تازہ ترین

تعبیر

کہانی

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


محمد شفیع ایاض
جاڑے کا موسم اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا اور بہار کی آمد آمد کے ساتھ ہر طرف ہریالی نظر آنے لگی تھی۔ لوگ مسجدوں کے حماموں اور اپنے گھروں سے اب باہر نکل کر بازاروں، کھیتوں، کھلیانوں میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ بڑا پُرکشش اور دلفریب منظر تھا۔ فضا میں مہک اور لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی جیسے نئی زندگی کے آثار۔ ہر طرف شادمانی، دُکاندار  دکانوں پر، کاشتکار کھیتوں میں، ملازم اپنے دفتروں میں، مزدور اپنے کارخانوں میں اور بچے اپنے اسکولوں میں۔ سب اپنے اپنے کام میں مشغول۔ اچانک دور سے اُڑتی ہوئی دھول نظر آئی۔
’’سرخ آندھی آرہی ہے۔‘‘ کوئی زور سے چِلایا، سب ہکا بکا رہ گئے۔
’’ہاں۔ یہ تو سرخ آندھی ہے اور اس کا رخ بھی ہماری طرف ہے‘‘ ہوشیار خبردار، ہر طرف چیخ و پکار تھی، سرخ آندھی نے ہر طرف گھیر لیا تھا اور اس میں سے بے شمار بھڑیں نکل آئیں اور انہوں نے سب کو ڈسنا شروع کیا۔ وہ جس کو ڈستے وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا ۔ لوگ بکھر گئے، کچھ ڈر کے مارے بھاگ گئے، کچھ لوگوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ کسی نے ان سنی کی، جن کی آنکھیں کھلی تھیں وہ بینائی سے محروم ہوگئے۔ ہاتھ بے حس اور زبانیں گنگ ہوگئیں۔ پانی لہو لہو ہوگیا۔ لاشوں کے انبار لگ گئے، بے حس و حرکت لوگوں کے کارواں ہر طرف۔ مائیں سینہ کوبی کررہی تھیں اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ پلک جھپکتے سب بدل گیا۔ احساس منجمد اور جذبات… قیامت کا منظر … ایک بھڑ میری طرف بھی آنے لگی۔ جونہی اس نے میرے ماتھے پر ڈنگ مارا، میں چیخ پڑا اور اسی کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے خوفناک خواب دیکھا تھا، میں پسینے میں شرابور تھا اور میرے اندر خوف کے آثار مؤجزن تھے۔ خدا جانے اس کی تعبیر کیا ہوگی، باہر دھیمی دھیمی روشنی پھیل رہی تھی، بستر چھوڑ کر میں نے جوں ہی کھڑکی کھولی تو دیکھا کہ وردی پوش سڑک کے دونوں طرف استادہ تھے۔ اچانک ان میں نے ایک وردی پوش نے ایک پتھر اُٹھا کر میری کھڑکی کی جانب پھینکا جو سیدھے میرے ماتھے پر آلگا۔۔۔ اور ۔۔۔ میں لہو لہان ہوگیا۔
اننت ناگ،ای میل؛commsayaz@gmail.com