تازہ ترین

افغان امن مذاکرات میں سست روی، زلمے خلیل زاد دوبارہ سرگرم

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


واشنگٹن//امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں فریقین کے مابین مذاکرات کی کوششیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔زلمے خلیل زاد کی جانب سے مذاکرات کے عمل کو تیز کرنے کی کوششیں ایسے وقت میں دوبارہ شروع ہوئی ہیں جب مذاکرات میں فریقین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہو رہی۔خلیل زاد اس ہفتے واپس قطر کے شہر دوحہ روانہ ہوئے ہیں جہاں افغان حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیم 12 ستمبر سے مذاکرات میں مصروف ہے۔دوسری جانب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس پر اقوامِ متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔طالبان کے ترجمان محمد نعیم وردک نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اْن کے سیاسی رہنماؤں نے زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی ہے اور اس ملاقات میں افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر بھی موجود تھے۔ترجمان کے مطابق فریقین نے امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے امن عمل میں پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان رہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالنے اور مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزیوں پر بھی گفتگو ہوئی۔امریکہ کی جانب سے اب تک اس ملاقات پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس 29 فروری کو ہونے والے معاہدے کے مطابق امریکہ اور اس کے نیٹو فورسز کے اتحادیوں کو مئی 2021 تک افغانستان چھوڑ دینا ہے۔معاہدے کے مطابق طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا ہوں گے جس کے ذریعے ملک میں جنگ بندی اور شراکت اقتدار کا فارمولا طے کیا جا سکے تھا۔وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ’’پر امید ہیں اور منتظر ہیں‘‘ کہ 19 برس سے جنگ زدہ افغانستان میں یہ امن معاہدہ دور رس امن کا باعث بنے گا۔
 

تازہ ترین