روشنی اسکیم اوراراضی تجاوزات

نیشنل کانفرنس نے الزامات کو بے بنیادقراردیا

تاریخ    26 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے جموں میں اراضی تجاوزات اورروشنی اسکیم کے تحت غیرقانونی فائدہ اُٹھانے والوں کے حوالے سے پارٹی،پارٹی صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ اورنائب صدرعمرعبداللہ کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کاشدید نوٹس لیتے ہوئے انہیں بے بنیاداور من گھڑت قرار دیا ہے۔ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ مذکورہ اراضی سے متعلق سوالات کامناسب طور پرجب بھی اورجہاں بھی متعلقہ حکام کے ذریعہ ایساکرنے کیلئے کہاجائے گا،جواب دیا جائے گا۔پارٹی نے بیان میں وضاحت کی ہے کہ جموںجس اراضی پرڈاکٹر فاروق عبداللہ کارہائشی مکان تعمیر ہواہے ،اس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تجاوزات کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اوران کویکسرمستردکیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس زمین کا روشنی اسکیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔  ان الزامات کی بد نیتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمر عبداللہ اس زمین کے مالک نہیں ہیں ،وہ سرینگر کی طرح جموں میں بھی اپنے والد کیساتھ رہتے ہیں۔ انتقام گیری کے جنون کی حد یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں عمر عبداللہ کا نام بھی شامل کیا گیا۔ درحقیقت ضلع ترقیاتی کونسل، پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات جاری ہیں جس سے خود بھی ان بے بنیاد الزامات کے اصل محرکات ، پہلوئوں،مقاصد اور وقت کی عکاسی ہوتی ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ جہاں تک سرینگر اور جموں میں پارٹی دفاتر کے احاطوں کا تعلق ہے ، یہ دونوں جگہیں لمبے عرصے سے باضابطہ لیز کے تحت پارٹی کے زیر قبضہ تھیں اور جب روشنی سکیم کا اعلان ہوا ،تو پارٹی نے بھی اس سکیم کا فائدہ اُٹھایا تھا۔ لیکن کسی بھی فائدہ اُٹھانے والے (بشمول پارٹی) کو سماعت کا موقعہ دیئے بغیر اس ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔ ہمارے یہاں ہزاروں شہری ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا، ان سب پر اب اپنی گھر گرہستی اور جائیدادوں سے محروم ہونے کا سایہ منڈلا رہا ہے جبکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ انتظامیہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے غیر معمولی جلد بازی کے انداز میں فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ دہلی ، گجرات اور مہاراشٹر سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے زمین کے تبادلوں کے اقدامات کئے گئے لیکن جموں و کشمیر میں اسی قانون سازی کو غیر آئینی قرار دے دیا گیا اور انتظامیہ نے اس بارے میں کچھ نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ پارٹی نے اس سلسلے میں ضروری قانونی مشورے طلب کئے ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے مناسب قانونی اقدامات کریگی۔ 
 

تازہ ترین