تازہ ترین

دردکے گاؤں میں

افسانہ

تاریخ    29 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


شبنم بنتِ رشید
موسم جاڑے کا چل رہا تھا۔رات کو شدید برفباری ہوئی تھی ۔ صبح کے آٹھ بجے بابا کوفون آیا۔ بابا لمبی سیڑھی کندھے پر اور ہاتھ میں پلاس لےکر مسکراکر  لنگڑاتے ہوئے چل پڑے۔ شام کے وقت بابا کا فون آیا کہ شاید آج مجھے آنے میں دیر ہوجائے گی کیونکہ مرمت کا کام زیادہ ہے اسلئے میں آج رات سٹیشن پر ہی رکوں گا۔ آپ لوگ میرا انتظار نہ کرنا۔ آج تک کبھی میری ہمت نہ ہوئی تھی کہ میں امی سے پوچھ لیتی کہ بابا کو چلنے میں دقت کیوں پیش آتی ہے؟ آج موقع غنیمت جان کر میں نےامی سے پوچھ لینے کا فیصلہ کر ہی لیا ۔ رات کےکھانے سے فارغ ہوتے ہی میں نے امی سے پوچھا کہ امی آپ مجھے بتائیں کہ بابا کو کوئی پیدائشی دقّت تھی یا انکے ساتھ کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تھا؟
امی نے ایک گہری سانس لیکر آہ بھری اور کہا میری بچی یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ کسی دن فرصت سے سناؤں گی۔ نہیں امی مجھے بتائیں نا، میری پیاری امی۔ میں ایک بچے کی طرح ضد پر اُتر آئی۔ امی مجبور ہوئی تو اس نے اپنی کہانی یوں شروع کردی۔ 
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم خود کو بڑے خوش نصیب سمجھتے تھے۔ تب تمہارے بابا بالکل ایک فلمی ہیرو کی طرح لگتے تھے۔ اللہ تعلیٰ نے صورت ہی ایسی عطا کی تھی کہ یار دوست اور جان پہچان والے اُسے پٹھان کے نام سے بُلاتے تھے۔ کہنے کو تو اسلم ایک آسودہ حال گھر کے وارث تھے۔ گاؤں میں ہماری بڑی زمینداری تھی۔ سرخ اینٹوں کا ٹین پوش چار منزلہ گھر تھا۔ جس کے کمرے بڑے بڑے روشن اور دیواریں رنگین تھیں۔ ہر کمرے میں قیمتی فرش تھا۔ کئی غسل خانے بھی تھے، جو آسودہ حالی کی داستان بیان کررہے تھے۔ اسلم اپنے ابا کے ساتھ اپنے ہی گھر کا کاروبار سنبھالتے تھے ۔ گھر کا ماحول بھی اچھا تھا۔ پورے گاؤں میں سب سے زیادہ خوشحال اور اچھا گھر مانا جاتا تھا، اسلئے گاؤں  میں ہماری بڑی عزت تھی ۔ اسلم اپنی لاڑلی چھوٹی بہن روحی کی شادی دھوم دھام سے کرنےاور اپنے گھر کے کاروبار کو وسعت دینے کےخواب دیکھ رہے تھے۔
اکثر ماں، تمہاری دادی ، اکثر کہتی تھی کہ اس گھر میں صرف ایک پوتے کی کمی ہے، وہ پوری ہوجاے تو پھر ہم سب ملکر حج بیت اللہ پر چلیں جائیں گے۔ لیکن اسلم ماں کو ہرباریہ بات کرنے سے منع کرتے اور سمجھاتے تھے کہ ماں یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ وہ اپنے لئے اولاد چن لے۔ اولاد تو اولاد ہوتی ہے ۔ بیٹا ہو یا بیٹیوی، اپنے ساتھ ڈھیر ساری خوشیاں، برکتیں اور رحمتیں لاتا ہے ۔ انہیں محبت سے گلے لگانا چاہیے۔ اسلم کے ابا گھر کے کسی معاملے میں کچھ بھی نہیں بولتے تھے  شاید انہوں نے اپنے بولنے کا اختیار بھی ماں کو دیا تھا۔ 
