انتہا پسندوں کی معاونت کاالزام

پی ڈی پی یوتھ صدر این آئی اے کے ذریعے گرفتار

تاریخ    26 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// پی ڈی پی یوتھ صدر وحید الرحمان پرہ کوقومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے پولیس کے معطل ڈی ایس پی دیوندر سنگھ انتہا پسندی کیس کے سلسلے میں نئی دہلی میں2روزہ پوچھ تاچھ کے بعد بدھ کوکو گرفتار کرلیا۔’این آئی اے ‘ نے وحید پرہ کو پوچھ تاچھ کیلئے دہلی طلب کیا تھا اوردلی میں قائم صدر دفتر پر گذشتہ دو روز سے وحیدپرہ کی پوچھ تاچھ ہورہی تھی۔یہ پوچھ تاچھ سابق ڈی ایس پی دیوندر سنگھ اور حزب کمانڈر نوید بابوکے کیس کے سلسلے میں کی جارہی تھی۔ تیسرے دن کی پوچھ تاچھ کے بعد پرہ کو باضابطہ گرفتار کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وحید پرہ کا نام معطل ڈی ایس پی دیوندر اور حزب کماندر نوید بابو کیس کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا،جبکہ ان پر حزب سرگرمیوں کی مبینہ معاونت کرنے کا الزام ہے۔ وحید الرحمان پرہ نے20نومبر کو جنوبی کشمیر سے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کیلئے بطور امیدوار کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے۔
 

محبوبہ مفتی برہم

بلیک میل کرنے کاعمل قرار دیا

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے وحید پرہ کی گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔انہوں نے اس ضمن میں سلسلہ وار ٹویٹس کیں اور ایک ٹویٹ ویڈیو کیساتھ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو بھی ٹیگ کی ۔ سماجی رابطہ گاہ پرایک ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا ’’ جموں و کشمیر میں اگست2019 کے بعد سے گجرات ماڈل کے تحت مسلمانوں کے خلاف قانونی کاروائی کا سلسلہ جاری ہے،یہ نیا کشمیر ہے ،وہ چاہتے ہیں کہ ہم اس میں رہیں‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ نے ایک اور ٹویٹ میں موجودہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ایک ویڈ یو کا اشتراک کیا جس میں راج ناتھ سنگھ کو وحید پرہ کی تعریف کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ۔محبوبہ مفتی نے یہ ٹویٹ راج ناتھ سنگھ کو بھی ٹیگ کی ۔ اس ٹویٹ میں کہا گیاہے،’’ سابق وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پی ڈی پی کے وحید پرہ کی جموں کشمیر میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے زبردست سراہنا کی،اور انہیں این آئی ائے نے آج(بدھ) کو بے بنیاد الزام میں گرفتار کیا‘‘۔ محبوبہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے کہ انہوں(پرہ) نے20نومبر کو ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کئے اور اس کے آئندہ روز این آئی ائے نے انہیں طلب کیا۔ایک اور ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا ’’وحید کا اس شخص کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور اس پر جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے۔ صرف جموں و کشمیر میں پی ڈ ی پی اور دیگر مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو بلیک میل کرنے اور دھمکانے کے لئے سب کچھ کیا جارہا ہے‘‘۔ پی ڈی پی صدر نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ بھاجپا کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا ہر کوئی جانتا ہے کہ دیوندر سنگھ کس کے کہنے پر کام کرتا تھا۔محبوبہ مفتی نے کہا ’’بی جے پی نے ملک کے ہر گوشے میں آرٹیکل370 کو غیرقانونی طور پر ختم کر نے کا ڈنڈوررا پیٹا، لیکن جب بات کشمیریوں پر آتی ہے تو جو اس کے خاتمے پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہیں بند کردیا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ دیویندر سنگھ کس کے کہنے پر کام کیا کرتاتھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں‘‘۔ایک اور ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے لکھا ’ ’میں ذاتی طور پر وحید کی ایمانداری ، دیانت اور کردار کی ضمانت دے سکتی ہوں۔ اب یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہاں انصاف کی فراہمی اور اس کی جلد ازجلد رہائی کو یقینی بنانا ہے۔‘‘
 

تازہ ترین