تازہ ترین

کپوارہ کے جنگلات کئی روز سے آگ کی لپیٹ میں | جنگل اسمگلر سرسبزدرختوں کا تہہ تیغ کرنے میں مصروف،محکمہ خواب غفلت میں

تاریخ    10 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشرف چراغ
کپوارہ//جنگلات ہماراقومی سرمایہ ہے اورکپوارہ ضلع میں ایک طرف اس سرمایہ کو لوٹنے میں جہاں جنگل اسمگلر موجودہ کوروناوائرس کی عالمگیروباء کی وجہ سے پیداشدہ حالات کے دوران بھی دن رات سرگرم ہیں ،وہیں دوسری طرف طویل ترین خشک سالی کی وجہ سے ضلع کے متعدد جنگلات میں آئے روزآگ رونما ہوتی ہے اور محکمہ جنگلات کے اہلکار نہ ہی جنگل اسمگلروں کی لگام کسنے کی طرف کوئی توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی ضلع کے جنگلات کوآگ سے بچانے کیلئے ٹھوس کارروائی کرتی ہے۔ضلع کے متعدد جنگلات میں کئی روز سے آگ لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں سرسبز درخت اب تک راکھ کی ڈھیر میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ضلع کی لولاب وادی میں کلا روس سے لیکر دیور علاقہ تک تین مقامات پر جنگل کئی روز سے آگ کی لپیٹ میں ہے ۔وادی لولاب کے لوگو ں کا کہنا ہے دیور جنگلات کے کمپارٹمنٹ 35اور36کئی رو ز سے آگ کی لپیٹ میں ہیں جس نے ابھی تک درجنو ں قد آور درختوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ سینکڑوں پیڑ پودو ں کو راکھ بنا ڈالا ہے تاہم یہ آگ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ مزید تباہی پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے جبکہ آگ پر قابو پانے کے لئے محکمہ جنگلات کے اہلکار ابھی تک ناکام نظر آرہے ہیں ۔اس دوران وادی لولاب کے ہی کلا روس کے ناگسری علاقہ کے کمپارٹمنٹ  108میں بھی گزشتہ کئی روز سے آگ نے جنگلات کے ایک بڑے حصہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ لوگو ں کے مطابق جنگل تو جل رہے ہیں لیکن ابھی تک محکمہ جنگلات کے اہلکار اور فارسٹ پروٹیکشن فورس اس آگ پر قابو پانے کے لئے حرکت تک نہیں کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں لولاب وادی کے متعدد جنگلات آگ کے شعلو ں کی نذر ہو رہے ہیں ۔ضلع میں گزشتہ ایک ماہ سے مختلف جنگلات آگ کے شعلو ں کے نذر ہو گئے ہیں اور اب تک ان جنگلات کو آگ سے کافی نقصان پہنچ چکا ہے ۔ادھر ضلع کے را جواڑ ،کیلگام ،رامحال ،چوکی بل ،لولاب کے بالائی علاقوں میں جنگل سمگلرو ں نے لاک ڈائون کے دوران تعمیراتی لکڑی جنگلات سے برآمد کرکے فروخت کر کے اس قومی سرمایہ کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ۔ضلع کے ان علاقوں سے آئے روز یہ شکایات موصول ہوتی ہیں کہ جنگل سمگلر بے لگام ہوکر جنگلات کا صفایا کر نے میں مصروف عمل ہیں ۔ان علاقوں کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ معاملہ کئی بار محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام کی نو ٹس میں بھی لایاگیا لیکن انہو ں نے ان سمگلرو ں کے خلا ف کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی ۔مقامی لوگو ں کے مطابق جنگل سمگلر راتو ں رات درختو ں کوچیر کر عمارتی لکڑی تیار کرنے کے بعد اُسے آ سانی سے فرو خت کرتے ہیں ۔لوگو ںنے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ جنگلات ہمارا قومی اثاثہ ہے اور اس کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، تاہم جنگلات کے محافظین اپنی ذمہ داریو ں سے دور بھاگ رہے ہیں کیونکہ ایک طرف جنگل سمگلر سرسبز درختوں کا تہہ و تیغ کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ضلع کے متعدد علاقوں میں جنگلات آگ کی لپیٹ میں ہیں ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پربھی حیران ہے کہ آج تک  متعلقہ محکمہ نے جنگلات میںلگی آگ کی کوئی بھی تحقیقات عمل میں نہیں لائی کہ ان جنگلات میں آگ کیسی لگ جاتی ہے اور نا ہی کسی سمگلر کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں لائی گئی جس کی وجہ سے جنگل سمگلرو ں کے حوصلہ مزید بڑھ جاتے ہیں۔لوگوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ جنگلات  اورفاریسٹ پروٹیکشن فورس لوگو ں کے تعاون سے ان جنگلات کی حفاظت کریں ۔