کچھ عرصہ بعد روحی کی شادی بڑے دھوم دھام سے ہوئی۔ شادی میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہ رکھی گئی۔ لوگ اس شادی کی مثال دینے لگے۔ لڑکیاں تو شادی ہوتے ہی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجاتیں ہیں لیکن روحی اپنی بزرگ ساس کو اکیلے سسرال میں چھوڑ کر اپنے شوہر جنید کے ساتھ آکر مہینوں میکے میں بیٹھ جاتی تھی۔ ہم انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے ۔ ہم ان دونوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ اسلم ایک شریف نفس انسان تھے۔ اسے کھرے کھوٹے کی بالکل سمجھ نہ تھی۔ میں شروع سے ہی انسان کی نبض پہچانے میں ماہر تھی، اسلئے مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ گھر میں ضرورکچھ گل کھلنے والے ہیں۔ کیونکہ لاڈلے داماد کی تو پہلے دن سے لاٹری لگ گئی تھی۔ اسکے من میں  کھچڑی پک رہی تھی ۔ میری بچی! تمہاری پیدائش سے میری اور اسلم کی آنکھیں روشن ہوئیں۔ میں اور اسلم پانچ وقت نمازوں کے ساتھ نفل پڑھنے لگے لیکن ہم دونوں کبھی کھل کر تمہاری خوشی آپس میں بانٹ نہ سکے ، تمہیں کھل کرپیار محبت دے نہ سکے کیونکہ ماں کو تمہاری پیدائش ناگوار گزری تو اسکے ماتھے پر بل پڑنے شروع ہو گئے ۔ تمہاری پیدائش کی خوشیاں بانٹنا ، کوئی اچھا سا نام چننے میں شامل ہونا یاپھر تمہارے عقیقے  کا ذکر کرنا تو دور کی بات اس نے تمہاری طرف نظر بھر کے کبھی دیکھا بھی نہیں ۔ سوچا کہ گزرتے وقت کے ساتھ تمہاری معصوم مسکراہٹ،  پاکیزہ صورت دیکھ کر یا تمہاری میٹھی کلکاریاں سن کر اسکی سوچ خودبہ خود بدل جائیے گی ۔ لیکن یہ ہماری بھول تھی۔ وہ تمہیں دیکھتے ہی ہمیشہ اپنی نظریں پھیر لیتی تھیں۔ انکی بے رخی کی وجہ سے گھر میں ایک عجیب تناو سا آگیا۔ وقت مشکلی سے کٹنے لگا۔ اسلم ماں کی بے رخی دیکھ کر بہت دکھی ہوتے تھے۔ آہستہ آہستہ ماں کا رویہ ہمارے لیے بڑا رنج بن گیا۔ ہم دونوں اپنے آنسوں اپنے اندر ہی جذب کرتے رہی۔
تقریبا چھ مہینے کا وقت اسی طرح کٹ گیا۔ ایک دن ماں نے بڑی زیادتی کی بات کہہ دی۔ دوپہر کے کھانے کے دوران ماں نے باتوں ہی باتوں میں بتایا کہ ہمیں ایسی لڑکی کو بہو بنانا ہی نہیں چاہئے تھا جو میرے جیتے جی گھر کو ایک وارث نہ دے سکے۔ سسرال میں اسی بہو کی عزت کی جاتی ہے جسکی گود میں بیٹا پل رہاہو۔اس دن میں کھل کے روئی لیکن اسلم نے ایک بار پھر ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ماں تمہیں کیا ہوا، تمہاری سوچ کہاں کھوگئی ۔ تم تو خود ایک بیٹی کی ماں ہو۔ کیا تمہیں سسرال والوں سےعزت نہ ملی ؟ کیا بیٹیاں اولاد نہیں ہوتیں؟ کیا وہ وارث نہیں ہوتی؟ یہ دنیا بیٹیوں کے بغیر آگے چل سکتی ہے کیا؟ ماں ہمیں بیٹی کو کمتر نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اسے پیار سے، محبت سے اور عزت سے گلے لگاکر اُسے پڑھا لکھا کر اسکے اچھے نصیب کی دعا کرنی چاہیے۔ اس واقعہ کے بعد ہمارے خلاف گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر نئے قصے اور کہانیاں جڑنے لگیں۔ ہر صبح جلتی سلگتی باتوں سے ہمارا استقبال کیا جانے لگا۔ اس دن سے ماں بیٹے کے رشتے میں ہلکی سی دراڑ پڑنے لگی۔ میں اسلم کی ماں سے  اپنی ماں کی طرح محبت کرتی تھی لیکن ماں میری بیٹی کی پیدائش سے خوش نہ تھی اور یہ بات میرے لئے مصیبت بن گئی ۔ پھر بھی میں برداشت کرتی رہی۔ بہت کچھ نظر انداز کرتی رہی۔ انکی خدمت کرتی رہی، اس توقع کے ساتھ کہ کبھی نہ کبھی ماں کے روئے میں ضرور بدلاو آئے گا۔ جب صبر کی انتہا ہوگئی اور اپنے ہی گھر میں دکھوں اور تکلیفوں کو برداشت کرنا محال ہو گیا تو اسلم نے اپنا ہی گھر چھوڑنے کا فیصلہ سنادیا۔ اس نے کہا کہ میں بڑا مجبور  ہوں ماں کا معاملہ ہے ۔ روز روز اسکے منہ لگنے کی شرمندگی سہنے سے بہتر ہے کہ گھر کو ہی چھوڑ دیا جائے ۔ میں نے اسلم سے پوچھا کہ ہم اس ننھی سی جان کو لے کر کہاں جائیں گے؟ جہاں ہمیں تھوڑا سا سکون ملے وہاں چلے جائیں گے۔ جہاں ہم کھل کر عزت اور محبت سے اس معصوم کی پرورش کرسکیں۔ اسکی تعلیم و تربیت کرسکیں، جو اس کا حق ہے ۔ یہ سب اس گھر میں ممکن نہیں، اسلئے ہم اس گھر سے دور چلے جائیں گے۔ صرف اور صرف اپنی بیٹی کی خاطر ۔ یہ کوئی جرم نہیں۔ اگر بیٹی کو جنم دینا ماں کا گناہ ہے تو اسکی سزا کا حقدار باپ بھی ہے۔اسلم نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔جب گھر کے افراد کی سوچ میں اختلاف آجائے تو گھر بکھرنے میں دیر نہیں لگتی ۔ میری بچی! میں بھی کیا کرتی۔ میں بھی مجبور تھی کیونکہ اسلم بھی ہماری خاطر اپنی ماں کو سمجھاتے سمجھاتے تھک چکے تھے ۔ ایک بار پھر میں نے اسے سمجھنانے کی کوشش کی کہ اگر ہم گھر چھوڑ کر چلے جائیں گے تو ہماری اور ہمارے گھر کی بدنامی ہوگی ۔ ہم سماج کو کیا منہ دکھائیں گے؟  لیکن اب اسلم گھر میں رہنا نہیں چاہتے تھے ۔ میرے سمجھانے سے اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ کوشش کے باوجود میں اُسے روک نہ پائی ۔
گھر سے نکل کر الگ رہنے کا میرا کوئی ارادہ تھا نہ اس معاملے میں میرا کوئی ہاتھ  تھا اور نا ہی میری کوئی ایسی تربیت ہوئی تھی بلکہ میں تو مل جل کر رہنے کی قائل تھی پھر بھی شہر میں اونٹ بدنام، بہو جو ٹھہری ۔ ہر زبان پر میرا ہی نام آیا ۔ اصلی بات سے تو دنیا ناواقف تھی۔
اپنے شوہر کو سمجھانا اور اسکے فیصلے کی لاج رکھنا میرا فرض تھا ۔ سو میں نے دونوں فرض نبھائے لیکن اولاد کی محبت دنیا کی ہر محبت پر باری پڑ جاتی ہے ۔ فیصلہ صحیح ہوا یا غلط، میں سمجھ نہ پائی لیکن گھر سے نکلنےسے دو دن پہلےمیں نے ماں کو بتایا تھا کہ وہ اسلم کو گھر سے نکلتے  وقت روکے لیکن اس نے اسلم کو روکنے کے بجائے  دو ٹوک لفظوں میں کہا " جائو جائو میں بھی دیکھ لوں گی ان کم بختوں کو لے کر گھر سے باہر کتنے دن رہ پائو گے"۔ پتہ نہیں ماں اتنی سخت گیر کیوں ہوئی میں آج تک سمجھ نہ پائی ۔؟ 
