوستانی کون ہے؟، کیا صرف بی جے پی ورکر؟۔
دفعہ 370
 پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جب بھی بی جے پی کے وزیر کشمیر دورے پر آئے ، تو انہوں نے دفعہ370 کو منسوخ کرنے کی بات کی۔محبوبہ نے کہا’’بی جے پی کے وزرا یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ دفعہ 370 کو دفن کردیا گیا ہے لہٰذا ، اگر تمام معاملات حل ہوچکے ہیں ، تو پھر بھی کشمیر میں 9 لاکھ فوجی کیوں تعینات ہے، انہیں سرحدوں پر کیوں نہیں بھیجا جاتا‘‘۔

سبھی ملک دشمن

 بھاجپا کے ہندوستان میں جمہوریت کیلئے کوئی بھی جگہ موجود نہیں ہے۔انکا کہنا تھا ’’جو بھی بی جے پی کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، اسے ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے اور اسے UAPAکے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔

ڈی ڈی سی انتخابات

پی ڈی پی صدر نے کہا کہ گپکار اتحاد کے امیدواروں کو اپنے گھروں تک محدود کردیا گیا ہے، انہیں سیکورٹی فراہم نہیں کی جارہی ہے اور انہیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ بی جے پی امیدوار آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں۔ یوں ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے نام پر جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے۔پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی اپنی مرضی سے انتخابی امور کا انتظام کررہی ہے۔بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ضابطہ اخلاق لاگو ہے توسرینگر میونسپل کارپوریشن میں میئر کے ا نتخابات کیسے ہوئے؟۔ انہوں نے کہا کہ وہ (بی جے پی) خود جمہوریت قتل کررہی ہے،اور یہ حقیقی آمریت ہے ۔

روشنی گھوٹالہ

 محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ کوئی سکینڈل نہیں بلکہ غریبوں کیلئے ایک سکیم تھی جسے سیکنڈل بنایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا’’ اگر بی جے پی اراضی پر قبضہ کے معاملے پر اتنی سنجیدہ ہے تو اسے بڑی مچھلیوں کا تعاقب کرنا چاہیے ، ان غریبوںکا نہیں جن کے پاس 5 مرلہ زمین بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ،غریبوں کو نوٹس بھیجے جاتے ہیں۔