معذورین کے عالمی دن کو بطور یوم سیاہ منانے کا فیصلہ

۔3دسمبر کوجسمانی طور خاص افراد کاپریس کالونی میں احتجاج کااعلان

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// جسمانی طور پرخاص افراد نے سرکار کو الٹی میٹم دیا کہ اگر انکے مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تو3دسمبر کو وہ پریس کالونی میں احتجاج کریں گے اور معذورین کے عالمی دن کو بطور یوم سیاہ منائیں گے ۔ ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبدارشید بٹ نے کہا کہ عالمی یوم معذورین کے موقعہ پر ایسو سی ایشن کی طرف سے پریس کالونی سرینگر میں ایک پرامن احتجاج کیا جائے گا اور اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا ۔جسمانی طور خاص افراد کی انجمن جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں مرکزی سرکار اورجموں و کشمیر کی ایل جی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا گیاکہ ڈسبلٹی ایکٹ مجریہ2016 کو جلداز جلد جموں وکشمیر میں لاگو کیا جائے اور باقی مسائل کو بھی حل کرنے کی طرف توجہ دی جائے کیونکہ جموں کشمیر اب ایک مرکزی علاقہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بر سوں سے لگاتار حکومتیں جسمانی طور پر معذور افراد کے لئے کوئی بھی فلاحی اقدامات کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ 2017 میں اس وقت کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے ایک اعلیٰ سطحیٰ میٹنگ کی تھی جبکہ اسی طرح کی میٹنگ اس وقت کے گورنر این این وہرانے بھی بلائی تھی اور محکمہ شوشل ویلفیئر کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ جلد از جلد جموں کشمیر کے جسمانی طور معذور لوگوں کے تمام مسائل کو فاسٹریک بنیادوں پر حل کریں جبکہ جسمانی طور نا خیز لوگوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے دور حکومت میں ہی جسمانی طور پر معذور افراد کے مطالبات پر پوری طرح توجہ دی جائے گی تاہم آج تک انکے مسائل کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ عبدالرشید بٹ نے مزید بتایا اس کے بعد بھی وہ30 دسمبر 2019 کو لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو اور 5 مارچ 2020 کو مرکزی وزیرر برائے سماجی انصاف تھاور چند گہلوت سے بھی ملے ہیں اور ان دونوں کو بھی میمورنڈم پیش کیا،جبکہ ا نھوں نے بھی یقین دہانی کروائی مگر آج تک زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسی پر بس نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد بھی وہ موجودہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکو پانچ بار تحریری طور پر خطہ لکھا ہے کہ انہیں پانچ منٹ کا وقت دیا جائے تاکہ ہم ان کوجموں و کشمیرکے لاکھوں جسمانی طور معذور لوگوںکو درپیش مشکلات اور مسائل کی جانکاری دیںتاہم بدقسمتی کی وجہ سے ہمیں آج تک وقت نہیں دیا گیا ہے۔
 

تازہ ترین