بہت سارے لوگ اپنی آنکھوں میں ڈھیر  سارے سپنے سجاکر انہیں پورا کرنے کے لئے شہر چلے جاتے ہیں ۔ کئی لوگ اپنا گائوں اپنا گھر اسلئے چھوڑ کر شہر چلے جاتے ہیں کہ انہیں شہر کی آسائشوں کا فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ تو بڑے افسر بن جاتے ہیں پھر انہیں لگتا ہے کہ اب اُنکا گائوں انکے رہنے کے لائق نہ رہا تو وہ بھی شہر چلے جاتے ہیں ۔ لیکن کئی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی دو وقت کی روٹی کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے زخموں کا مرہم ڈھونڈنے شہر چلے جاتے ہیں ۔
میری بچی!  تب میری نیند آنکھوں سے غائب ہوئی جب اسلم نے بتایا کہ ہم شہر چلے جائیں گے ۔ مجھے شہر اور شہر والوں سے بڑا ڈر لگ رہا تھا ۔ سنا تھا شہر تو گاؤں سے بہتر ہی ہوتا ہے اور شہر میں تجارت سمیت ہر چیز میں برکت ہوتی ہے لیکن یہ بھی سنا تھا کہ شہر والے بڑے بے درد اور بے مروت  لوگ ہوتے ہیں ۔ اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں ۔ لیکن میری بچی شہر پہنچ کر جان پائی کہ اصل میں شہر والے بڑے ہمدرد اور اچھے انسان ہونے ساتھ ساتھ قناعت پسند اور دور اندیش بھی ہوتے ہیں ۔ شہر کا دکبھی بڑا وسیع ہوتا ہے ۔ اورہر کسی کو اپنے دامن میں پناہ دیتا ہے ۔ کوئی بھی انسان کسی بھی مقصد سے آجائے ۔ کون انسان کیسا ہے؟ بغیر سوال کئے شہر اور شہر والے  اسے خاموشی کے ساتھ  قبولتے ہیں ۔
ہم دونوں انجان اور بے بس تھے ۔  گھر سے باہر زندگی کا تجربہ نہ تھا۔ جیب پہ ہاتھ رکھا تو جیب خالی تھی ۔ زندگی کا سفر صفر سے شروع کرنا تھا۔ اسلم مٹی،  گارے اور پتھروں کی مزدوری سے ناواقف تھے ۔ ہماری خاطر دن بھر شہر کی گلیوں، کوچوں اور چوراہوں پر چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچ کر مشکل سے دو وقت کی روٹی کمانے لگے ۔ وہ چیزیں مکان مالک کے کہنے پر کسی دوکاندار سے کمیشن پر ملتی تھیں۔ کسی دن چیزیں بکتی تھیں۔ تو کسی دن بہونی بھی نصیب نہ بھوتی تھی ۔ کبھی کبھی انسان بڑا مجبور ہو تا ہے، اتنا مجبور کہ ہر طرف دھند ہی دھند نظر آتی ہے۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں ہمارا اُٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا اور کھانا پینا اور پکانا بھی ہوتا تھا۔ ہر طرف مہنگائی کا بول بالا تھا۔ میں بازار جا کرضروریات زندگی کی چیزوں کے ساتھ ساتھ سستےداموں پر  سبزیاں ترکاریاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لانے لگی۔ میری بچی! زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ایک دن میں کئی کئی خرچے نکل آتے تھے۔ زندگی کا تقاضہ ہے کہ پیٹ کے ساتھ ساتھ گھر کی بھرپائی بھی بہت ضروری ہوتی ہے ۔ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑیگا، کبھی سوچا نہ تھا ۔
شہر میں جان پہچان بڑھ گئی تو ایک دن کسی صاحب کی سفارش پر بغیر تحفظ اور تربیت کے اسلم کو محکمہ بجلی میں ایک عارضی لائن مین کی نوکری پر تعینات کیا گیا ۔ میں اس نوکری سے بالکل مطمئن نہ تھی کیونکہ میں نے خود اپنی زندگی کے چھوٹے سے صفر میں محکمے کی لاپرواہی کی وجہ سے کئی قیمتی جانوں کو ضائع ہوتے اور انکے گھروں کو اجڑتے دیکھا تھا لیکن میری بچی اسلم کا ماننا تھا کہ باہر سڑکوں پر گرمی اور سردی میں دھکے ، مکے کھانے سے بہتر یہ نوکری ہے۔ 
