تازہ ترین

جموں کشمیرمیں بجلی کی پیداوار گھٹ کر408میگاواٹ

۔81فیصد برقی رو درآمد،2134میگاواٹ کی مانگ

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


مکیت اکملی
سرینگر//وادی میں مسلسل خشک سالی کی وجہ سے دریائوں میں پانی کی سطح کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوارمیں زبردست کمی ہوئی ہے اور یہ صرف408میگاواٹ ہونے کی وجہ سے مرکزی زیرانتظام علاقہ جموں کشمیر کوبجلی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے باہر سے برقی رودرآمدکرنی پڑتی ہے ۔کشمیرعظمیٰ کے پاس اعدادوشمار کے مطابق 20نومبردن کے دوبجے تک جموں کشمیرباہر کی کمپنیوں سے 81فیصد یعنی 1726 میگاواٹ بجلی درآمد کرتا تھا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیرمیں بجلی کی مانگ2134میگاواٹ ہے جس میں کشمیر میں 1430 میگاواٹ اورجموں خطے میں704میگاواٹ شامل ہیں ۔تاہم سرکاری اعداوشمار کے مطابق جموں کشمیرکے ملکیتی اورنیشنل ہائیڈروالیکٹرک پاور کارپوریشن کے بجلی گھروں سے صرف 408 میگاواٹ بجلی اس وقت پیداہوتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اوڑی ۔اول پروجیکٹ صرف 83میگاواٹ بجلی پیداکررہا ہے جبکہ اوڑی ۔دوم بھی83میگاواٹ بجلی ہی پیدا کرتا ہے۔اعداوشمار کے مطابق بغلیہار پروجیکٹ سے150میگاواٹ،سلال پروجیکٹ سے صرف 33 میگاواٹ بجلی پیداہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈول ہستی ،سیوااورکشن گنگا پروجیکٹوں سے اس وقت کوئی بجلی پیدا نہیں ہوتی۔ جموں کشمیر کے ملکیتی لورجہلم ہائیڈل پروجیکٹ اور اپرسندھ ہائیڈل پروجیکٹ اول اور دوم کل ملا کر59میگاواٹ بجلی پیداکرتے ہیں ۔
کشمیرپاورڈیولمپنٹ کارپوریشن حکام کے مطابق کشمیرمیں بجلی کی طلب2200میگاواٹ ہے اورموسم سرما میں بجلی کی کٹوتی کاسبب بھی بجلی کی حددرجہ مانگ ہے ۔باہر سے بجلی درآمد کرنا بھی جموں کشمیرکی مالی صحت کیلئے ضرررساں ہے۔چیف انجینئر  اعجاز احمد ڈار نے کہا ہے کہ امسال کشمیر میں بارش کم ہونے کی وجہ سے ’’لوور جہلم پاور پروجیکٹز‘‘ سے پیدا ہونے والی بجلی میں کافی کمی آئی، کشمیر میں امسال ہم 90فیصد بجلی برآمد کررہے ہیں جبکہ ضرورت 2200میگاواٹ کی ہے، ہم بجلی کے کٹوتی شیڈول کو لاگو کرنے پر مجبور ہیں،اگر لوگ محتاط طریقے سے  بجلی استعمال کریں گے تو ہم بجلی کی کٹوتی شیڈول میں کمی کرسکتے ہیں۔سرکاری رپو رٹ میں اس پات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں بجلی کی مانگ سال 2020-21تک 19500ملین یونٹ تک پہنچ جائے گی، اگر چہ متواتر طور پر موسم میں تبدیلی آتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی بجلی کی پیداوار پر اثر پڑے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں 20ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن ابتک صرف 16ہزار480میگاواٹ کی نشاندہی ہوچکی ہے جس کی بڑی وجہ محدود وسائل ہے۔رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ نشاندہی شدہ بجلی صلاحیت میں سے صرف15فیصد یعنی 2457.96میگاواٹ کو قابل استعمال بنایا گیا ہے جن میں صرف760.46میگاواٹ بجلی ریاستی پروجیکٹوں سے آتی ہے۔اراضی کے اعتبار سے جموں و کشمیر سے نصف رقبے کا ہماچل پر دیش ،جموں و کشمیرسے بجلی کی پیداوار سے آگے نکل چکا ہے۔ جموں و کشمیر کے 3263میگاواٹ کے مقابلے میں ہماچل پردیش 6370میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ جموں و کشمیر میں سرکار اس کیلئے ’’شورش اور غیر یقینیت ‘‘ کو قرار دے رہی ہے جس کی وجہ سے ریاست ترقیاتی منصوبوں میں پچھڑ چکی ہے۔