جوائن کئے ہوئے کچھ ہی مہینے گزرے تھے کہ کھمبے سے لگی سیڑھی سے اترتے اترتے گر گئے ۔ شکر ہے کہ جان بچ گئی۔ لیکن ٹانگ کی ہڈی پوری طرح ٹوٹ گئی ۔ ہاتھ میں پیسہ نہ ہو نے کی وجہ سے نیم حکیموں سے علاج کروایا جس وجہ سے ٹانگ کی ہڈی صحیح جگہ جڑ نہ سکی۔ طبیعت سنبھل گئی تو ایک بار پھر نکل پڑے نئے جوش اور ولولے کے ساتھ زندگی کی پر خطر راہوں پر۔
تمہارا داخلہ ایک مناسب سے اسکول میں کراکے میں نے اسلم سے کہا کہ میں بھی اب کچھ کام کرلوں تاکہ ہماری زندگی کا سفر تھوڑا آسان ہو جائے ۔ لیکن اس نے یہ کہ کر بالکل منع کردیا کہ ایک بیٹی کی پرورش  اور تربیت ایک ماں کے لئے دنیا کا سب سے عظیم اور ذمہ داری کا کام ہے ۔ میری بچی! زندگی کی دوڑ میں اکثر معاملوں میں ہم بہت پیچھے رہے۔ تمہیں کھیلنے کے لئے اپنا آنگن اور کھلونے نہ دے سکے۔ حالات سے سمجھوتہ کرتے رہے لیکن تمہاری پڑھائی اور پرورش سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔
اسلم کو چین نہ آتا تھا۔ ہر عید کے علاوہ سال میں کئی بار اس درد کے گاؤں ضروری جاتے تھے ۔ وہاں سے آکر ہفتوں تک بڑے دکھی رہتے تھے ۔ درد کے گاؤں میں ماں باپ کے بڑھاپے کے ساتھ ساتھ گھر کا کاروبار اور زمین سکڑتی جارہی تھی۔ گھر کے کونوں کھدروں پر جالے چڑھ گئے تھے اور کمروں کو تالے لگ چکے تھے۔ دیواریں خستہ ہو چکی تھیں۔
شروع سے اسلم کو اپنی بہن روحی سے اُمیدیں تھیں لیکن اُس نے اور اسکے شوہر جنید نے ہمارے گھر سے نکلتے ہی گھر میں اپنا ڈھیرا جمالیا تھا۔ جنید کو نہ گھر کی سالمیت سے مطلب تھا نہ ساس سسر کے آنے والے بڑھاپے سے اور نا ہی ہماری ذات سے کوئی دلچسپی۔ اسلئے اس نے ہمارے پیٹھ پیچھے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ جس سے دلوں کے فاصلے گھٹنے کے بجائے بڑھتے گئے۔ ہم بغیر جرم کے مجرم بن گئے ورنہ تو ہر گھر میں ناراضگیاں اور چھوٹے بڑے مسائل ہوتے رہتے ہیں۔
میری بچی! مجھے نہ دولت کا غم ہے اور نا ہی کسی بات کا ملال کیونکہ تقدیر نے ہمارا ساتھ دیا۔ وقت نے بھی بہت کچھ سکھادیا۔ لوگ تو اپنے بچوں کی ڈگریاں دولت سے خریدتے ہیں لیکن تم نےتو اپنے بابا کے فیصلے کی لاج رکھ کر خود کو ثابت کردیا، جب ایک سال پہلے ہر سال کی طرح یونیورسٹی سے بھی تمہارا شاندار رزلٹ آتےہی تم ایک اچھے پوسٹ پر فائزبھی ہوئی ۔پھر بھی میرا دل اس بات پر ضرور دُکھتا ہے کہ کٹتے کٹتے ہم سب کی  عمر کا بہت سارا قیمتی حصہ تو کٹ گیا لیکن ہم اصل زندگی جس کو کہتے ہیں وہ جی نہ سکے کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ جو اپنوں کے بغیر گزرجاے وہ عمر ہوتی ہے اور جو اپنوں کے ساتھ گزر جائے اُسی کو زندگی کہتے ہیں ۔ میں آنکھیں بند کر کے امی کی آغوش میں سما گئی ۔ اسی کے ساتھ چاروں طرف اذانِ فجر کی میٹھی آواز فضا میں گونجنے لگی۔
���
پہلگام اننت ناگ 
فون نمبر؛ 9419038028